فوج عمران خان کو نہیں بچائے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کی تمام تر کوششوں اور رکاوٹوں کے باوجود ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگیا۔ اب یہ بات اہم نہیں ہے کہ جلسہ کتنا کامیاب تھا اور اس میں کتنے لوگوں نے شرکت کی۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے انتباہ، کورونا وبا کے خطرہ و اندیشہ اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے پکڑ دھکڑ اور جلسہ گاہ بند کرنےکے باوجود جلسہ منعقد کیا اور حکومت کو جد و جہد جاری رکھنے کا پیغام دیا ہے۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر دنیا بھر میں عوامی صحت کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ امریکہ و یورپ کے علاوہ پاکستان جیسے متعدد ممالک دوسری لہر سے شدید متاثر ہیں۔ پاکستان میں ہسپتالوں کی گنجائش کم پڑنے لگی ہے اور وائرس کا پھیلاؤ کنٹرول سے باہر ہونے پر قومی معیشت اور عوامی بہبود پر اس کے دیرپا اور سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان خطرات کے باوجود اپوزیشن نے یہ اعلان کرتے ہوئے ملتان میں اجتماع مقرر کیا ہے کہ ’کووڈ 19 ، کووڈ18 سے زیادہ مہلک نہیں ہوسکتا۔ پہلے کووڈ 18 سے جان چھڑا لی جائے ، اس کے بعد کووڈ 19 از خود بھاگ جائے گا‘۔ اس بیان کی سیاسی حجت سے قطع نظر اسے غیر سنجیدہ اور خطرناک رویہ کہا جائے گا۔ کسی بھی ملک میں کسی حکومت کے استبداد یا اس کے انتخابی میرٹ کے خلاف احتجاج کرنا نامناسب بات نہیں لیکن ایک سیاسی انتظام کا عالمی طور سے مسلمہ وبا سے موازنہ کرنا افسوسناک غیر ذمہ داری ہے۔ اس رویہ کی مذمت ہی کی جاسکتی ہے۔

اپوزیشن نے کورونا کے پھیلاؤ کے باوجود ملتان میں جلسہ منعقد کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ حکومت کی طرف سے اس ارادے کو بدلنے کے لئے جو عملی اقدامات دیکھنے میں آئے وہ کسی بھی آمرانہ دور کی یاد دلاتے ہیں۔ جلسہ سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے وزیروں و مشیروں نے بیان بازی کے ذریعے اپوزیشن کے ارادوں کو ’ناکام‘ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے آبائی علاقے میں اپنی حکومت کا لوہا منوانے کے لئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو یہ ذمہ دارسونپی کی کسی بھی قیمت پر جلسہ نہ ہونے دیا جائے۔ پولیس نے اس حکم کو بجا لانے کے لئے وہی کیا جو وہ دہائیوں سے کرتی آرہی ہے۔ اپوزیشن کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور لوگوں کو بھاری جرمانے عائد کرنے کی دھمکی دے کر گھروں سے نہ نکلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ملتان کی سڑکوں اور خاص طور قاسم باغ کو جانے والے راستوں کو کنٹینڑ کھڑے کرکے روکا گیا اور اپوزیشن کو چیلنج کیا گیا کہ اسے جلسہ گاہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس کا جواب دینے کے لئے پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے دو روز قبل کارکنوں کے ساتھ قاسم باغ اسٹیڈیم میں داخل ہوکر وہاں استقبالیہ کیمپ لگانے اور جلسہ کی تیاری کرنے کا اقدام کیا۔ تاہم مقامی انتظامیہ نے طاقت کے زور پر یہ کوشش ناکام بنا دی ۔ اسی لئے آج اپوزیشن کو ملتان کے چوک گھنٹہ گھر پر عوامی اجتماع منعقد کرنا پڑا۔ اس طرح یہ جلسہ صرف وبا کی صورتحال کی وجہ سے ہی خطرہ کا سبب نہیں بنا بلکہ کسی بھی غیر متوقع سانحہ کی وجہ بھی بن سکتا تھا۔ موصول ہونے والی خبروں کے مطابق جلسہ میں مریم نواز کے خطاب کے دوران گھنٹہ گھر کی ایک عمارت میں آگ بھڑک اٹھی اور غیر معمولی صورت حال پیدا ہوئی۔ افراتفری میں پہلے سے مناسب انتظامات کے بغیر منعقد ہونے والے کسی اجتماع میں کوئی خوفناک سانحہ بھی ہوسکتا تھا۔ خاص طور سے ملک کی ایجنسیاں اجتماعات میں دہشت گردی کے بارے میں متنبہ کرتی رہی ہیں ۔ حکومتی ذرائع ہی یہ خبر اپوزیشن تک پہنچا کر انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ سیاسی تصادم کی فضا میں اپوزیشن کی طرح حکومت نے بھی عوامی حفاظت اور بہبود کے مقصد کو مکمل طور سے فراموش کردیا۔ حالانکہ اگر اپوزیشن جلسہ منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں تھی تو اس کی قیادت کو کورونا سے روک تھام کے لئے مناسب اقدامات پر آمادہ کیا جاسکتا تھا۔ پشاور میں کسی حد تک یہ انتظام دیکھنے میں آیا تھا۔

ملتان میں جلسہ منعقد ہونا اگر اپوزیشن کی کامیابی نہ بھی کہا جائے تو اسے حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بڑی ناکامی کہا جائے گا۔ اپوزیشن کا مقصد بھی حکومت کو ’ناکام‘ دیکھنا اور دکھانا ہی ہے۔ حکومت اپنی رٹ نافذ کرنے میں ناکام رہی ۔ اس طرح اپوزیشن کا مقصد پورا ہوگیا کہ وہ ثابت کرے کہ حکومت غیر مؤثر اور ناکام ہے۔ اول تو اگر وبا کی وجہ سے ملک میں اجتماعات پر پابندی ہے اور لوگوں کو سماجی دوری برقرار رکھنے پر آمادہ کرنا ضروری تھا تو دھمکیاں دینے، ٹوئٹ اور ٹی وی انٹرویوز میں بیان بازی کرنے اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے غیر قانونی اور عوام دشمن اقدامات کروانے کی بجائے حکومت کو اپوزیشن لیڈروں سے باقاعدہ بات چیت کرکے انہیں احتجاج مؤخر کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے تھا۔ یعنی حکومت سیاسی اکائی کے طور پر اس بات کا اقرار کرتی کہ صرف اقتدار پر براجمان پارٹی ہی ملکی سیاست میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہے بلکہ اسمبلیوں میں نمائیندگی رکھنے والی تمام پارٹیاں امور حکومت و مملکت میں حصہ دار ہیں اور ان کے اس کردار کو فراخ دلی سے قبول کیا جانا چاہئے۔

عمران خان کی سب سےبڑی ناکامی ہی یہ ہے کہ وہ ملکی سیاست میں جائز حصہ داروں کا حق قبول کرنے کی بجائے ریاستی اداروں کے ذریعے اپنی طاقت کو ثابت کرنے کی کوشش کررہےہیں۔ اپوزیشن آئینی تقاضوں کے مطابق سیاسی معاملات طے کرنے ، انتخابات اور حکومت سازی کا مطالبہ کررہی ہے۔  وزیر اعظم اس مطالبے کو کبھی بدعنوانی چھپانے اور این آر او لینے کی کوشش قرار دیتے ہیں، کبھی بھارت دوستی اور ملک سے غداری کہتے ہیں اور کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سیاست دانوں نے کبھی کوئی جد و جہد ہی نہیں کی اور یہ سب لوگ تو ایک خاص مراعات یافتہ طبقہ کے نمائیندے ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ دعوے کرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم خود کو فوج اور آئی ایس آئی کی پناہ میں محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ایک درست سیاسی مطالبہ کا جواب دینے کے لئے متوازن سیاسی طرز عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔ انٹرویوز میں دعوے کرنے سے کہ فوج میرے زیر فرمان ہے یا آرمی چیف ہر کام میری مرضی سے کرتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہر فیصلہ میں خود مختار ہے، اس دلیل کا جواب میسر نہیں آتا کہ تمام اہم قومی فیصلے آئین کے مطابق پارلیمنٹ میں طے ہونے چاہئیں۔ عمران خان اسمبلی کو پناہ گاہ نہیں سمجھتے ورنہ وہ بپھری ہوئی اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں مکالمہ و مذاکرہ کی کوئی صورت پیدا کرتے۔

قومی اسمبلی کے زیر حراست اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی والدہ کے انتقال کے موقع پر پیرول پر رہائی کے دوران ایک بیان میں ایک بار پھر قومی مکالمہ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہی بات تمام تجزیہ نگار اور غیر جانبدار سیاسی مبصر بھی کہہ رہے ہیں۔ کسی حد تک اسٹبلشمنٹ بھی اس مکالمہ کی حامی ہے کیوں کہ تحریک انصاف کو اگر اپنی آئینی مدت پوری کرنا ہے تو اسے اپوزیشن پر حملہ آور ہونے کی بجائے، اس کے ساتھ بیٹھ کر ان بنیادی امور کو طے کرنا ہوگا جو اس وقت تصادم کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی جلسوں میں جاری کئے شدید بیانات کے باوجود ہمیشہ ایسا کوئی گوشہ موجود ہوتا ہے جسے مفاہمت کے لئے بروئے کار لایاجاسکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لئے سیاسی مزاج اختیار کرنے ، وسعت النظری اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیاسی معاملات سے مایوس اپوزیشن کی طرح اگر حکومت بھی بیان بازی اور دشنام طرازی کا دنگل سجانا چاہے گی تو مسئلہ سلجھنے کی بجائے الجھنے لگتا ہے۔ اس ملک سے محبت کرنے والے ہر شخص کو اس وقت اسی جنگ جوئی سے خوف محسوس ہورہا ہے۔ جس طرح میدان میں جنگ لڑنے کے بعد کسی سمجھوتہ کے لئے بات چیت ہی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی احتجاج کی صورت میں جلد از جلد مذاکرات و مواصلت شروع کرنا کسی بھی حکومت کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم نے فی الوقت جلسوں کے ذریعے احتجاج کا آغاز کیا ہے۔ یہ احتجاج اس کے بعد لانگ مارچ اور تصادم کی کوئی سخت صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر عمران حکومت کے کارپرداز اس امید پر اپوزیشن کی شکست کا یقین کئے بیٹھے ہیں کہ جلد ہی اس اتحاد میں شامل مختلف پارٹیاں آپسی سر پھٹول سے اپنے راست علیحدہ کرلیں گی۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کا یہ اندازہ درست ہو لیکن اگر اس کا قیاس غلط ثابت ہؤا۔ حکومت کی ہٹ دھرمی اور معاشی وسماجی سطح پر دگرگوں حالات کی وجہ سے عوام بھی زیادہ بڑی تعداد میں اپوزیشن کے ہمنوا ہونے لگے تو کیا عمر ان خان اور تحریک انصاف نے کوئی پلان ’بی‘ تیار کیا ہے؟ یا اس کے سارے پلان اس یقین سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوجاتے ہیں کہ حالات خراب ہوئے تو فوج حکومت کو بچانے کے لئے میدان میں نکل آئے گی۔

عمر ان خان بس یہ ذہن نشین کرلیں کہ عوامی غم و غصہ بڑھنے لگے اور مایوسی کو اظہار کا موقع دینے سے انکار کیا جائے تو فوج تو اپنے آرمی چیف کو بچانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ ثبوت کے لئے پرویز مشرف کے اقتدار میں آخری ایام اور 2007 کے دور ان رونما ہونے والے حالات کا مطالعہ کافی ہوگا۔ پھر بھی عمر ان خان اگر فوج کو ہی اپنا مسیحا سمجھتے رہیں گے تو تصادم کی شدت میں وہ خود کو تنہا پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1728 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali