بہت بہت شکریہ وزیراعظم صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت شکریہ عمران خان، آپ جس پیپلز پارٹی کے لیے کہتے تھے کہ وہ سوائے سندھ کے کہیں زندہ نہیں، اس کو گلگت بلتستان کے کونے کونے گھر گھر میں واپس سیاسی زندگی کی جانب لوٹانے پر۔ اسی پیپلز پارٹی کے لیے آپ کا اور آپ کے میڈیا میں بیٹھے حواریوں کا فرمانا تھا کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کا نام و نشان مٹ چکا، جس پیپلز پارٹی کو کے پی کے میں آپ مردہ تصور کر چکے تھے، آج وہی پیپلز پارٹی اس کی قیادت اور کارکنان آپ کے حواسوں پہ سوار ہو چکی ہے۔

اسی پیپلز پارٹی سے آپ اتنے خوفزدہ ہو کہ آپ کو شہر شہر، گلی کوچے بندشیں لگا کر بند کرنے پڑ رہے ہیں، اسی پیپلز پارٹی کو روکنے کے لیے آپ کو اندھا دھند گرفتاریاں کرنے، جیلیں بھرنی پڑی رہی ہیں۔ بہت بہت شکریہ عمران خان کہ آپ نے ملک کے طول و عرض میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں نئی روح پھونکنے میں ہماری مدد کی، بہت شکریہ عمران خان کہ آپ نے پاکستانی عوام کو یہ باور کرادیا کہ یہ وہ تبدیلی نہیں جس کا وعدہ کر کے آپ اقتدار میں آئے تھے، بلکہ یہ وہ تبدیلی ہے جسے محسوس کر کے کہ نفرت و ناپسندیدگی کے تاثرات چہروں پہ عیاں ہو جاتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب جو کبھی کورونا کو فلو قرار دیتے تھے، جو کبھی پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو کورونا کے غلط اعداد و شمار بتانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا ذمے دار قرار دے کر اپنے پورے گولا بارود رجمنٹ کے ساتھ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پہ گالیوں اور لعن طعن کی بوچھاڑ کرتے تھے، آج وہی وزیراعظم قوم کو کورونا کے خطرناک، مہلک و جان لیوا ہونے کا یقین دلا کر انہیں پی ڈی ایم کے جلسوں میں جانے سے ڈرانے کا کام کر رہے ہیں، پی ڈی ایم کو کورونا پھیلانے اور عوام کو ہلاکتوں میں ڈالنے کا ذمے دار قرار دینے کا ورد شروع کیے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے جیالوں کو متحد و متحرک کرنے جیسا وہ کٹھن کام کر دیا ہے جس کے لیے شاید پیپلز پارٹی قیادت کو سخت محنت اور شبانہ روز کوششیں کرنی پڑتی، پیپلز پارٹی پنجاب کے کارکنان جو خاموش تھے، یا ناراض تھے یا قیادت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کی شکایات کرتے نظر آتے تھے یا پارٹی کے پنجاب میں سیاسی سکوت پہ دل برداشتہ تھے خان صاحب کی مہربانیوں سے نہ صرف گھروں سے نکل کر اپنی خاموشی ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں بلکہ مخالفین کو واضح پیغام دے چکے ہیں کہ جیالے نہ کسی تشدد سے ڈرتے ہیں نہ ہی جیلوں قید و بند کی صعوبتوں سے، جیالے تو خوش و خرم ہشاش بشاش ہی اس وقت ہوتے ہیں جب سڑکوں پہ عمران خان جیسے متعصب و متکبر جمہوریت کے بھیس میں چھپے آمروں، بدترین فسطائی گماشتوں کی فسطائیت کو منہ توڑ جواب دے رہے ہوتے ہیں۔

جیالے بم دھماکوں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں عزم و ہمت کا پیکر بنے اپنی قیادت کی حفاظت کے لیے صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں، وہ ڈر کر، گھبرا کر بھاگنے والے بزدل، گالم گلوچ کے ذریعے اپنے بدترین دشمن کی بھی ماں بہن بیٹی کی عزت اتارنے والی غلیظ حرکات سے نفرت کرتے ہیں۔ خان صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے ان تبدیلی پسندوں کو خواب غفلت سے جگا دیا جوآپ کی مکروہ تبدیلی پہ یقین کر کے، آنکھیں بند کر کے آپ پہ اعتماد کر بیٹھے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی فسطائیت، اپنے تکبر، رعونت، ضد و ہٹ دھرمی سے پی ڈی ایم کا بیانیہ ہر پاکستانی کا بیانیہ بنا دیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، ان کے دلیر و باہمت فرزندوں، جنوبی پنجاب کی تنظیم کے صدر و دیگر عہدیداروں اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے تمام پارٹی کارکنان نے صرف چند دنوں میں جس طرح وزیراعظم عمران خان کی فسطائیت و جمہوریت نما آمریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اس کو بھی سلام اور کریڈٹ بھی میں وزیراعظم صاحب کو ہی دوں گا کہ نہ وہ ریاستی دہشتگردی، اختیارات و طاقت کا بے دریغ اور اندھا استعمال کرتے نہ ہی جنوبی پنجاب اور پاکستان بھر کے جیالے جوق در جوق جتھوں کی صورت میں باہر نکل کر عمران خان صاحب کی ریاستی فسطائیت کے سامنے سینہ سپر ہوتے۔

پی ڈی ایم کو وجود میں آئے اور اس کی احتجاجی تحریک کو شروع ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا مگر اس تحریک نے عمران خان صاحب کی حکومت کے پیر اکھاڑ دیے ہیں، ان کو لانے والے بھی اب یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئے ہیں کہ کہیں تو ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے، خان صاحب کو بار بار یہ کہنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آتی ہے کہ فوج میرے ساتھ کھڑی ہے، فوج کو معلوم ہے کہ میں کیا کرتا ہوں، اب کوئی ہماری ریاست مدینہ کے اس امیر سے پوچھے کہ فوج آپ کے ماتحت یا آپ فوج کے۔ آپ کے اس طرح کے بیانات آپ کی کمزوری اور آپ نالائقی کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ اس یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اقتدار میں کون لایا اسی لیے وہ آپ کی ہر کارگزاری پہ بقول آپ کے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کا بہت بہت شکریہ اس لیے بھی کہ اپوزیشن اور پیپلز پارٹی کو کچھ کہنے بولنے، کچھ زیادہ محنت و تگ و دو کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، ان کی تحریک خان صاحب کی کاوشوں سے ہی زور پکڑ چکی ہے۔ خان صاحب اور ان کے اکابرین اپنے کارکردگی اپنی ترجیحات اور ملک و قوم کی بھلائی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے قوم کو آگاہی دینے، مہنگائی، بیروزگاری ختم کرنے پہ حکومتی توانائیاں استعمال کرنے اور اپنے وعدوں کے مطابق پچاس لاکھ بے گھروں کو چھت کی فراہمی کا انتظام کرنے کے بجائے سارا دن مختلف ٹی وی چینلز پہ بیٹھ کر اپوزیشن کا بیانیہ ملک کے گھر گھر کونے کونے میں خود ہی پہنچا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کی حکومت اپنی پوری گالم گلوچ برگیڈ سمیت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا بیانیہ ملک کے طول وعرض میں ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے، وہ بیانیہ چاہے ووٹ پہ ڈاکہ نامنظور کی صورت ہو یا ووٹ کو عزت دو کی صورت میں، گو نیازی گو کی شکل میں یا گو سلیکٹڈ گو کی خان صاحب کی مرہون منت ملک بھر میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے بلکہ ملک بھر میں وائرل ہو چکا ہے، جس کے لیے خان صاحب اور ان کے نت نئی گالیوں سے لیس جتھے داد تحسین کے مستحق ہیں، خاص طور پر پیپلز پارٹی کے کارکن جو یہ شکایتیں کرتے عام طور نظر آتے تھے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں گم ہو چکی ہے وہ خان صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں پنجاب بھر میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر اپنے پرانے جوبن پہ لانے میں مدد دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •