آہ۔ پروفیسر حسن صاحب بھی چلے گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اور دل یہ بات تسلیم کرنے کو تیار بھی نہیں ہے کہ وہ شخص جس نے مجھے اردو زبان سکھائی وہ داغ مفارقت دے گئے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اردو کی الف ب ہم نے سیکنڈ ائر میں سیکھی۔ اور میرے استاد پروفیسر حسن عظیم ورک اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا کے ساتھ ہی عزرائیل بھی اپنی ڈیوٹی پر مامور ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کہنا مناسب ہے لیکن جب عزرائیل ہمارے پاس آئے تو اس سے احتجاج ضرور کریں گے کہ ظالم ایسی بھی کیا جلدی تھی۔

ابھی میڈیا کولیگز ارشد وحید چوہدری، شاہ نواز موہل اور دفتر خارجہ کے سینئر سفارتکار وحید الحسن کی موت کے غم میں نڈھال تھے اور آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ پروفیسر حسن عظیم ورک کی وفات کی خبر مل گئی۔ کوئی دو ہفتے قبل جب میں ارشد وحید چوہدری، شاہ نواز موہل اور وحید الحسن کی وفات کے بعد کالم لکھا تو درستگی کے لئے پروفیسر حسن عظیم ورک صاحب کو بھیجا۔ جب واٹس ایپ سے جلدی رسپانس نہ ملا تو میں نے فون کیا۔ فون پر بات کرتے ہوئے ان کی آواز سے محسوس ہو رہا تھا کہ سانس کا مسئلہ ہے، میرے دریافت کرنے پر کہنے لگے کہ کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور علاج جاری ہے۔

پروفیسر حسن صاحب اسلام آبا دمیں فیڈرل کالج برائے فار بوائز ایچ نائن میں شعبہ اردو کے سربراہ تھے ابھی چند ماہ قبل انہیں سرکار نے گریڈ 20 میں ترقی دی تھی۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ گزشتہ ماہ جب تعلیمی ادارے پھر سے شروع کیے گئے تو سرکاری طور پر ملازمین کے 15 تاریخ کو کرونا کے ٹیسٹ کروائے گئے مگر رپورٹ کا انتظار کیے بغیر 16 تاریخ کو کلاسز میں تدریس کے لئے بھیج دیا مگر طلباء اور دیگر عملے کے کرونا ٹیسٹ نہ کروایا گیا۔

بعد ازاں کچھ پروفیسرز اور طلباء کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ پروفیسر حکومت کے اس فیصلے پر نالاں تھے کہنے لگے اگر ڈاکٹرز فرنٹ لائن پر کام کر رہے ہیں تو اساتذہ بھی فرنٹ لائن پر ہیں مگر حکومت کی جانب سے عدم توجہ کا شکار ہیں۔ حکومت اگر اساتذہ کو اضافی الاؤنس نہیں دے سکتی تو حفاظتی اقدامات کے لئے تو مراعات دی جائیں۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ بیماری کے دوران علاج معالجہ بھی اپنے خرچے پر کرنا پڑتا ہے۔ میرے پاس ان کی تکلیف کا کوئی حل نہیں تھا سوائے ہمدردی کے چند بول۔

اب کیا کیا جائے حکومت تو ہر کام سے بری الذمہ ہے اور کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں، ہم خود ہی ہر کام کے قصوروار ہیں۔ پروفیسر صاحب کے ساتھ میرا تعلق لڑکپن سے ہے۔ اس وقت فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج، گوجرانوالا چھاؤنی میں سیکنڈ ائر کے آخری چند ماہ باقی تھے کہ اردو کی استاد محترمہ درنجف زیبی کا تبادلہ ہو گیا تو حسن عظیم ورک اردو کے نئے استاد تعینات ہو گئے۔ حسن صاحب نے غالباً تعلیم مکمل کر کے پہلی بار پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ کالج کے طلباء کے ساتھ جلدی مانوس ہو گئے۔ جوانی کے اوائل میں دھیمے مزاج مگر کہنہ مشق استاد کی شاگردی نصیب ہوئی۔ سیکنڈ ائر کے بعد اردو کا مضمون تو نہ پڑھتے تھے مگر حسن صاحب کی شاگردی جاری رکھی۔ موبائل فون تو موجود ہی نہیں تھے بلکہ ٹیلی فون کی سہولت بھی کم ہوا کرتی تھی۔ چھٹیوں کے دوران جب وہ واپس گاؤں جایا کرتے تو ہمارا خط و خطابت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور میں نے حسن صاحب کے لکھنے کے سٹائل کو کاپی کرنا شروع کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ میرے ایک رشتہ دار کیمرون سیموئل میرے خطوط کو غالب کے خطوط کا نام دیا کرتے تھے۔ میں ان کے اس وقت کے شاگردوں میں شاید واحد شاگرد تھا جو گوجرانوالہ سے ان کی شادی میں شرکت کے لئے شیخوپورہ کے ایک گاؤں دھامونکی ورکاں پہنچا۔ شادی کے بعد ان کی تعیناتی فیڈرل کالج ایچ نائن ہو گئی اور وہ وفاقی دارالحکومت منتقل ہو گئے۔ اس دوران جب بھی ہمارا اسلام آباد کا چکر لگتا تو انہی کے ہاں قیام ہوتا تھا۔ 2003 ء کے آس پاس جب روزگار کی غرض سے ہم نے بھی پہاڑوں کا رخ کیا تو ہمیں اس شہر میں کوئی نہیں جانتا تھا ایسی صورت میں پہلی واقفیت والی شخصیت یہی تھے۔

اس دوران ان کی راہنمائی حاصل ہوتی رہی، مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ میڈیا کی جانب چلے جاؤں ’وہ دیکھوں ناں، سہیل رانا، ہر کانفرنس میں اگلی نشستوں پر براجمان ہوتا ہے ”سہیل رانا ایف جی بوائز ہائی سکول میں ہمارے سے چار پانچ کلاس سینئر ہوا کرتے تھے، لیکن میڈیا میں وارد ہونے کے بعد ان کے ساتھ باقاعدہ تعارف ہوا۔ جب میں نے میڈیا جوائن کیا تو میں نے پروفیسر صاحب کو کالم لکھنے کے لیے بہت اکسایا مگر وہ فرق طبعیت کے مالک تھے۔

اردو کے کالم میں تصحیح کر دیا کرتے۔ پنجاب کے اس جٹ پتر کی آنکھوں میں حیاء اور لہجے کی نرمی، شائستگی اور دھیرجتا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ ایسی معراج کو پہنچنے کے لئے چلے کاٹنے پڑتے ہیں۔ کرونا اور عزرائیل اپنے اپنے کام لگے ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کون جیتتا ہے، ہرچند کہ کرونا اور عزرائیل کے اس وار نے گھاؤ گہرا دیا ہے، لیکن ہم بھی جیتے جانے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں۔ مرتا وہی ہے جو موت کو مان لے۔ مگر ہم جئیں گے، یادوں میں جئیں گے، آوازوں میں جئیں گے، محبت کے احساس میں جئیں گے۔ میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے ہیں اور درستگی کے لئے پروفیسر حسن عظیم ورک موجود نہیں۔ آپ ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •