پی آئی اے پر یورپی پابندیوں میں مزید توسیع کا امکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کو ‫یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی نے 30 جون کو پاکستان کی قومی ائر لائن پی آئی اے کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔ یکم جولائی سے 31 دسمبر تک پاکستان ائر لائن پر یورپ بھر میں پابندی لگائی گئی تھی۔ پی آئی اے یورپ کے پانچ اہم اور بڑے شہروں کے لیے پرواز کر رہی تھی۔ یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی پی آئی اے کے اجازت نامے کو اس صورت میں بحال کر سکتا ہے جب وہ پی آئی اے کے اصلاحات کے منصوبے سے مطمئن ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس معطلی میں تین ماہ کی توسیع کر سکتا ہے جس کے بعد اس اجازت نامے کو منسوخ کر دیا جائے گا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان سول ایوی ایشن کے اقدامات سے یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی مطمئن نہیں ہوتی تو پابندی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ پی آئی اے کا اجازت نامہ چھ ماہ کے لیے معطل کیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہونا تھا۔ تاہم پاکستان کی درخواست پر پی آئی اے کو تین جولائی تک آپریشن کی اجازت دے دی گئی۔

یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر مشکوک لائسنس رکھنے والے پائلٹوں کو گراؤنڈ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ 24 جون کو پاکستان کے ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے 860 پائلٹس میں سے 260 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں اور پائلٹس نے دھوکہ دہی سے پاکستانی حکام سے یہ لائسنس حاصل کیے ہیں۔ اس صورتحال میں ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستانی پائلٹس کے لائسنس قابل استعمال نہیں ہیں اور بین الاقوامی سیفٹی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس بارے میں ایاسا کی طرف سے 26 جون کو پی آئی اے سے دریافت کیا گیا۔ لیکن، 28 جون کو جو وضاحت پی آئی اے کی طرف سے بھجوائی گئی وہ ناکافی ہے۔

ائر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے جہازوں کے سکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ یورپی ائر سیفٹی ایجنسی نے پائلٹس کے لائسنس جاری کرنے کے نظام میں اصلاحات لانے کی یقین دہانی مانگی ہے جس میں ’ہیک فری سسٹم‘ بنانے اور غیر ملکی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ یورپی ایجنسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سی اے اے اسٹیٹ سیفٹی پروگرام پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں یورپی یونین ائر سیفٹی ایجنسی نے ڈی جی سی اے اے کو خط لکھ کر فلائٹ اسٹینڈرڈ، ریگولیٹری، ائر وردینس اور لائسنسنگ سے متعلق وضاحتیں طلب کر لی ہیں، سوال نامے میں ائر سیفٹی کے حوالے سے اقدامات کے علاوہ سی اے اے کے دیگر شعبوں سے متعلق تفصیلی سوالات کے جوابات بھی مانگے گئے ہیں۔ ایاسا کی جانب سے فالو اپ پلان کے ضمن میں 12 صفحات پر مبنی سوال نامہ سی اے اے کو موصول ہو گیا ہے، جس کا مقصد سی اے اے کی کیٹیگری ون میں واپسی کے لیے اقدامات، سفارشات پر عمل درآمد پر مبنی فزیبلٹی اسٹڈی اور رپورٹ کی تیاری ہے۔

سی اے اے کو کیٹیگری ون کی حامل دیگر ریجنل ایوی ایشن اتھارٹیز کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے، سوال نامے میں پائلٹس اور دیگر شعبوں کے افراد کو لائسنس اجرا کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات کی فراہمی کا بھی کہا گیا ہے۔ سوال نامے میں لائسنس اجرا سمیت دیگر متعلقہ شعبوں میں کی جانے والی بھرتیوں کے طریقہ کار پر مبنی سوالات بھی شامل ہیں، ایاسا کی جانب سے 2019 میں سی اے اے کے ساتھ دو مختلف اجلاسوں میں دیے گئے سوال ناموں کے جواب بھی طلب کیے گئے ہیں۔

ایاسا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹرک کائی نے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ ’ائرلائن یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس نے سیفٹی مینیجمنٹ کے نظام کے تمام عناصر کا موثر طور پر اطلاق کیا ہے جو شکاگو کنوینشن کے مطابق درکار ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایاسا کو ملنے والی معلومات کے مطابق بدھ 24 جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایک تفتیش کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے آٹھ سو ساٹھ پائلٹس میں سے دو سو ساٹھ سے زیادہ پائلٹس کو جو حکام نے لائسنس جاری کیے ہیں وہ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی درستگی کے بارے میں تشویش ہے۔ ‘

پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کو پابندی کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ پابندی کے خلاف اپیل کی مدت 31 اگست تک تھی جو کہ گزر چکی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن اپیل میں نہیں گئی۔ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نے اپیل سے متعلق تیاری مکمل کر رکھی ہے لیکن اس مرحلے پر اپیل نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ایاسا نے پاکستان کے سیفٹی مینجمنٹ سسٹم پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکن پی آئی اے ایک عرصہ سے آپریٹ کر رہی ہے اور اس کے سیفٹی کے نظام پر دنیا کے بیشتر ممالک کو کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم، یورپی یونین کے اعتراضات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن پر پابندی 31 دسمبر تک ہے۔ ذرائع کے مطابق ایاسا کی جانب سے فالو اپ پلان کے ضمن میں 12 صفحات پر مبنی سوال نامہ پر بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا ہے۔ ائرلائن ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس نے سیفٹی مینیجمنٹ کے نظام کے تمام عناصر کا موثر طور پر اطلاق کیا ہے جو شکاگو کنوینشن کے مطابق درکار ہیں۔ ایاسا کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے مطابق، تمام جعلی لائسنس والے پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ لیکن، یہ سب کافی نہیں ہے ایاسا کو اب بھی لائسنس اجرا کے طریقہ کار کے حوالے سے مطمئن نہیں۔

یورپی ائر سیفٹی ایجنسی نے پائلٹس کے لائسنس جاری کرنے کے نظام میں اصلاحات لانے کی یقین دہانی مانگی ہے جس میں ’ہیک فری سسٹم‘ بنانے اور غیر ملکی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی تھی جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں نہیں ہو سکا ہے۔ موجودہ حالات اور پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن اور سول ایوی ایشن کی طرف سے کیے گئے ناکافی اقدامات سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معطلی میں تین ماہ کی مزید توسیع ہو سکتی ہے۔

اور اگر پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن اور سول ایوی ایشن نے یورپی ائر سیفٹی ایجنسی کے تحفظات پر سنجیدگی دکھائی تو مارچ تک پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کو یورپ میں فضائی آپریشن کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس حوالے سے جب فرانس میں پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن فرانس کے چیف ایگزیکٹو مالک وقار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی کے تمام اعتراضات سول ایوی ایشن کے حوالے سے ہیں اس لیے سول ایوی ایشن ہی اس حوالے سے کوئی جواب دے سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •