کیوں اور کیسے؟ وزیراعظم عمران خان کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو
جمہوری دور میں پاکستان کی تمام تر سیاسی حکومتوں کو سیاسی میدان میں اور میڈیا کے محاذ پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے تو تب سے لے کر آج تک سیاسی محاذ پر اسے اپوزیشن جبکہ دوسری جانب میڈیا کی وجہ سے خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے یہاں تک کہ میڈیا میں وہ لوگ جو تحریک انصاف کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں وہ بھی حکومتی پالیسیوں پر نالاں نظر آتی ہے۔ دوسری جانب حکومتی میڈیا ٹیم یا ترجمانوں کی فوج بھی تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی اور حکومت کو درپیش چیلنجز کو صحیح طریقے سے عوام کے سامنے لانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کا ووٹر بھی اضطراب کا شکار ہے۔
ایسے میں جب حکومتی ٹیم حکومت کی پالیسیوں کو عوام کے سامنے لانے میں ناکام ہوئی تو وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ آپ خود ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں اسی وجہ سے وزیراعظم حالیہ کچھ دنوں سے ہی ٹی وی انٹرویوز میں اپنی حکومت کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم سے ان انٹرویوز میں خاصے تند و تیز سوالات کیے گئے جن میں سے کئی ایک کا جواب تو انہوں نے دیا لیکن کچھ باتیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے کچھ نئے سوالات کو جنم دیا۔
وزیراعظم نے اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کہا کہ مقصد کے لئے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے نہ کہ مقصد پر سمجھوتا کر لیا جائے۔
ہمارے وزیراعظم صاحب ایک عرصہ دراز سے اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ وہ اداروں میں اصلاحات اور عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی بات کرتے رہے ہیں اور وہ اداروں میں اصلاحات لانا بھی چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ کرپشن اور سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہوتے ہیں۔ وہ اہم سیاسی و انتظامی عہدوں پر میرٹ پر تعیناتیوں کے بات بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ سب کام انہیں اقتدار میں آ کر کرنا تھے لیکن الیکشن سے قبل اپنی ہی جماعت میں ان لوگوں کو شامل کر بیٹھے جن پر ماضی میں خود تنقید کیا کرتے تھے۔
اقتدار میں آنے کے لئے انہیں یہ کڑوا گھونٹ بھی بھرنا پڑا کیونکہ اقتدار میں آئے بغیر اسلامی فلاحی ریاست نہیں بنائی جا سکتی تھی اور اس مقصد کے لئے سمجھوتا کرنا چونکہ ضروری تھا تو یہ سب بھی کیا لیکن ساتھ دیگر کئی وعدے بھول گئے۔ سیاسی و انتظامی عہدوں پر ایسی تعیناتیاں کیں جن کی وجہ سے عمران خان اور ان کی حکومت روزاول سے ہی تنقید کی زد میں ہیں۔ ظاہر ہے لوگ تو پوچھیں گے کہ جناب آپ خود میرٹ کی بات کرتے رہے ہیں تو پھر یہ الیکٹیبلز اور نان الیکٹڈ لوگ آپ کے ساتھ کیوں؟
کیا یہ کوالیفائڈ ہیں یا بہترین پروفیشنلز؟ اور کیا پاکستان کے 22 کروڑ عوام میں آپ کو چند لوگ بھی اس قابل نظر نہیں آتے جو متعلقہ شعبے یا اداروں میں لگائے جا سکتے ہوں جہاں آپ نے ان کو لگایا ہوا ہے؟
اگر یہ بات ہے تو ادارے تو کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے کیونکہ آپ ہی یہ کہتے تھے کہ سیاسی مداخلت، کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ ادارے تباہ ہوتے ہیں تو آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو ماضی کے حکمران کرتے رہیں ہیں۔ بھلا پھر آپ میں اور ان کیا فرق ہوا؟ آپ اپنی سیاسی و انتظامی عہدوں پر کی جانے والی ان تعیناتیوں کا دفاع اگر عوام کو یوٹرن کے فضائل سنا کر یا یہ کہ کر کریں گے کہ صرف یہی تجربہ کار لوگ ہیں اور ان سے زیادہ قابل ہے کوئی نہیں ہے تو لوگ کبھی بھی ماننے کو تیار نہ ہوں گے کیوں کہ پاکستان کے عوام اس حوالے سے آپ کے عوام کو اس حوالے سے دیے والے وہ لیکچرز یاد ہیں جو دھرنوں اور جلسوں میں آپ پاکستانی عوام کو دیا کرتے تھے۔
باقی رہی بات صحت، تعلیم روزگار انصاف کی تو آپ لوگوں کو صحت کارڈ اور ہیلتھ انشورنس کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں لوگوں کی اکثریت زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے اور یہ غریب لوگ ہیں جن کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے وہ حکومت کے ان اقدامات سے سرے سے نالاں ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جنہیں علاج معالجے کے لئے حکومتی سطح پر امداد کی اشد ضرورت ہے۔ میں ذاتی طور پر ایسے لوگوں سے مل چکا ہوں جن کے گھر میں اگر کوئی مریض ہوتا ہے تو وہ اس کے علاج کے لئے دوسرے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔
حکومت ایسے لوگوں کے لئے کچھ ایسے اقدامات کرے جن کی بدولت یہ لوگ حکومت کے ان اقدامات سے براہ راست استفادہ حاصل کر سکیں۔ اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو حکومت کو یہ بات عوام کے لانا ہو گی کہ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لئے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ میں سمجھتا تعلیمی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر ہم کسی بھی صورت دنیا کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں گے کیونکہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے لیکن شاید ہم اب تک ہر شعبے میں بہترین پروفیشنلز تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی بات کرتے تھے جب کہ حکومت بعد میں حکومت کے اپنے لوگ یہ کہتے نظر آئے کہ حکومت کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی، روزگار دینا تو پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو کیا پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں اتنی سکت موجود ہے کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرے؟ اگرچہ اس مسئلے کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے حکومت عوام کے سامنے ایک روڈ میپ رکھے اور بتائے کہ یہ کیسے ممکن ہو پائے گا تاکہ عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کو کم کیا جاسکے۔
انصاف کی فراہمی تحریک انصاف حکومت کے منشور کا ایک اہم حصہ تھا لیکن بدقسمتی سے نئے پاکستان میں بھی غریب اور امیر کے لئے الگ الگ قوانین موجود ہیں۔ امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قوانین موجود ہیں۔ امیر اگر سزا یافتہ مجرم ہو اور بیمار ہو جائے تو اس کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ بنے، پاکستان کے ماہر ڈاکٹر اس کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں اگر پاکستان میں علاج ممکن نہ تو باہر جانے کی سہولت اور یہ کہ وہی امیر باہر جا کر ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف بیان بازی کرتا ہے، ریاست و حکومت یہاں بے بس ہو کر رہ جاتی ہے جبکہ دوسری جانب غریب سالہاسال جیل میں سڑتا ہے اس کے لئے کوئی میڈیکل بورڈ نہیں بنتا اور نہ باہر جانے کی سہولت ہوتی ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ نواز کو باہر بھیجنے کے حوالے سے ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ صرف ان کی بیماری دیکھ کر کیا لیکن کیا یہ تمام تر سہولیات ایک عام آدمی کو میسر ہیں؟
ایک امیر اگر جیل میں ہو اور اس کے گھر میں خدانخواستہ کوئی اس کا عزیز فوت ہو جائے جائے تو اس کے لیے پیرول پر رہا کرنے کی سہولت میسر ہے جبکہ غریب آدمی کے لئے ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے، کیا یہ تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی نہیں ہے؟
وزیراعظم احتساب کی بات کرتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں پر کیسسز ہم نے نہیں بنائے، یہ ان کے سابقہ ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف بنائے گئے اپنے ہی کیسسز ہیں ہم نے تو نہیں بنائے لیکن جناب وزیراعظم احتساب کے نام پر میڈیٹ تو آپ لے کر آئے تھے، آپ نے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور وہ سارا پیسہ عوام پہ خرچ کرنا تھا، یہ اب تک کیوں نہیں ہو سکا؟ آپ کی حکومت پر یہ بھی الزام ہے کہ آپ اپوزیشن کا احتساب کرتے ہیں لیکن آپ کی اپنی جماعت میں ایسے لوگ شامل ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ تب آپ کہتے ہم نے اپنے لوگوں پر انکوائری کی اور کچھ کو اس طرح کے الزامات پر فارغ بھی کیا تو کیا جناب وزیراعظم حقائق عوام کے سامنے لائے گئے کہ کس نے کہاں کتنی کرپشن کی اور قانون کے مطابق کتنی اس کو کیا سزا ملی؟
ہمارے ملک کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں احتساب اور انتخاب ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے کیونکہ جب بھی کسی کی اوپر بھی ہاتھ ڈالا جاتا تو وہ اس کو ماننے کو تیار نہیں ہوتا، خواہ وہ حکومتی جماعت کا رکن ہو یا اپوزیشن کا اور نہ ہی پاکستان میں کسی سیاسی جماعت نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب اور انتخاب کے عمل کو شفاف اور غیر متنازعہ بنایا جائے جس پر کوئی بھی شخص انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ سب کے لئے قابل قبول ہو۔
عمران خان نے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ لانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے جس پر ان کو داد دینی چاہیے اگر اس فیصلے پر عملدرآمد ہوتا ہے اس سے سیاسی نظام میں بہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے لیکن جانبدارانہ احتساب کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں لہذا وزیراعظم بے لاگ اور غیر جانبدار احتساب کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اس کے بغیر بھی تو تحریک انصاف کا حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


