کورونا وائرس: بالی وڈ کے نامور ستاروں کی خواتین باڈی گارڈز مشکل میں کیوں؟

مدھو پال - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین باڈی گارڈز شاہ رخ خان کے ساتھ
Fehmida Ansari
حالیہ برسوں میں خواتین باڈی گارڈز کو بھی سکیورٹی کے شعبے میں روزگار ملنا شروع ہوا تھا
بالی وڈ ستارے جب بھی اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں یا اپنی فلموں کی شوٹنگ یا تشہیر، ایوارڈز کی تقریبات، شادیوں یا پارٹیوں میں جاتے ہیں تو وہ کبھی تنہا نہیں دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے ساتھ اکثر ان کے مستعد باڈی گارڈ یا محافظ ہوتے ہیں۔ ستاروں کی فین فالوونگ یا ان کی شہرت کی وجہ سے ان کو دیکھ کر لوگوں کا ہجوم جمع ہونے کے خدشے کی وجہ سے انھیں سکیورٹی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اکثر ان فلمی ستاروں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اکھٹا ہونے والا مجمع بے قابو ہو جاتا ہے۔

اکثر اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ جیسے ہی یہ ستارے عوامی مقامات پر پہنچتے ہیں تو لوگوں کا ہجوم ان پر ٹوٹ پڑتا ہے اور فنکاروں کو محفوظ رکھنے اور اسی ہجوم سے ان کی حفاظت کرنا ان محافظوں یا باڈی گارڈز کا کام ہوتا ہے جو ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اس کام کے لیے اکثر مرد باڈی گارڈز ہی ہوتے ہیں لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے خواتین کو بھی اس شعبے میں کام ملنا شروع ہو گیا ہے اور اب فلمی ستاروں کے پیچھے صرف مرد باڈی گارڈ ہی نظر نہیں آتے ہیں۔

بالی وڈ میں اب دھیرے دھیرے خواتین باڈی گارڈز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن کورونا کی وبا اور اس کے نتیجے میں نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان خواتین باڈی گارڈز کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ میں کورونا لاک ڈاؤن کے بعد فلموں پر کام دوبارہ شروع

کورونا: وہ وائرس جس نے بالی وڈ کی بھی کمر توڑ دی

کورونا وائرس سے کس طرح ٹھہر گیا ہے بالی وڈ

واضح رہے کہ کورونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد اپریل کے مہینے سے بالی وڈ کی بیشتر فلموں کی عکس بندی منسوخ کر دی گئی تھی اور مشکل سے ہی سنیما گھروں میں کوئی فلم ریلیز ہوئی ہے۔ لیکن اب گذشتہ دو ماہ قبل جب سے حکومت نے سنیما گھروں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے اور فلموں کے سیٹس پر رونق دھیرے دھیرے بحال ہو رہی ہے۔

ماضی کے مقابلے میں کم کام مل رہا ہے

فلموں کی عکس بندی دوبارہ بھلے ہی شروع ہو چکی ہے لیکن اشتہاری تقریبات کا اہتمام ابھی بھی نہیں ہو رہا ہے۔ لیکن آؤٹ ڈور شوٹنگ اور اشتہارات کی عکس بندی کے دوران سیٹس پر ستاروں کو تحفظ فراہم کرنے والے باڈی گارڈز اور باؤنسرز کو پہلے کے مقابلے کم لیکن دوبارہ کام ملنا شروع ہوا ہے۔

لیکن فلم انڈسٹری سے وابستہ خواتین باڈی گارڈز کو ابھی بھی کام کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

42 سالہ فہمیدہ انصاری بالی وڈ کی ایک معروف خاتون باڈی گارڈ ہیں۔

بی بی سی ہندی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ’مرد باڈی گارڈز کو کام مل رہا ہے لیکن خواتین باڈی گارڈز کے لیے کوئی کام نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمارا گزرا بھی مشکل سے ہو رہا ہے اور اگر یہی حال رہا ہے تو ہماری زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔‘

17 سال سے سنگل مدر ہوں‘

فہمیدہ انصاری کا کہنا ہے کہ وہ 17 برسوں سے اکیلے اپنی بیٹی کی پرورش کر رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے سابقہ شوہر نے کبھی پلٹ کر میری بیٹی کا حال نہیں پوچھا۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں کبھی دوبارہ شادی نہیں کروں گی اور اکیلے ہی اپنی بیٹی کی پرورش کروں گی۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ خاتون باڈی گارڈ کا کام کرنا چاہو گی؟ میں نے کہا ہاں، اور فلموں کے سیٹ پر کام کرنا شروع کر دیا اور فلمی ستاروں کی باڈی گارڈ بن گئی۔‘

فہمیدہ نے بالی وڈ کی فلمیں جیسا کہ ’زیرو‘، ’سپر 30‘، ’مردانی‘، اور ’کلنک‘ کے سیٹس پر فلمی ستاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ستاروں کے جنم دن کی پارٹیوں اور سونم کپور کی شادی کے دوران انھیں 24 گھنٹے سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھا چکی ہیں۔

بعض اوقعات فلم سٹارز کے لیے گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں

’پہلے یہ کام صرف مردوں کے لیے سمجھا جاتا تھا۔‘ فہمیدہ کا دعویٰ ہے کہ اس کام کے لیے خواتین کو سب پہلے موقع اداکار رونت رائے کی کمپنی ’اے سی آئی سکیورٹی اینڈ پروٹیکشن‘ اور رونت رائے کے ایک رشتے دار دیپک سنگھ کی کمپنی ’ڈوم سکیورٹی‘ نے دینا شروع کیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے ہم پر یقین کیا اور متعدد مواقع دیے۔ ان کے پاس بھی ہمارے لیے کوئی کام نہیں ہے۔ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ جب پروڈکشن ہاؤس کو ہی ہماری ضرورت نہیں ہے اور وہ ہمیں نہیں بلائیں گے تو ایجنسی بھی کام کہاں سے دے گی۔‘

لاک ڈاؤن کے بعد روزگار کے مواقع کے بارے میں فہمیدہ نے بتایا، ’صرف ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی نے ہمیں بلایا، کسی اور پروڈکشن ہاؤس نے ہمیں نہیں بلایا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کورونا صرف ہم خواتین کے لیے آیا ہے۔ یہ تو غلط بات ہے۔ اس طرح تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔ میرے ساتھ اور بھی خواتین باڈی گارڈز ہیں جو روز فون کرتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ کچھ کام آیا؟ ہمیں کچھ تو روزگار ملے۔‘

فہمیدہ کی طرح زرین شیخ بھی گذشتہ چار برسوں سے بالی وڈ میں ایک باڈی گارڈز کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں سپر30، زیرو، چھپاک اور کلنک جیسی بڑی فلموں کی شوٹنگ کے علاوہ متعدد بڑی تقریبات اور پارٹیوں میں حصہ لے چکی ہوں۔‘

ایک باڈی گارڈ کے کام کے بارے میں زرین بتاتی ہیں، ’ہمارا کام پر جانے کا تو ایک وقت مقرر ہوتا ہے لیکن آنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا ہے۔ گھنٹوں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ جب فلمی ستارے اپنی فلموں کی پروموشن کے لیے مالز میں جاتے ہیں تو وہاں مجمعے سے سٹارز کو بحفاظت نکالنا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ کئی بار بھیڑ ہمیں دھکا دیتی ہے، کئی بار ہم لوگوں پر غصہ کرتے ہیں تو لوگ ہمیں واپس گالیاں دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’لیکن اپنی اظہار محبت کے طور پر فلمی ستاروں پر کچھ نہ کچھ پھینک دیتے ہیں، اس طرح کی صورتحال میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ فلمی ستاروں کو چوٹ نہ لگے۔ ہمیں ان کا مکمل دھیان رکھنا پڑتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کوئی ان کے ساتھ زبردستی تصویر نہ لے لیں۔‘

گزرا کرنا مشکل

زرین کورونا کی وبا کے دوران اپنے خاندان کی گزر بسر سے متعلق مشکلات کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’میری دو بیٹیاں ہیں۔ میں اکیلی ان کی پرورش کرتی ہوں۔ فلم ’چھپاک‘ میری آخری فلم تھی۔ اس کے بعد مارچ میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ سات مہینوں سے گھر پر ہی ہوں۔ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد جب فلموں کی شوٹنگ دوبارہ شروع بھی ہو گئی ہے تو یہ فلم پروڈکشن والے ابھی بھی خواتین باڈی گارڈز کو نہیں بلا رہے ہیں۔‘

زرین مزید کہتی ہیں کہ ’اگر مستقبل میں بھی یہی صورتحال رہی تو ہمارے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ فلم انڈسٹری میں ہمارےحقوق کے تحفظ کے لیے کوئی تنظیم نہیں ہے۔ فلم انڈسٹری سے وابسطہ دیگر ملازمین کو مختلف کونسل اور تنظیموں کے ذریعے مدد مل رہی ہے لیکن ہمیں کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں مل رہی ہے۔‘

تین سال سے باڈی گارڈ کی حیثیت سے کام کرنے والی سنیتا نِکلجے کو بالی وڈ انڈسٹری میں کام کرنا پسند ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے کنبے میں میری ساس، سسر، دو بچے اور ایک شوہر ہیں۔ کچھ برس قبل میرے شوہر ایک حادثے میں زخمی ہو گئے تھے اور ان کے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ گذشتہ چند برسوں سے گھر کی ذمہ داری میرے کندھے پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ملازمت کرنی پڑی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے اور میرے خاندان والوں کو میری یہ نوکری بہت پسند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہت عزت ملتی ہے۔ میرے گھر والے بہت خوش ہوتے ہیں جب وہ اپنے رشتہ داروں سے کہتے ہیں کہ میں فنکاروں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہوں۔ اس ملازمت میں تنخواہ بھی بہت اچھی ملتی ہے اور فنکار بھی ہمارا احترام کرتے ہیں اور عزت دیتے ہیں۔‘

‘کئی بار ضرورت سے زیادہ دماغ لگانا پڑتا ہے‘

سنیتا کا کہنا ہے کہ فلم کے سیٹ پر گرم مزاج نظر آنا ضروری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں سیٹ پر تھوڑا سخت رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ جب شوٹنگ جاری ہوتی ہے تو بعض جونیئر فنکار موبائل سے تصاویر کھینچتے ہیں لہذا ہمیں سیٹ پر سب کی تلاشی لینی ہوتی ہے اور لوگوں کے موبائل ضبط کرنے پڑتے ہیں۔‘

’جب بھی آؤٹ ڈور شوٹنگ ہو رہی ہوتی ہے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہاں شوٹنگ چل رہی ہے؟ تو ہمیں ان سے یہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے کہ جنوبی انڈیا کی فلم ہے اور ہیرو نیا ہے کیونکہ اگر ہم انھیں بتائیں گے کہ ہیرو شاہ رخ خان ہیں تو وہ پورا دن کھڑے رہیں گے اور ہمیں بھی ہراساں کریں گے، لہذا ہمیں کئی بار ضرورت سے زیادہ دماغ لگانا پڑتا ہے۔‘

کورونا تفریق نہیں کرتا؟

سنیتا کا کہنا ہے کہ کورونا اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نے ہماری تمام بچت کی ہوئی رقم خرچ کروا دی۔ میری پروڈکشن ہاؤس سے واحد التجا ہے کہ کورونا نے مردوں کے مقابلے ہماری طاقت کو کم نہیں کیا ہے۔ کورونا کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر رہا ہے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ پروڈکشن ہاؤس جان بوجھ کر ان خواتین باڈی گارڈز کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔ حقیقت میں فلمی دنیا کی تقریبات میں واضح کمی آئی ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری سے منسلک لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان خواتین باڈی گارڈز کو معاشی کا بحران کا سامنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17331 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp