کرونا بنا ہمارا دوست، ہمارا دشمن۔


دوستو، آپ سے کرونا کے حوالے سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں، کرونا ہمارا دشمن ہے جان لیوا ہے نہیں نہیں اففف اللہ یہ کیا کہہ دیا بھائی یہ تو ہمارا دوست ہے۔ مگر دوست بھی تو نہیں کہہ سکتی سننے میں آیا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے مگر مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کرونا کوئی وائرس ہے یا جادوگر؟ کرونا پوچھ کر جاتا ہے کہ میں اس جگہ آ سکتا ہوں یا نہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ کرونا نہیں لیکن دوستو۔ وائرس میں بھی سیاست اففف اب میں ان لوگوں سے کیا کہوں۔ جب سے ملتان میں جلسہ ہوا میں تو سکتہ میں ہوں کیونکہ اگر وائرس ہے تو پھر سب پڑھے لکھے جاہل ہیں کیونکہ اس جلسہ میں بڑے بڑے عظیم لوگ تھے چالیس سال سابقہ وزیراعظم۔ وا اہ میرے مولیٰ۔ تیری عظمت کو سلام۔ انسانوں کے کالے کرتوتوں کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے جس نے ان پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے مریم نواز بی بی، ٹھیک کہا کہ جدھر پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا کرونا پوچھتا ہے کہ جاؤں یا نہیں۔

اوہ بی بی تیرے جلسہ میں بھی اس نے پوچھا تھا؟ اور آصفہ بھٹو صاحبہ، ۔ واہ واہ واہ بھائی صاحب کرونا میں مبتلا ہیں قرنطینہ میں ہیں تو وہ جلسہ میں شرکت نہیں کر سکتے اور آصفہ بی بی جلسہ کی رونق بنتی ہے میرا کسی پارٹی سے کوئی ذاتی لگاؤ، ہمدردی نہیں ہے میرے لیے سب معتبر ہیں۔ مگر ایک سوال ہے جب آصفہ بھٹو جانتی ہیں کہ کرونا پھیل رہا ہے ان کے بھائی کرونا میں مبتلا ہیں تو پھر اتنے بڑے جلسہ میں کیوں شرکت کی۔

صرف سیاست کی خاطر۔ سب عظیم، معتبر، دانشور ہستیاں جلسہ میں شامل تھیں۔ یوسف رضا گیلانی صاحب ماسک لگانے سے کرونا کو روک رہے ہو۔ اوہ ہوووو میں تو بھول گئی کرونا ہمارا دوست ہے۔ فضل الرحمن صاحب، سڑکوں پہ دھرنا دیتے رہے شاید اس لیے کرونا ان سے واقف ہے سب سیاسی پارٹیوں کا کرونا دوست ہے ان کے تو پاس بھی نہیں بھٹکتا ہے۔

اوہ نہیں نہیں میں تو بھول گئی اصل میں تو کرونا بھی امیر، غریب کو دیکھتا ہے۔ ہاں بڑے لوگوں کے پاس کرونا دوست بن کر جاتا ہے کیونکہ وہ تو بڑی ہسپتال میں جا کر کرونا کی ٹکٹ کروا دیتے ہیں ان کے ٹھکانے تک پہنچا آتے ہیں ان کو تو کرونا کے ٹھکانہ کا پتہ ہے کرونا جب غریب کے پاس جاتا ہے تو ان کے پاس تو کرونا کو ہسپتال تک چھوڑنے کا کرایہ نہیں ہوتا ٹکٹ تو بہت دور کی بات ہے۔ ہمارے پاک میں جو امیر لوگ ہیں وہ تو امیر سے امیر ترین ہوتے جا رہے ہیں اور جو غریب ہیں وہ غریب سے غریب ترین ہوتے جا رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری ( عوام) کی نہ اہلی ہے جو ہم سیاسی لوگوں کے تلے دبے ہوئے ہیں اوہ میرے بھائی بہنو سب دوستو، ہماری سانس کی ڈوری صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں آزاد خیال رکھیں خود کو پہچانو، کہ ہم کون ہیں؟

کیا کر رہے ہیں؟ سیاسی لوگوں کے چمچو تم لوگ بھی ایک بات یاد رکھیے گا تم لوگوں کا جب چمچ ٹوٹا تو وہ کہیں کا نہیں رہے گا ٹوٹا چمچ کسی کام کا نہیں ہوتا کیونکہ غلامی موت کے برابر ہے اور غلامی کرنے والے چمچے انھیں تو انسان کہنا بھی انسان کی توہین ہے۔ بڑے لوگوں کی کانفرنس، شادی ہال کسی جگہ کرونا نہیں جاتا اور غریب بیچاروں کی چھوٹی سی جھونپڑی والی دکان پہ بھی پہنچ جاتا ہے واہ واہ تالیاں ں ں۔ سکول، کالجز، یونیورسٹی والو کرونا ہمارا دوست نہیں ہے ہمارا دشمن ہے کرونا کسی سیاسی پارٹیوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا دوست ہے۔

دوستو! کرونا کی خطر ناک لہر بہت تیزی سے پھیل رہی ہے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ماسک پہنیں سینی ٹائزر کا استعمال کریں رش والی جگہوں پر نہ جائیں سکول، کالجز، یونیورسٹیوں اور غیر ضروری بازاروں میں گھومنے پھرنے سے اجتناب کریں ہاں مگر سیاسی جلسوں میں شرکت کرنا نہ بھولیے گا ادھر شرکت کرنا ثواب ہے اور اس کا اجر ملے گا سیاسی جلسہ میں جاؤ گے تو کرونا آپ سے واقف ہو جائے گا دوست بن جائے گا پھر آپ کو کچھ نہیں کہے گا پھر آزاد گھومیے گا۔ اور ہاں جیسا کہ پہلے بتا چکی ہوں کہ کرونا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کریں تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔ خدارا اپنی حفاظت کریں۔

ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں جو کہ پہلے بھی سردیوں میں نہیں پیتے تھے زکام کے ڈر سے۔ ہاہاہا

برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں جیسا ہر سردیوں میں ہوتا چلا آ رہا ہے ورنہ زکام لگ جائے گا پھر جوشاندہ پئیں سادہ گرم پانی کا بھاپ لیں، انڈے کھائیں، انجیر کھائیں، بادام کھائیں، لونگ، الائچی، دارچینی کا قہوہ پئیں، مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کراور پھر کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں مگر دوستو ایک ذاتی مشورہ ہے چھینک نہیں ماریے گا کرونا آواز سن لے گا جس کا مہنگا معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ میرا سب سیاسی پارٹیوں سے ایک معصومانہ سا سوال ہے کرونا صرف آپ لوگوں کا دوست کیوں ہے کیا ہمارا نہیں بن سکتا؟

میں یہ نہیں کہتی کرونا نہیں ہے بالکل ہے مگر میڈیا نے اس کرونا میں مرچ مصالحہ تیز کر رکھا ہے اور دوسری بات کوئی بھی سیاسی پارٹی عوام کے ساتھ نہیں ہے وہ صرف اور صرف اپنے اپنے مفاد میں لگے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے جس کی وجہ سے عوام پس رہی ہے عوام بیچاری سیاسی زد میں آئی ہوئی ہے مگر میرا اب میں ایک معصومانہ سوال عوام سے کرنا چاہتی ہوں کیا ایسا ہو سکتا ہے ساری عوام اجتماعی شکل اختیار کر لے اور ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی کو نہ دے۔ عوام اپنا نمائندہ اپنی عوام سے ہر صوبہ کا الگ سے ایک سربراہ چن لے۔ کیونکہ حکومت کی رسی تو عوام کے ہاتھ میں ہے تو کیا یہ رسی عوام چھین سکتی ہے؟ رسی چھینے سے کرونا بھی کیا پتہ راستہ بھٹک جائے کہیں ٹھکانے لگ جائے۔

اور آخر میں ایک میرا خود سے ہے مجھے پاکستانی ہونے پہ فخر ہے اگر ہاں تو کیوں۔ جب کہ میں تو جانتی ہوں کہ برے وقت میں بھی ہمارے حکمران ہمارے نہیں ہیں۔ اور اگر مجھے فخر نہیں ہے تو کیوں نہیں۔ کیا میں، قائداعظم جیسی عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو بھول گئی ہوں۔

دوستو! پتہ نہیں ہم کون ہیں پہچانیے خود کو کہیں دیر نہ ہو جائے۔

Facebook Comments HS