دھرتی پر بوجھ
اس کی ماں کی یہ دوسری شادی ہے۔ پہلی شادی اس کے باپ کے ساتھ ہوئی تھی۔ جبکہ اس کی پھوپھی کی شادی اس کی ماں کے وٹے پر ہوئی یعنی کہ اس کے ماموں کے ساتھ۔ اس کے ننھیال میں وٹے سٹے کی شادی کا رواج تھا۔ لیکن ماموں کا دل تو کسی اور جگہ اٹکا ہوا تھا۔ دراصل ماموں کو پنے یار کی بہن پسند تھی۔ لیکن ماموں کے ہاں وٹے سٹے کی شادی کا رواج تھا لہذا ماموں کی شادی اپنی محبوبہ سے نہ ہو سکی۔ جس کا غم ماموں کو بھلائے نہ بھولتا اور محبوبہ سے شادی نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب ماموں کی ہڈ حرامی تھی۔
ماموں کسی ایک جگہ ٹک کر محنت مزدوری نہ کرتے۔ مستقل مزاجی سے یوں سمجھیں کہ دور دور تک ماموں کا کوئی ناتا نہ تھا۔ ماموں مہینے کہ دو ہفتے کام کرتے جبکہ باقی کہ دو ہفتے گھر پر آرام فرماتے۔ جب تک جیب میں پیسہ رہتا تب تک گھر پر آرام کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سے بھرپور استفادہ حاصل کرتے۔ لیکن جیسے ہی پیسے ختم ہوتے تو اک نئے کام کی تلاش میں در در کی خاک چھاننے نکل پڑتے۔ ماموں کے یار نے بہن سے شادی کروانے کی کچھ شرائط رکھ دیں۔
کہ حق مہر کی صورت میں تم دو تولہ زیور اور پانچ مرلے کا گھر ہماری بہن کے نام کرو گے تو تب ہی ہم اس شادی پر راضی ہوں گے۔ ماموں تو تھے ہی صدا کے کنگلے لہذا اس کنگلے پن کی وجہ سے محبوبہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور یوں اس کی ماں اور پھوپھی کی شادی وٹے سٹے کے تحت ہو گئی۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جبکہ اس کے دو بھائی پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئے۔ اور پھوپھی بھی دوران زچگی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اس کے والدین کے درمیان لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ تو روز کا معمول تھا۔
لیکن اس دن تو حد ہی ہو گئی۔ معمولی سی تکرار اس حد تک بڑھ گئی کہ نوبت طلاق تک آ گئی اور یوں اس کی ماں اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی۔ مگر اب کی بار اس کی ماں کا رشتہ اس کے نانا نے وٹے پر اپنے سالے سے کر دیا اور یوں اس کی ماں بیاہ کر اپنے دوسرے شوہر کے ہمراہ چلی گئی۔ جبکہ وہ اپنے نانا اور نانی کے ساتھ رہنے لگ گیا۔ کیوں کہ اس کے سگے باپ نے رکھا نہیں اور سوتیلے باپ نے اسے قبول کرنے سے انکار دیا اور جس کا خون ہے اسی کے پاس ہی رہے میں دوسروں کی اولاد پالنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔
زندگی اس کے لئے پھولوں سیج تو پہلے بھی نہ تھی مگر اب تو مزید مشکل ترین ہوتی گئی۔ کھانا طلب کرنے پر مار پیٹ اور صلواتیں اس کا مقدر بنتی چلی گئیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر نانا کے ہاتھوں زدو کوب ہونا تو روز کا معمول تھا۔ اب سات سال کا بچہ اتنا بھی سمجھدار نہ تھا کہ اپنے ساتھ ہونے ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتا۔ اسے ان زیادتیوں سے بچنے کا ایک ہی حل نظر آیا کہ اس نے گھر پر رہنا بالکل ہی کم کر دیا۔
وہ صبح دوپہر اور شام گاؤں کے مختلف گھروں میں گزارتا اور ان گھروں کے چھوٹے موٹے کام کرتا جیسا کہ دکان سے سودا سلف لانا، احاطے سے جلانے کے لئے بالن لے آنا اور تو اور ان گھروں کے کمسن بچوں کی دیکھ بھال کرنا اس کی زندگی کا حصہ بن گئے اور تب کہیں جا کر اسے اچھی روٹی نصیب ہوتی۔ ان گھروں کے بچوں کی اترن پہن کر وہ یہ سمجھنے لگ گیا کہ اب وہ بڑا ہو گیا ہے لہذا اب وہ اپنے نانا پر بوجھ نہیں رہا۔ وہ نادان یہ بھول گیا تھا کہ جن بچوں کو ان کے والدین مجبور ہوں۔ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیں وہ تاعمر دھرتی پر دوسروں کے لئے بوجھ ہی رہتے ہیں۔


