ایڈز کا عالمی دن: ’مجھے ایسا لگا کہ میرا خون اور سپرم زہریلے ہیں‘

نوربرٹو پریدس - بی بی سی نیوز منڈو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Christopher Klettermayer
Christopher Klettermayer
’ایک سفید فام مغربی پورپیئن مرد کی حیثیت سے میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مجھے ایڈز کا مرض لاحق ہو جائے گا۔‘

آسٹریا کے 38 سالا شہری کرسٹوفر کلیٹرمیئر، جو فلپ سپیگل کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کو سنہ 2014 میں علم ہوا تھا کے وہ ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ ہیں۔

جس روز ان میں ایڈز کی تشخیص ہوئی تھی وہ دن انھیں آج بھی ایسے یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔

وہ اس وقت آسٹریا میں نہیں تھے بلکہ انڈیا میں ایک اسائمنٹ پر کام کر رہے تھے اور انھوں نے تصاویر بنانے کے لیے ایک ہندو آشرم میں جانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

اس آشرم میں داخلے کے شرائط کے تحت انھیں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کا ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا۔

کرسٹوفر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک سفید فام اور مخالف صنف کی جانب مائل ہونے والی شخصیت ہونے کی وجہ سے میں نے اس شرط کو مان لیا اور میں نے سوچا کہ یہ ٹیسٹ نیگیٹیو آئے گا، مگر ایسا نہیں تھا۔‘

ان کے خیال میں ایڈز یا ایچ آئی وی وائرس کا شکار افریقی ممالک کے شہری، خون کی رگوں میں منشیات کے ٹیکے لگانے والے افراد یا ہم جنس پرست ہی ہو سکتے تھے۔

انڈیا میں تشخیص سے چند ماہ قبل آسٹریا میں کرسٹوفر بہت بیمار ہو گئے تھے لیکن ظاہر ہے اس وقت کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ ایڈز کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈز کے بارے میں آٹھ غلط تصورات

‘ہم مسلمان ہیں، ہمیں ایڈز کیسے ہو سکتا ہے؟’

پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ ایک لاکھ مریض: اقوام متحدہ

ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ڈاکٹر مجھے ایڈز کا ٹیسٹ کروانے کا نہیں کہتا کیونکہ میں کسی ایسے گروہ یا رسک گروپ میں شامل نہیں تھا، مجھ میں اس کی تشخیص اتفاقیہ طور پر انڈیا میں ہوئی جس نے مجھے بہت صدمہ پہنچایا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’درحقیقت میں خوش قسمت تھا، کیونکہ میں برسوں اس بیماری سے لاعلم رہ سکتا تھا۔‘

’بڑھتی ہوئی مشکلات‘

A man holding a red ribbon for HIV illness awareness (stock photo)

Getty Images
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کوڈ 19 کی وجہ سے ایچ آئی وی کی وبا سے لڑنے کے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے

ایک ایسے سال میں جب دنیا کی توجہ ایک اور وبا، کووڈ 19، پر مرکوز ہے کرسٹوفر ایڈز کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنی کہانی یاد کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا کی وبا نے ایچ آئی وی کے خلاف ہونے والی پیشرفت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے، جو اس مرض کے علاج تک رسائی میں موجودہ عدم مساوات کو بڑھاتا ہے۔

سنہ 2019 میں ایڈز کے باعث چھ لاکھ نوے ہزار اموات ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایڈز کے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں ایک لاکھ 20 ہزار سے تین لاکھ مزید افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے کیونکہ کورونا کی وبا کے باعث ان کا علاج متاثر ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق جون 2020 تک تین کروڑ 80 لاکھ ایڈز کا شکار افراد میں سے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک علاج کی رسائی ممکن نہیں ہوئی تھی۔

انٹرنیشنل ایڈز سوسائٹی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر برگٹ نے بی بی سی کو بتایا ’حالانکہ ہم نے گذشتہ 40 برسوں میں اس حوالے سے بہت کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس پر مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو جو کامیابی اب تک حاصل کی ہے وہ ضائع ہو جائے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایچ آئی وی نے ترقی پذیر ممالک کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے مگر یہ خیال کہ چند گروہوں میں اس سے متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے یہ ایک ’غلط فہمی‘ ہے۔

The hands of a young couple holding a condom (stock photo)

Getty Images
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ سیکس ایڈز کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے

وہ کہتی ہیں کہ 40 سال سے ایڈز کی وبا نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ یہ بیماری کسی میں تفریق نہیں کرتی، دنیا کے ہر ملک میں اس کے متاثرہ افراد ہیں، ہر عمر، نسل، قوم، صنف، پیشے، مذہب، یا جنسی رحجان سے تعلق رکھنے والے اس کا شکار ہیں۔‘

جنوبی افریقہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور دنیا میں اس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ غیر محفوظ یا بنا کنڈوم کے سیکس کرنا ہے۔

ڈاکٹر برگٹ کا کہنا ہے کہ ’غیر محفوظ سیکس کرنے سے ہی صرف آپ کو ایڈز نہیں ہو جائے گی بلکہ ایک متاثرہ شخص کی استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ دنیا بھر میں اس مرض کا شکار مریضوں کا دس فیصد اس وجہ سے ہے۔‘

’میں ہی کیوں؟‘

کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ ’شروع میں تو میں خوفزدہ ہو گیا اور میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے کے اصل میں ایچ آئی وی یا ایڈز کی بیماری ہے کیا؟ میں نے سوچا کہ میں ہی کیوں؟ پھر مجھے احساس ہوا کہ اس بیماری سے متعلق میرے ذہن میں جو بھی سنہ 80 اور 90 کی دہائی کے خدشات ہیں انھیں ختم کر کے 21ویں صدی میں لانا ہو گا۔‘

کرسٹوفر کے خیال میں مردانگی سے متعلق خیالات کی وجہ سے مردوں کے لیے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا اعتراف کرنا مشکل ہوتا ہے۔

Christopher Klettermayer

Christopher Klettermayer
کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ وہ مرد جو ایڈز کا شکار ہو جاتے ہیں انھیں یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اب لوگ انھیں ہم جنس پرست اور نشہ کا عادی سمجھیں گے

ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے مرد ایڈز سے متاثر ہونے کے متعلق نہیں بتاتے کیونکہ انھوں ہم جنس پرست یا منشیات کے عادی سمجھے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔‘

انھیں بھی اپنے ساتھ مخلتف سلوک روا رکھنے یا سمجھے جانے کا خوف تھا اور انھوں نے ایڈز کے متعلق بات کرنے اور انٹرویوز دینے کے لیے اپنا نام تبدیل کر کے فلپ سپیگل رکھ لیا تھا۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی اصل شناخت کے ساتھ بھی اس متعلق بات کرنے میں آسانی محسوس ہوئی اور انھوں نے فرضی نام کو چھوڑ دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے آپ کا مقابلہ کیا اور جنسی اور مردانگی کے تصورات کو چیلنج کیا اور بلآخر میں اس نتیجے پر پہنچ گیا جہاں میں نے خود سے یہ کہا کہ ’کوئی بات نہیں یہ زندگی کا آخر نہیں ہے۔‘

’مجھے اپنا آپ زہریلا لگا‘

حالانکہ اب تک ایڈز کا کوئی مکمل علاج نہیں ہے مگر دستیاب طریقہ علاج کے ذریعے وائرس کو دبایا جاتا ہے جنھیں اینٹی وائرل طریقہ علاج کہا جاتا ہے۔ اس سے متاثرہ افراد کو صحت مند زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر برگت کہتی ہیں کہ ’درحقیقت ان لوگوں نے اس وائرس کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ ان کے جسم میں ظاہر بھی نہیں ہوتا اور وہ کسی دوسرے شخص کو اس وائرس سے متاثر نہیں کر سکتے حتی نے جنسی طور پر بھی نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ایڈز کی اینٹی وائرل ادویات لے رہے ہیں اور وہ اثر کر رہی ہیں تو آپ کسی دوسرے کو متاثر نہیں کر رہے۔‘

A woman holding antiretroviral drugs in India

Getty Images

جیسے ہی کرسٹوفر نے اپنا علاج شروع کیا تو انھوں نے اس کے مثبت اثرات کو محسوس کیا۔ تاہم انھیں نفسیاتی طور پر اس متعلق اپنے خیالات کو تبدیل کرنے میں برسوں لگے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ڈیٹنگ کرنے جیسی چیزیں تو تقریباً ناممکن ہو جاتی ہیں کیونکہ ایڈز آپ کا اعتماد ختم کر دیتی ہے۔‘

ایک لمحے کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرے اندر کوئی عجیب چیز ہے۔ مجھے اپنا آپ زہریلا لگتا تھا، جیسے میرا خون اور سپرم زہریلے ہوں۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں دوسرے لوگوں کے لیے خطرہ ہوں۔ خاص کر ان کے لیے جن کے میں قریب ہونا چاہتا تھا، میرے چاہنے والے، محبوب افراد۔‘

آخر کار کرسٹوفر نے فیصلہ کیا کہ انھیں ’ایک ایسے ملک میں رہنے کا فائدہ اٹھانا چاہیے جہاں دوسروں کو اس متعلق بتانے اور آگاہی دینے کے لیے ایچ آئی وی متاثرہ ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

’مجھے احساس ہوا کہ اگر میں یہ نہیں بتا سکتا کہ مجھے ایڈز ہے تو کوئی اور کیسے بتائے گا۔‘

’ردعمل کی لاٹری‘

کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ ہونے میں سب سے زیادہ خوفزدہ بات یہ ہے کہ آپ کو نہیں پتہ کہ جب آپ لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ آپ کو ایڈز ہے تو ان کا ردعمل کیا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک لاٹری کی طرح ہے، انھوں نے ہر طرح کے ردعمل کا تجربہ کیا ہے۔

ایک مثبت تجربے کے متعلق بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے ایک لڑکی سے پوچھا کہ تمھارا ردعمل کیا ہو گا اگر میں تمھیں یہ بتاؤں کہ مجھے ایڈز ہے؟ تو وہ صرف مسکرائی اور کہا کہ اس سے تو چیزیں اور بھی دلچسپ بن جائیں گی۔‘

’لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے فوراً پوچھا کیا ان کو یہ بیماری مجھے چومنے سے بھی لگ سکتی ہے؟‘

ایچ آئی وی وائرس خون کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے، اور یہ کسی کے تھوکنے، کھانسنے، چھینکنے، چومنے یا سماجی رابطے سے نہیں پھیلتا۔

کرسٹوفر کے لیے محبت اس بیماری کے خوف سے نکلنے میں بہت اہم رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نہ دیکھا کہ اس نے مجھے اس طرح اپنایا جیسے ایڈز کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ میرے لیے روزانہ ایک گولی کھانے جیسا تھا۔‘

Christopher Klettermayer

Christopher Klettermayer

ان کا کہنا ہے کہ ایک اور ’غلط فہمی` یہ سوچنا ہے کہ ایڈز متاثرہ انسانوں کی زندگیوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک وقت تھا جب میرے دوست اور گھر والے یہ بالکل بھول چکے تھے کہ مجھے ایڈز ہے، کیونکہ یہ صرف کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں ایک ایڈز سے متاثرہ انسان سے کہیں زیادہ ہوں، وہ میری شخصیت کا ایک حصہ ہے صرف۔

’میں ایڈز سے متاثرہ ہونے کے بعد پہلے سے زیادہ خوش ہوں

کرسٹوفر کہتے ہیں کہ ان کے تجربے نے انھیں زندگی کو ایک بڑے پیمانے پر دیکھنے اور جانچنے کا موقع دیا ہے۔

’میں اب حال میں زیادہ رہتا ہوں، میں ایڈز ہونے کے بعد پہلے سے زیادہ خوش رہتا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کو اب ایک مقصد دیا ہے کہ میں ایک کتاب لکھوں کہ ایڈز کے ساتھ زندہ رہنا کیسا ہے۔‘

کرسٹوفر ایڈز سے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر کرنے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ کس ملک یا خطے میں رہتے ہیں یا آپ نے کیسے گھرانے میں آنکھ کھولی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں کہ ایڈز کا شکار ہونے کے بعد ان کے گھر والوں نے انھیں تنہا کر دیا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایڈز کا شکار ہونے پر خود کو مجرم سمجھنا یا شرمندہ ہونا بیکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اپنا وقت لیں، حوصلے سے کام لیں، اس کو قبول کریں اور ایڈز کو اپنی زندگی میں وہ ہی مقام دیں جو اس کا بنتا ہے اور اسے اپنی زندگی کے فیصلے نہ کرنے دیں۔ یہ زندگی آپ کی ہے۔

آخر میں کرسٹوفر کہتے ہیں ’اس بیماری کے متعلق سب سے جانیں کیونکہ اس کے متعلق علم آپ کا خوف ختم کرتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17264 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp