ایڈز کا عالمی دن اورخوفناک حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وبا سے قبل دس خطرناک وباوں میں سے ایک وبا ایچ آئی وی ایڈز ہے جس کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوسکا۔ یہ بیماری روئے زمین پر کیسے پیدا ہوئی؟ اس بارے میں سائنس دانوں اورتحقیق کاروں نے اندازہ لگایا گیا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے افریقہ کے بندروں میں یہ بیماری موجود تھی جو سبز بندروں کے ذریعے پھیلی اور پھرچمپینزی کے ذریعے یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوئی۔ ایچ آئی وی ایڈز کی وبا 1980 کی دہائی میں منظر عام پر آئی لیکن یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور بیلجیم کی یونیورسٹی آف لوئن کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ نے نئے انکشافات کیے ہیں، ان کی رپورٹ کے مطابق 1920 کی دہائی میں شہر ”کینشاسا“ جو کہ بیلجیم کانگو کا حصہ تھا۔

یہ شہر بہت بڑا تجارتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں میں گھرا ہوا تھا۔ ماہرین کادعویٰ ہے کہ ایڈز 1980 میں منظر عام پر آئی لیکن اس کا وجود 1920 کی دہائی میں کنشاسا شہر میں موجود تھا۔ یہ وبا کینشاسا سے برازیل اور کانٹا گا، جیسے علاقوں سے پھیلتے پھیلتے اب دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے ”یو این ایڈز“ کی موجودہ سال 2020 کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سن 2000 میں دنیا بھر میں 24 ملین افراد ایڈز میں مبتلا تھے جبکہ رواں سال یہ تعداد 38 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ایڈز کے نئے کیسوں میں کمی آئی ہے۔ سن 2000 میں ایڈز کے نئے کیسز کی تعداد 2.7 ملین تھی جو موجودہ سال کم ہو کر 1.7 ملین ہو گئی ہے جبکہ اس مرض کے باعث اموات کی تعداد بالترتیب 1.4 ملین سے کم ہو کر 6 لاکھ 90 ہزار ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرقی اور جنوبی افریقہ کے ممالک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 15 ملین ہے جو دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ گلوبل ایڈز اپ ڈیٹ 2020 ’کے مطابق یو این ایڈز کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا، میانمار، تھائی لینڈ اور ویتنام میں ایچ آئی وی کے انفیکشن میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم پاکستان اور فلپائن میں انفیکشن میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایڈز کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سال 2019 کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی پھیلنے کی شرح پاکستان میں ہے تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز کی ایک تازہ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں ایڈز کی وبا پر قابو پا لیا جائے گا۔

آج سے دس سال پہلے ایڈز کا علاج ناممکن سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کے علاج کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اگرچہ ایڈز کا مکمل علاج دریافت نہیں ہوسکا مگرنئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایڈز کے علاج کے لئے عالمی پروگرام 90۔ 90۔ 90 پرعملدرآمد کرتے ہوئے 18 ملین سے زائد افراد کی جانیں بچائی جاچکی ہیں۔ اس سلسلے میں اینٹی وائرل دواوں سے مدد لی جا رہی ہے اور 15.7 ملین افراد کا علاج کیا گیا جبکہ انہی دواوں کے استعمال سے 2.6 ملین بچے ایچ آئی وی ایڈز کے بغیر تندرست پیدا ہوئے۔

آسٹریلیا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں کامیاب ٹیسٹنگ اور علاج کے پروگرامز کی وجہ سے 2010 کے بعد سے ایڈز سے ہوئی اموات میں 29 فیصد کمی آئی ہے اور انہوں نے 90۔ 90۔ 90 کے اہداف حاصل کرلیے تاہم پاکستان، افغانستان اور فلپائن میں ایڈز سے وابستہ اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ ”سیزنگ دی مومنٹ“ نامی رپورٹ میں کہا گیا کہ نیڈل سرنج پروگرام کی پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں آگاہی بہت کم ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں اوپی آئیڈ سبسٹی ٹیوشن تھراپی سروسز یا تو دستیاب نہیں ہے یا پھر اس کی کوریج صرف 10 فیصد یا اس سے بھی کم ہے۔ یواین رپورٹ کے مطابق سال 2010 میں پاکستان میں ایک ہزار مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کی شرح 0.08 فیصد تھی جو سال 2018 میں بڑھ کر 0.11 فیصد ہو گئی ہے۔

پاکستان میں ایڈزپھیلنے کی سب سے بڑی وجہ نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے۔ ایڈز پھیلنے کی دیگراہم وجوہات جنسی بے راہ روی، استعمال شدہ آلات اور آلودہ انتقال خون ہے۔ ماہرین طب کے مطابق روزانہ استعمال شدہ آلات چھری چاقو کو بھی دھوئے بغیر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اورناک کان چھدوانے کے لئے استعمال شدہ سوئی کا استعمال بھی نہ کیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے سال ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر وزارت صحت کے زیر اہتمام نیشنل ایکشن پلان شروع کیا تھاجس کے تحت استعمال شدہ ٹیکوں اور سکریننگ کے بغیر انتقال خون پر مکمل پابندی لگائی گئی جس کے باعث اس خطرناک مرض کے پھیلاؤ کوروکنے میں کافی حد تک مدد ملی اس کے علاوہ ملک کے تمام نجی اسپتالوں میں خود بخود ضائع ہو جانے والے ٹیکے بھی استعمال کرنے کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ کورونا وبا کاحالیہ دور اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ دنیا کوفوری طور پرانسانی صحت کے معاملات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی نہیں تو انسانی زندگی کاموافق سیارہ وباوں کی زد میں آ کر خدانخواستہ کھنڈر بن جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •