کوئی ہے جو یہ لڑائی ہونے سے روک لے
اپوزیشن کی تحریک ناکام ہو گئی تو کیا ہو گا۔ فرض کریں سینیٹ الیکشن ہو چکے۔ اپوزیشن روڈ پر نڈھال پڑی ہے۔ کٹ کھا کھا کر اپنی تحریک سجا چکی ہے۔ پی ٹی آئی سینیٹ الیکشن جیت چکی ہے۔ اسے سینیٹ میں دو تہائی کے قریب اکثریت حاصل ہے۔ اب حکومت پہلا کام کیا کرے گی؟ پارلیمنٹ میں بل لائے گی۔
احتساب کے لیے قوانین تبدیل کرے گی۔ کرپٹوں کو نشان عبرت بنانے کے لیے نئی قانون سازی کرے گی۔ جن سیاستدانوں کو سزا ہو چکی ہے۔ ان سب کے بولنے پر پابندی لگے گی۔ ان کا نام لینا جرم قرار پائے گا۔ ان کی سیاسی جماعتیں بھی پابندیوں کا سامنا کریں گی۔
کپتان کو اس کے ہونہار ساتھی مشورہ دے سکتے ہیں کہ سیاست کا بلاتکار کرنا، کرپشن کرنا بھی زیادتی جیسا ہی بلکہ اس سے بڑا جرم ہے۔ اس لیے اپوزیشن کے حامی بھی سارے خصی کیے جائیں۔ اس سے روزگار کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے ۔ پی ٹی آئی اس مشورے پر نہایت سنجیدگی سے غور بھی کر سکتی ہے۔ اپوزیشن یہ سوچ کر مرن والی ہو سکتی ہے۔ سیاست سے توبہ بھی کر سکتی ہے۔
خیر یہ تو آئیڈیاز کی بات ہے پی ٹی آئی کے پاس پکاؤ آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں۔
پی ٹی آئی حکومت کو اب تک اپوزیشن نے کسی قسم کی کوئی قانون سازی کرنے نہیں دی۔ حکومت اب تک آرڈیننس پر ہی چلتی آ رہی ہے۔ سینیٹ الیکشن جیت کر یہ قانون سازی کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ اپنی مرضی کی ریفارم کر سکے گی۔ اپنا ایجنڈا نافذ کر سکے گی۔ اٹھارہویں ترمیم کا خاتمہ سرائیکی صوبے کا قیام یا مزید صوبے۔ صدارتی نظام۔ غرض وہ سب ہو سکے گا۔ جو کرنے کے لیے کپتان آیا یا اسے لایا گیا۔
اپوزیشن کے لیے یہ اب یا پھر کبھی نہیں والی صورتحال ہے۔ پائی جان کو چھوڑ کر منٹ بعد پنڈی دوڑ جانے والے میاں محمد شہباز شریف اب جیل میں آرام کر رہے ہیں یا پتہ نہیں کام کر رہے ہیں۔ ان کا حال یا حشر آصف زرداری نے بھی دیکھ رکھا ہے کہ مفاہمت کی سیاست کا فائدہ نقصان کیا ہے اور کتنا ہے۔
سندھ میں پی پی کو حکومت کرتے تیرہ سال ہو گئے۔ بھٹو مر رہا، پارٹی کا زور گھٹ رہا ہے۔ بلاول اور آصفہ پر حکومت کی کارکردگی اور اعمال کا بوجھ ہے۔ حکومت جتنی بھی اچھی ہو، لوگوں کی توقعات پر کم ہی پورا اترتی ہے۔ تیسری باری لیتی پی پی اب اپنی کشش کھو رہی ہے کہ یہ قدرتی عمل ہے۔ اس کی اک نشانی یہ لاڑکانہ میں دھاڑتی ہوئی جے یو آئی بھی ہے۔ جو بہت تیزی سے اندرون سندھ دوسری مقبول جماعت بن رہی ہے۔
جے یو آئی ایک مختلف جماعت ہے۔ اس میں سندھی بولنے والے اصلی نسلی مقامی باشندے بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں نہ تو جماعت اسلامی جیسی پرو اسٹیبلشمنٹ ہے۔ نہ نون لیگ کی طرح نئے سندھیوں کی ڈھیلی ماٹھی حمایت کے آسرے پڑی ہے۔ جے یو آئی سندھ کے روایتی وڈیروں کو اک چیلنج دیتی ہے۔ اس کا کارکن نظریاتی ہے۔ سرگرم ہے اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ڈانگ سوٹے کے لیے تیار رہتا ہے اور تاثر بنا چکا ہے کہ مجھے ہاتھ لگایا تو ہاتھ نہ توڑ سکا تو بھی ہاتھ جوڑی کروں گا ضرور۔
آصف زرداری نے پی پی کو جتنا بھی ڈرائینگ روم پالیٹکس تک محدود کیا ہو۔ وہ خود بھی اور جیالے بھی سیاسی حرکیات کو بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ بیٹھے بٹھائے اک نئی آفت کا شکار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ پی ٹی آئی سینیٹ الیکشن جیت کر لمبے عرصے کے لیے سیاست حکومت کو چمٹ جائے یہ انہیں بھی گوارا نہیں۔ اس کے لیے سندھ کی حکومت بھی چھوڑنی پڑی پی ٹی آئی کو روکنے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا پی پی کرے گی۔
ایک سوال جس پر بہت بات کی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کو اندر کی حمایت حاصل ہے۔ سیدھی بات کریں تو پوچھا جاتا ہے کہ کیا فوج اور ایجنسیاں اپوزیشن کی حمایت کر رہی ہیں۔ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ اداروں میں سوچ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حکومت کی نا اہلی اور ڈیلیور نہ کرنے سے پریشان ضرور ہیں لیکن ساتھ ہیں۔
مسئلہ صرف ایک ہے کہ معاشی پریشر اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی بھی واضح طور پر مشکل ہوتی جا رہی۔ بجٹ پر کٹ لگ رہے ہیں۔ جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سے بجٹ کی نئی ڈیمانڈ ای سی سی میں آئیں۔ معیشت ہماری باہر سے جڑی ہوئی ہے۔
باہر کی دنیا کو پاکستان سے بہت کام ہیں۔ وہ اکثر ہم سے بہت عاجز بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے جو اک اچھا کام کیا ایران کے ساتھ معاملات کو بہتر کرنے کا۔ اس پر بھی ہمارے عرب دوستوں کی طرف سے سفارتی اور معاشی گولہ باری کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن کو بہت سارے فیکٹر کی وجہ سے بیرونی حمایت ضرور حاصل ہے۔
ہم کسی سازش کی بات نہ بھی کریں تو جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر کا حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔ ان کی نامزد کردہ سیکیورٹی اور سفارتی ٹیم میں پاکستان کو جاننے والے لوگوں کی اکثریت ہے۔ یہ سارے نئے لوگ جمہوریت آزادی میڈیا اور انصاف کے حوالے سے ایک خاص موقف رکھتے ہیں۔ پاکستان کی افغان پالیسی، دہشت گردی اور ریجنل معاملات پر ہماری ریاستی سوچ کے مخالف ذہن رکھتے ہیں۔
اپوزیشن کو یہ ایک حمایت ضرور حاصل ہے۔ اسحق ڈار کا وہ انٹرویو جو بی بی سی میں چھپا۔ جس پر ان کی اخیر دھلائی سوشل میڈیا پر ہوئی۔ اس میں اصل پوائنٹ مس کر دیا گیا۔ وہ پوائنٹ یہ تھا کہ ڈار صاحب کی دھلائی کوئی نئی بات نہیں۔ نہ ان سے منسوب کرپشن کی کہانی نئی ہے نہ ان کی بوکھلاہٹ۔ نئی بات یہ تھی کہ انہوں نے فوج، آرمی چیف اور ڈی جی آئی کا نام لیا۔ الیکشن سیاست میں مداخلت کی بات کی۔
یہ بات لندن میں کی، بی بی سی پر کی۔ لڑائی کے لیے ایک نیا میدان منتخب کیا جہاں کپتان کی حمایت بہت زیادہ ہے۔ اس سب کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ نون لڑائی بڑھانے جا رہی ہے، پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
نون لیگ اگر لڑائی بڑھانے جا رہی ہے تو دوسری طرف سے بھی نرمی کا کوئی پیغام نہیں آیا۔ درجن بھر ٹرانسفر پوسٹنگ ہوئیں۔ جنرل فیض وہیں ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کا جواب ہے اپوزیشن کو کہ تم سے جو ہوتا ہے کر کے دیکھ لو۔
اب آ جائیں اندر کی حمایت کی طرف۔ وہی سوال کہ کیا اپوزیشن کو اندر سے کوئی حمایت حاصل ہے۔ تو اس کا جواب سن کر ہنسنا منع ہے۔ مولانا کا دھرنا آپ کو یاد ہو گا؟ اس کا اٹھانا پھر جانا۔ ایکسٹینشن کے لیے اپوزیشن کا لپک کر جانا اور حمایت کرنا۔ گلگت بلتستان پر ساری اپوزیشن کا باجماعت عزت افزائی کروانا لنگر کھاتے ہوئے۔
یہ سب کیا تھا، یہ وہ مذاکرات تھے جو اپوزیشن ان سے کرتی رہی۔ اب اندر کی حمایت کی کہانی اتنی ہے کہ یہ جو آپ مذاکرات کرتے تھے۔ اپوزیشن پر ہنستے تھے۔ ان کو سناتے تھے کہ سیدھے ہو جاؤ، انج تے فر انج ای سئی۔ اپوزیشن خود آپ کہی اور کی ہوئی ہر بات کو آپ کے خلاف استعمال کرے گی۔ اور آپ سوچتے ہی رہیں گے کہ ان سے نہ ملتے نہ کہتے تو اچھا ہوتا۔
ہم اک سیدھی ٹکر کی طرف جا رہے ہیں۔ سیاستدان جتنے بھی برے ہوں۔ جیسا بھی کرپٹ انہیں ہم سمجھتے ہوں۔ ہر سیاستدان کو اپنا ورکر بڑا ہی پیارا ہوتا ہے۔ مولانا اپوزیشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ اک تقریروں سے ہنسی مذاق ختم ہو چکا، سنجیدگی بڑھ چکی۔ شاید انہیں دکھائی دے رہا کہ اب میرا ورکر ڈنڈے گولی کے آگے ہو گا۔ روکنے والا کوئی بھی نہیں جو سب کو بٹھا کر بات کرے اور راستہ نکالے۔


