مرد عورت کا ساتھی ہے, ناخدا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عمارہ ایک واجبی شکل صورت کی لڑکی تھی۔ جس کی ماں اس کے بچپن میں ہی مر گئی اور تین بچوں کو پال کر جوان کرنے کے بعد باپ بھی چل بسا۔ عمارہ کے بڑے بھائی نے ایک کے بعد ایک اپنی دونوں بہنوں کہ شادیاں مناسب انداز میں کر کے کسی طرح اپنی ذمے داری پوری کی اور اپنے فرائض سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد ہی اپنا گھر بھی بسا لیا۔ بڑی بہن کو تو خوش قسمتی سے اچھا گھر مل گیا لیکن عمارہ کی مصیبتوں کا اصل دور اب شروع ہوا تھا۔

اس کا شوہر 15، 20 ہزار کی معمولی سی رقم پر ملازم ہونے کی وجہ سے گھر میں بھی کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے عمارہ پر صرف شوہر کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی خدمت لازم تھی۔ گھر کا نظام عمارہ کی ساس کے ہاتھ میں تھا جو اپنے مرحوم شوہر کی پنشن سے گھر کا خرچہ چلاتی تھیں اور اس ایک 80 گز کے چھوٹے سے گھر میں عمارہ کے دو جیٹھ بمع فیملی اور ایک عدد ایسی نند رہتی تھی جو شادی شدہ اولاد والی ہونے کے باوجود اپنی ماں کی دہلیز چھوڑنے پر تیار نہیں تھی اور نہ ہی عمارہ کہ ساس اپنی 55 سالہ ننھی سی بیٹی کو خود سے جدا کرنے پر راضی تھیں۔

رہ گیا نند کا شوہر تو اسے بھی آرام تھا۔ نہ بیوی کو گھر کا خرچہ دینا پڑتا، نہ بچے کہ پڑھائی کا بوجھ اور جب چاہا سسرال میں جا کر سب سے اپنی خدمت کرواتا صرف اتنا ہی نہیں وہ بے ضمیر درندہ گھر کی عورتوں اور بچیوں پر ہوس بھری نظریں بھی رکھتا تھا اور موقع ملتے ہی دست درازی سے نہیں چوکتا تھا۔ عمارہ نے گھر والوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بے شک کم صورت تھی لیکن کم سیرت نہیں۔ مشکل وقت میں اپنے شوہر اور سسرال والوں کا ہر ممکن ساتھ دیا مگر جانے یہ اس کی بد قسمتی تھی جو کہ اب خوش قسمتی لگتی ہے کہ اسے اولاد نہیں نصیب ہوئی۔

ہر وقت کی نکتہ چینی اور بے اولادی کے طعنوں نے عمارہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا اور وہ اب کوشش کرتی کہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزارے جہاں شدید گرمی میں آخری سانسیں لیتا پنکھا پسینہ سکھانے میں بھی ناکام رہتا تھا مگر عمارہ کے لئے اس کمرے کے علاوہ کوئی دوسری جائے پناہ بھی کہاں تھی۔ خیر ایسے ہی اذیت میں وقت گزرتے آٹھ سال گزر گئے اور ایک دن نندوئی کے اخلاق سوز حملے کو روک دینے کے جواب میں عمارہ کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔

نندوئی نے ہڈ حرام اور کم ظرف بیوی کے کان بھرے اور بیوی نے میکے جاکر عمارہ کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ عمارہ کے گھر والے صلح جوئی کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ عمارہ بھی اپنے شوہر سے رابطہ کر کے کہتی تھی کہ اسے اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ ایک رات عمارہ نے اپنے شوہر سے رو رو کر رشتہ جوڑے رکھنے کی التجا کی جس پر اس کے شوہر کو تو اعتراض نہ تھا البتہ ساس، نند اور نندوئی کو یہ منظور نہ تھا اس لئے اگلی ہی صبح عمارہ کو طلاق دے دی گئی۔

عمارہ جس نے ہر لڑکی کی طرح شادی کا سفر بہت ارمانوں سے شروع کیا تھا وہ اب تمام ہو چکا تھا اور اس تمام عرصے میں اسے کسی قسم کی کوئی خوشی نصیب نہیں ہوئی۔ اب وہ اپنے بھائی کے گھر رہتی ہے اور جس دکھ کی وجہ سے میں نے آج اس داستان کو تحریر کیا ہے وہ یہ ہے کہ آج اس کے سابقہ شوہر کی دھوم دھام سے دوسری شادی ہو گئی ہے۔

بہت آسانی سے عمارہ کے خوابوں کی قبر پر کسی اور کا محل تعمیر کر دیا گیا۔ کسی کو ایک بار بھی وہ کمزور، مظلوم سی مخلص لڑکی یاد نہیں آئی۔

اب ایک طرف وہ لڑکی ہے جو کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود زندگی کی تمام خوشیاں کھو چکی ہے اور دوسری طرف ایک کمزور، خودغرض مرد ہے جو مکمل طور پر قصوروار ہونے کے باوجود ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھ چکا ہے۔ یہ قصہ مرد عورت کا نہیں یہ کہانی ہے طاقتور اور کمزور کی۔ اس کہانی میں پلڑا اسی کا اونچا ہے جس کے ہاتھ میں پیسہ ہے۔

کم صورت ہونا، اولاد نہ ہونا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود کو دوسروں کے سہارے پر نہ چھوڑا جائے۔ یہ معاشرہ جس نے عورت کو ایک کے بعد دوسرے مرد کے ہاتھوں ایک کھلونا اور جاگیر بننے پر مجبور کیا اگر یہی معاشرہ عورت کو صرف ایک انسان کی حیثیت سے جینے دیتا تو آج عمارہ اور عمارہ جیسی ہزاروں، لاکھوں لڑکیاں زندگی کی کئی دہائیاں گزار لینے کے بعد بھی سسک سسک کر زندگی نہ گزارتیں۔ اگر عمارہ کے پاس اچھی تعلیم، مضبوط روزگار جیسی طاقت ہوتی تو یقیناً وہ ایسے در در کی ٹھوکریں کھانے پر۔ مجبور نہ ہوتی۔ بھلے اسے طلاق پھر بھی ہوجاتی لیکن با قی ماندہ زندگی گزارنے کے لیے اسے کسی کے پھینکے گئے ٹکڑوں پر انحصار نہ کرنا پڑتا۔

ہمارا معاشرتی ڈھانچہ منافقت کے کالے اصولوں پر تعمیر ہے جس میں اختیار ایک کا اور دوسرے کا بھیک مانگنا ہی اچھا سمجھا جاتا ہے اس پورے فرسودہ اور غیر متوازن سماجی ڈھانچے کو بدلنے کے لیے ہمیں ہماری عورتوں اور بچیوں کو روزگار کے بغیر خرچہ اٹھانے کے لیے شادی اور شوہر کا آسرا دینے کے بجائے ان کو تعلیم، روزگار اور خود انحصاری کی عادت ڈالنی چاہیے۔ عورت مرد سے کسی بھی لحاظ سے کمتر نہیں اس کو ثابت کرنے کے لئے صرف بچہ پیدا کر کے دکھانے کی مثال کافی نہیں ہے بلکہ برابر کے حق کے لئے برابر کی جدوجہد، برابر کی طاقت رکھنا ضروری ہے۔ عورتوں کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ باپ، بھائی، شوہر ان کے نا خدا نہیں بلکہ ویسے ہی دوست اور ساتھی ہیں جیسے کہ ان کی ماں اور بہنیں۔ نہ ہی مرد، عورتوں کی زندگی کے فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذات کا بوجھ کسی مرد کے کندھوں پر لاد دینا کسی بھی طرح سے ایک مناسب عمل ہے۔

جو واقعہ اس تحریر میں بیان کیا گیا وہ حقیقی ہے اور عمارہ تب تک اپنی ذات کے لئے آنسو بہاتی رہے گی جب تک وہ اپنی زندگی اور اپنے وجود پر اپنا اختیار حاصل نہیں کرلیتی۔ اب فیصلہ عمارہ کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کو مزید دوسروں کے آگے کسی فٹ بال کی طرح پیش کرتی ہے یا خودانحصاری سے جینے کا قدم اٹھا کر ہاری ہوئی بازی پلٹ دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •