چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

جس نے بھی ”سگریٹ نوشی کے نقصانات“ پہ سکول کے زمانے میں مضمون رٹا تھا اسے شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا دوسرا مصرعہ ضرور یاد ہو گا۔ یہ شعر ویسے تو دختر رز (انگور کی بیٹی) کے متعلق ہے لیکن دوسرا مصرع کسی بھی قسم کی علت کے لئے صادق آتا ہے چاہے وہ بادہ خواری ہو یا سگریٹ نوشی۔

ریل گاڑی، کرکٹ، چائے، انگریزی زبان، سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کی طرح سگریٹ نوشی کو برصغیر میں روشناس کروانے کا سہرا بھی انگریز حکومت کے سر ہے۔ اس خطے کے لوگوں کو تمباکو بیڑی اور سگریٹ پہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہی لگایا

مارک ٹوین ایک امریکی مصنف ہیں اور ان کے اقوال مزاح سے بھرپور ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے متعلق ان کا ایک قول ہے کہ ”سگریٹ نوشی چھوڑنا اس قدر آسان ہے کہ میں ہزار بار چھوڑ چکا ہوں“ اسی آسانی کے سبب ہمارے کئی دوست کئی بار سگریٹ نوشی ترک اور پھر دوبارہ شروع کر لیتے ہیں۔

لوگ سگریٹ کیوں پیتے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس کے نتائج و نقصانات کیا ہوتے ہیں، سگریٹ پینے والے اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اور سگریٹ کی ڈبی پر بھی تصویری اور تحریری انتباہ درج ہوتا ہے لیکن لوگ پھر بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ اس انتباہ سے متعلق ایک لطیفہ بھی ہے۔

بعض سگریٹ کی ڈبیوں پہ لکھا ہوتا ہے تمباکو نوشی کینسر کا سبب بنتا ہے۔ بعض پہ لکھا ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی نامردی کا سبب بنتا ہے۔ ایک شخص نے سگریٹ کی ڈبی خریدی اور جب کھولنے لگا تو اس پہ یہ انتباہ درج تھا ”تمباکو نوشی نامردی کا سبب بنتا ہے“ وہ صاحب دکان پہ واپس گئے اور دکاندار سے کہا کہ یہ واپس لو اور کینسر والی ڈبی دے دو۔ تحریری انتباہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سگریٹ پینے والے کو صرف وہی بیماری لاحق ہو سکتی ہے جو اس ڈبی پہ درج ہے بلکہ کسی بھی قسم کی بیماری خدانخواستہ لگ سکتی ہے۔ لیکن کچھ چیزوں پہ ہماری قوم بالکل سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، ہماری قوم کینسر کروانے کو تیار ہے مگر قوت باہ پہ کسی صورت آنچ نہیں آنے دے گی۔

سگریٹ کے حوالے سے ایک اور myth ہے کہ سگریٹ پینے والا بوڑھا نہیں ہوتا کیونکہ وہ جوانی میں ہی مر جاتا ہے۔ لیکن میں نے اپنی زندگی میں کسی کو سگریٹ نوشی کے ہاتھوں جوانی میں مرتے نہیں دیکھا، ہاں البتہ ”نوشی“ پہ کئی لوگوں کو جوانی میں مرتے دیکھا ہے۔

تم جو کہتی ہو چھوڑ دو سگریٹ
تم میرا ہاتھ تھام سکتی ہو (جون)

جون ایلیا نے اپنی محبوبہ کو اسی امتحان میں ڈالا جس میں ان کی محبوبہ ان کو ڈالنا چاہ رہی تھی۔ نہ محبوبہ نے ہاتھ تھاما اور نہ ہی جون ایلیاء نے سگریٹ نوشی ترک کی۔ یہاں تک کہ مشاعرہ میں اپنا کلام پڑھتے ہوئے بھی وہ سگریٹ پیتے رہتے تھے اور کسی کو انہیں روکنے کی جرات نہ ہوتی۔

اس ضمن میں مرحوم جنرل ضیاء الحق کا بھی سگریٹ نوشی کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ ضیاء الحق نے ایک بار ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے ملٹری سکریٹری کے دفتر میں اچانک آتے دیکھ کر اپنی سلگتی سگریٹ کوٹ کی جیب میں ڈال لی تھی اور جب بھٹو ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے چلنے لگے اور ان کے کوٹ سے دھواں اٹھنے لگا، تووہ بوکھلا گئے۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملازم سے کہا تھا کہ ’ایسا بزدل جنرل محاذ پر کیا کرے گا؟‘ محاذ جنگ کا تو پتا نہیں لیکن محاذ حکومت پہ انہوں نے جو گل کھلائے، وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔

ایک بھائی صاحب سگریٹ پینے کی یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ جنت میں حور و غلمان، دودھ اور شراب کی نہروں کا وعدہ تو کیا گیا ہے لیکن بیڑی، سگریٹ اور تمباکو کے کھیتوں کی بشارت جنت کے حوالے سے نہیں کی گئی اس لیے وہ دنیا میں ہی اس نعمت خداوندی سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ اسی محفل میں بیٹھے ایک اور دوست کہتے ہیں کہ اگر چیز اچھی ہوتی تو خدا جنت میں بھی دیتا۔

ایک خاص قسم کی سگریٹ شعیب اختر بھی پیا کرتے تھے اپنے باولنگ کے زمانہ عروج پر اور کئی دفعہ ان کے ڈوپ ٹیسٹ بھی مثبت آئے۔ Need for Speed کے سلسلے کو وہ Weed for speed سے آگے بڑھاتے تھے۔ پتا نہیں اب بھی پیتے ہیں یا نہیں لیکن چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔

آپ کو 90 کی دہائی کی وسیم اکرم کی وہ مشہوری یاد ہو گی جس میں انہیں پارک کے متعدد چکر لگاتے دکھایا جاتا ہے اور آخر میں ایک بچہ ان سے پوچھتا ہے کہ ”وسیم بھائی، آپ تھکتے نہیں ہیں“ تو وسیم جواب دیتے ہیں ”جی میں سگریٹ نہیں پیتا“ میں بھی جاگنگ کرتے ہوئے نہیں تھکتا اور عرصہ ہائے دراز سے کر رہا ہوں لیکن اس کمینے بچے نے مجھ سے کبھی آ کر نہیں پوچھا کہ میں تھکتا ہوں یا نہیں! شاید وہ بچہ اب خود سگریٹ پہ لگ چکا ہے۔

ایک صاحب نے اپنے دفتر میں سگریٹ نوشی کے حوالے سے نہایت دلچسپ انتباہ لگایا ہوا تھا۔ عبارت کچھ ایسی تھی
You may inhale cigarette in my office but can ’t exhale
یعنی کہ ان کی طرف سے یک طرفہ سگریٹ نوشی کی اجازت تھی۔ مطلب یہ کہ آپ انکار ہی سمجھیں۔

اس تحریر کو نہ ہی سگریٹ نوشی کے موافق سمجھا جائے اور نہ ہی مخالف۔ مجھے ذاتی طور پر سگریٹ پینا پسند نہیں لیکن میرے احباب کی اکثریت سگریٹ پیتی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ سگریٹ پینا چاہے اچھی عادت نہ ہو لیکن سگریٹ پینے والے لوگ اکثر مزاج کے اچھے ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •