ادھورا وجود
زمیل سے میری پہلی ملاقات حادثاتی طور پر سر گیلانی کے دفتر میں ہوئی تھی اس دن میں ذرا تاخیر سے پہنچی کمرے میں چائے کا دور چل رہا تھا سر کا میز جس پر دنیا جہان کا علم بکھرا ہوتا تھا آج قدر سمٹا ہوا نظرآ رہا تھا میز کے سامنے انگریزی لباس پہنے خوبرو نوجوان موجود تھا میں آگے بڑھی فضا میں ایک عجیب اور غیر مانوس سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی سر مجھے دیکھتے ہی بولے اوئے! لا پرواہ لڑکی آج پھر ہمیشہ کی طرح تم میٹنگ کا ٹائم بھول گئی میں نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور ساتھ رکھی دوسری کرسی پر جو آج پہلے سے زیادہ صاف دکھائی دے رہی تھی اس پر بیٹھ گئی
وہ نظریں مسلسل میرا تعاقب کر رہی تھی اب کمرے کی فضا میں چائے کی خوشبو کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی میری آمد کے ساتھ گفتگو کا موضوع بدل چکا تھا سر نے رسمی طور پر تعارف کا سلسلہ شروع کیا یہ زمیل ہیں کراچی سے یہاں ایک تحقیقی کام کے سلسلے میں آئے ہیں انہیں مصوری میں گہری دلچسپی ہے اور اس حوالے سے کچھ اہم پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں انہیں آپ کی مدد درکار ہے۔ میں نے معمول کی مسکراہٹ چہرے پر چھوڑی سانس لینے کے مختصر وقفے کے بعد سر کی آواز دوبارہ گونجی یہ افق ہیں ان کے ہاتھوں میں کئی رنگین مناظر قید ہیں جو مختلف اوقات میں رنگوں کی شکل میں کینوس پر نظر آتے ہیں اب میری نظر زمیل پر تھی جس کے چہرے کے نقوش کسی تخلیق کار کی سب سے پیاری تخلیق ہونے کی دلیل دے رہے تھے اس کی گہری آنکھیں اپنے اندر کئی زندہ مردہ خواب سنبھالے ہوئے تھیں۔
میں روایتی مصوروں کی طرح اس کے نقوش کو ٹٹول رہی تھی اگلے آدھے گھنٹے میں کچھ کام کے حوالے سے باتیں ہوئی جس میں زمیل کی شرکت رسمی سی تھی وہ کم گو ہے یا کم گو ہونے کی ایکٹنگ کر رہا ہے میں اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہی سائے ڈھل چکے تھے سردیوں کے دن بھی خوشیوں کے مانند مختصر ہوتے ہیں دن کب اور کیسے گزرا معلوم نہیں سر کے آفس سے نکلتے ہوئے ہم دونوں کی نظریں یوں ٹکرائیں کہ شرمندگی چہرے پر اپنے نقوش چھوڑ گئی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے بھاری مگر قدرے جوان آواز بلند ہوئی کل ملتے ہیں ٹریل فائیو پر۔ میرا چہرہ کھل اٹھا اس بار کھلنے کی وجہ زمیل نہیں بلکہ وہ جگہ تھی جہاں اس نے کل ملنے کو کہا تھا اندھیرا مکمل طور پر پھیل چکا تھا سڑکوں پر معمول کی روشنیاں جل رہی تھی سردیوں کے ابتدائی دنوں کی ٹھنڈک صحت کے لئے مضر ہوتی ہے لیکن اندر ایک خاص سکون پیدا کرتی ہے میں نے گاڑی چلاتے ہوئے شیشے کو نیچے کر دیا اب ٹھنڈی ہوا میرے گالوں کو چھو کر کانوں میں سرگوشی کر رہی تھی جیسے گزری ملاقات کا حال پوچھ رہی ہو دماغ میں زمیل بھٹک رہا تھا ذہن میں ایک ڈکشنری کھل چکی تھی جس میں زمیل کا مطلب تلاش کرنے کے بعد مزید الجھاؤ پیدا ہو گیا کیا یہ بہتر دوست یا ساتھی ثابت ہو سکتا ہے؟
میں یہ کیا سوچ رہی ہوں؟ مجھے اپنے فن پاروں کی بارے میں سوچنا چاہیے جو میری آرٹ گیلری میں اپنے ادھ ادھورے نقوش لے کر میرے منتظر ہیں کہ کب میں ان کی تکمیل کروں گی اور وہ اپنے ادھورے وجود کی اذیت سے آزاد ہو سکیں گے ادھورا وجود؟ اس کی تکلیف تو میں بھی کافی عرصے سے بھگت رہی ہوں اور اس اذیت کو کم کرنے کے لیے میں اپنی تکمیل اپنے فن پاروں میں ڈھونڈتی ہوں سڑک اب ٹریفک کے ہجوم سے خالی ہو چکی تھی اپنے گھر کو جاتی اکلوتی سڑک جس پر گاڑی دوڑ رہی تھی جو ہمیشہ میرے اکیلے پن کو مزید تقویت دیتی تھی۔ رات کا اندھیرا پوری طرح سے پھیل چکا تھا۔ میرے فن پارے میری واپسی پر خوشی سے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے اور میں ان کی سرگوشیاں سننے لگی ایک خالق کے لئے اس سے خوبصورت لمحہ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ تخلیق کو سنے رات بھر اسی طرح کے دلفریب عمل جاری رہے صبح سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی جاری تھی موسم نے ٹریل کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا زمیل اور میں لکڑی سے بنے بینچ پر بیٹھے تھے اس کے چہرے کے خد و خال قریب سے واضح اور پر کشش دکھائی دے رہے تھے اس کے ہاتھ میں ایک معیاری جسامت کی کالے سرورق والی کتاب تھی گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا اس دوران ہم نے ہر موضوع کو چھوا ادبی حوالے سے اس کا مطالعہ متاثر کن تھا وہ بات کرتے ہوئے مجھے کئی ناولوں کا مشترکہ ہیرو معلوم ہو رہا تھا
پراجیکٹ پر کام شروع ہو چکا تھا قربتیں بڑھتی گئی لیکن اس کے مزاج میں کوئی بدلاؤ نہ آیا پہلے دن کی ملاقات سے لے کر اب تک اس کی دنیا میں اپنے علاوہ صرف کتابیں تھی میں چاہتی تھی وہ میری طرف دیکھے میری شدت کو سمجھے مجھ سے باتیں کرے لیکن الفاظ سے وجود میں آنے والی یہ ضخیم کتابیں جن میں کئی موضوعات قید ہیں جذبات اور لمس کی حدت سے خالی ہیں جب اسے جذبات کی ضرورت محسوس ہوئی تو پھر وہ کیا کرے گا؟ ایسے میں تو ضرور اسے میرے وجود کی ضرورت محسوس ہو گی کیا زندہ وجود کی تفہیم الفاظ کی تفہیم سے زیادہ مشکل ہے مجھے ان رنگ برنگی مختلف جلدوں پر مبنی کتابوں سے رقابت محسوس ہونے لگی جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی تھی اس کے سینے پر پڑی سرخ کتاب مسلسل میری شکست اور اپنی جیت کا جشن مناتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی کمرے میں ہر جگہ رقابت بکھری پڑی تھی میں اپنے وقت کا بیشتر حصہ کیوں اس مرد کو سوچنے میں گزار دیتی ہوں جس کی بظاہر مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں کچھ عرصہ یہ سب برداشت کرنے کے بعد میں نے دوری کا فیصلہ کیا رات کا پچھلا پہر ویسے جذبات کی فراوانی کا پہر ہوتا ہے وہ ہمیشہ کی طرح کتاب کی دنیا میں گم تھا۔ میں باہر فطرت کے سامنے اپنا رونا رو رہی تھی کہ اچانک قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ جانے وہ کیا سوچ کر آیا تھا۔ وہ انسان جو مجھے پچھلے کئی دنوں سے مطلوب رہا تھا، اب اس کی طلب اپنی اہمیت کھو چکی تھی۔ اس نے مجھے چھوا۔ میں نے اس کے لمس کو محسوس کیا لیکن بدن پر کوئی کیفیت طاری نہیں ہوئی۔ شاید بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ غلط وقت پر آیا تھا۔


