مجھے بابا کی خبر پہلے مل گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی زمانے میں میری بڑی خواہش یہی تھی کہ کاش میں ان کی دماغ میں داخل ہو کر وہاں موجود ہر لفظ اور ہر فکر کو چرا کر ان سے اپنی ذات کی تاریک دنیا کو منور کر سکوں۔ یہ شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ ان کی آنکھوں نے بیٹے ہونے کے ناتے مجھے اتنی بار نہیں دیکھا ہوگا جتنی بار انہوں کتابوں پر نظریں دوڑائی ہوں گی۔

میری گالوں سے زیادہ انہوں نے کتاب کی ورق کو اپنی انگلیوں سے چھوا تھا۔ میں ان کا بیٹا بھی تھا اور شاگرد بھی۔ میں نے زندگی کے 16 سال سکول، کالج اور یونیورسٹی میں گزارے لیکن میرا پہلا اور آخری مکتب ان کی صحبت تھی۔ عملی زندگی میں یونیورسٹی کی ڈگری محض سی وی میں لکھنے کے کام آئی۔ ان کی صحبت میں میں خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمید بابا، فارسی شعرا بیدل، عمر خیام، حافظ شیرازی، شیخ سعدی، ان کے ہم نام عبدالرحمن جامعی، اقبال کی فارسی شاعری سے آشنا ہوا۔

اگر وہ نہ ہوتے تو شاید مجھے سیاست کی لت بھی نہ پڑتی۔ مجھے سردیوں کی وہ شامیں اب بھی یاد ہیں کہ آتش دان کے گرد بیٹھ کر وہ مجھے مولانا بھاشانی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مفتی محمود، باچا خان، خان عبدالصمد خان اچکزئی، غوث بخش بزنجو اور نہ جانے کتنے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کی جدوجہد کے قصے سنایا کرتے تھے۔ ابوالکلام آزاد ان کی پسندیدہ شخصیت تھی اور یہی وجہ تھی کہ میں نے 18 سال کی عمر ہی میں ان کی تقریباً تمام کتابیں پڑھ ڈالی تھیں۔

میں ان کے پہلو میں بیٹھ کر مولانا آزاد کو پڑھتا اور جب بھی فارسی اور عربی کے کسی مشکل لفظ یا شعر میں اٹک جاتا تو وہ ان کے معنی سمجھا دیتے۔ وہ جانکاری اور تجسس کی روشن دھار سے ذہن کے تاریک پردوں کو چیرنے کے متمنی تھے۔ دینی عالم ہونے کے باوجود وہ ملا ازم کو دین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ملاؤں سے کوسوں دور رہتے اور کبھی کسی فاتحہ یا شادی بیاہ میں کسی ملا سے سامنا ہو بھی جاتا تو اکثر اوقات مذہبی دلائل سے اس کو لاجواب کرتے۔ وہ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے

گر ہمیں مکتب ہمیں ملا
کار طفلان خواہد شد

یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مسجد کی امامت کی چھوڑ دی تھی۔ پوچھنے پر بتایا کرتے تھے کہ مسجد کے امام کا مالی طور پر سارا دار و مدار مقتدیوں کے خیرات و زکات پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسان خودداری کھو دیتا ہے۔

وہ جہاد پروجیکٹ کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملاؤں کے نشانے پر ہوا کرتے تھے۔ سرد جنگ کے زمانے میں سرکاری ملاؤں نے ان پر کمیونسٹ ہونے کا فتوی لگایا تھا۔ میری عمر دس سال تھی اور ایک دن گھر والوں نے کسی کام کے سلسلے میں ہمسائے کے گھر بھیجا۔ میں جب وہاں گیا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے والد کمیونسٹ ہیں۔ ان دنوں میں میں کمیونسٹ اور کمیونزم سے بالکل ناآشنا تھا البتہ ان لوگوں کے رویے سے اتنا سمجھا کہ یہ شاید اچھی چیز نہیں اور مجھے ایک قسم کا طعنہ دیا گیا ہے۔ میں گھر آیا اور والد صاحب سے پوچھنے لگا، بابا! یہ کمیونسٹ کیا ہوتا ہے؟ وہ مسکرائے اور کہا بڑے ہو کر سمجھ جاؤ گے۔

ان کی شدید خواہش تھی کہ میں زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھ سکوں۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ ایک مذہبی عالم اپنے بیٹے کو لینن کی آپ بیتی پڑھنے کو دیں؟ ان کی اس خواہش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود جب کبھی کتاب، اخبار یا کسی رسالے کا مطالعہ کرتے اور کوئی نئی اصطلاح، لفظ، شعر، تاریخی واقعہ اور ضرب المثل پڑھنے کو ملتا تو مجھے فون پر سنا کر اس سے لکھنے اور سیکھنے کی تلقین کرتے۔

ٹوڈ ہنری نے Die empty نامی کتاب لکھی ہے جس میں وہ تلقین کرتے ہیں کہ مرنے سے پہلے اپنے اندر کا علمی خزانے لکھ ڈالیں۔ ان کے بقول دنیا کا تمام علم قبرستانوں میں دفن ہے۔ اب اس قبرستان میں میرے علم دوست والد عبد الرحمن کے قبر کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ انتقال سے کچھ عرصے قبل انہوں نے میری بہن کے وٹس اپ پر خوشحال خان خٹک کا شعر بھیجا تھا،

یا بہ ستا لہ مرګہ واورم یا بہ واوری
( یا تو مجھے تیری موت کی خبر مل جائے گی یا تمھیں میری )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •