کورونا معاہدات کی خلاف ورزیاں


جب کورونا 2020 کے اوائل میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا تو ہر جانب اس نے خوف و دہشت کی ایسی فضا قائم کر کے رکھ دی تھی کہ کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔ اس کی وجہ دنیا کا حد سے زیادہ خوف زدہ ہوجانا تھا۔ جب دنیا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دنیوی ہر سہولت سے مالامال ممالک ہی خوف زدہ ہو گئے ہوں تو پاکستان ان کے مقابلے میں ”چہ پدہ چہ پدی کا شوربہ“ سے زیادہ اہمیت کیسے رکھ سکتا تھا۔ ویسے پاکستان اور پاکستان کے حکمران اندر سے کتنے ہی لرزیدہ کیوں نہ رہے ہوں، مجال ہے جو چہرے کے کسی تاثر سے اپنے خوف کا اظہار کیا ہو۔

ساری دنیا، جو کئی ماہ سے لرزہ بر اندام تھی، پاکستان کرکٹ کے میدان سجائے، ہزاروں لاکھوں کا مجموعہ اکٹھا کیے ہوئے چوکے چھکے لگانے میں مصروف تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ سرکاری سطح پر پورا پاکستان کورونا کے پاکستان میں داخل ہوجانے سے بالکل اسی طرح بے خبر تھا جیسے ”اے پی سی“ کے تخریب کاروں اور دہشتگردوں کے پاکستان میں داخل ہونے جیسے سیکڑوں واقعات سے لا علم رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہشتگردی کے واقعات ہو جانے کے فوراً بعد ہر تفصیل ٹی وی چینلوں پر ایسے بیان کی جاتی تھی جیسے کوئی ”خفیہ“ آنکھ پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کے ایک ایک لمحے کی نگرانی کرتی رہی ہو۔ وہ پاکستان کی سرحد میں ٹھیک کس مقام سے داخل ہوئے، کہاں سے چل کر سب سے پہلے کہاں اور کس کے گھر قیام کیا، ان کو پاکستان کے اندر کہاں کہاں سے اسلحہ و گولہ بارود سپلائی کیا گیا، سپلائی کرنے والے کون تھے، کتنے دن قیام رہا وغیرہ وغیرہ۔

مختصر یہ کہ جیسے کورونا کے حملے کا حکومت پاکستان کو علم ہوا تو اس کے فوراً بعد ہی یہ بھی پتہ چلا کہ کورونا پاکستان کے ساتھ جڑی ایرانی سرحد کی سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنا پاسپورٹ اور ویزا، زائرین کے کندھوں، لباسوں اور استعمال کی اشیا پر سوار ہو کر پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ یہ خبر پاکستان میں ایک فرقے کے لئے اتنی ناگوار تھی کہ اس کے فوراً بعد ہی تبلیغی جماعت کے مبلغین کو اس جرم قبیح کا سزاوار نہ ٹھہرا دیا جاتا تو ممکن ہے کہ انسانی آنکھوں سے نہ دکھائی دینے والا وائرس انسان کی شکل کا روپ دھار کر گلی، کوچوں اور چوک چوراہوں پر ایک عفریت بن کر ٹوٹ پڑتا۔

کورونا کی دہائی کے ساتھ ہی پورے پاکستان میں سراسیمگی پھیل گئی، کرکٹ کے میدان سائیں سائیں کرنے لگے، مارکیٹیں اور بازار بند کر دیے گئے، لوگوں کے گھروں تک سے نکلنے پر پابندیاں لگادی گئیں اور پورے پاکستان میں ہر قسم کی آمد و رفت کو روک دیا گیا۔ ان سب پابندیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کہ پاکستان کورونا کو قابو میں کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس ہو کے عالم میں بھی پاکستان کو دوسرے ممالک میں اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے پر تا حال کوئی پابندی نہیں۔

کورونا پاکستان میں اپنی ناکامیوں کا بدلا لینے کے لئے دوسری مرتبہ بہت ہی تخریب کارانہ انداز میں داخل ہوا تو عوام کے ساتھ ساتھ حکام بالا میں ایک کھلبلی سی مچ گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعلیٰ سطح پر کورونا سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ مذاکرات ہر معاملے میں الگ الگ نوعیت کے مطابق ہوئے جس کے نتیجے میں ایسے تمام شادی کے مقامات جو ہال نما تھے، ابتدائی طور پر رات آٹھ بجے سے دس بجے تک کھولنے کی اجازت کورونا کی جانب سے 3 سو سے زائد افراد نہ بلانے کی شرط پر دے دی گئی۔

کھلے میدان میں 1 ہزار افراد تک جمع کرنے کا کہا گیا۔ 3 سو افراد اور اوقات کار کی خلاف ورزی پر کورونا بگڑ کیا جس کی وجہ سے ہال بند کرنا پڑے۔ کھلے میدانوں پر بھی خلاف ورزیاں کرنے والے کورونا کی ناراضگی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ بازار صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک کھلے رکھنے پر کورونا کا وعدہ ہے کہ وہ کسی پر حملہ آور نہیں ہوگا لیکن کھولنے، بند کرنے کی خلاف ورزیاں اس کی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں لہٰذا وہ خلاف ورزیاں کرنے والوں کو سزاؤں پر سزائیں دیتا چلا جا رہا ہے۔

مذاکرات میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ دیکھتے ہوئے بھی کورونا کے صبر کا پیمانہ بار بار چھلک پڑتا ہے۔ اسی طرح یہ بات طے تھی کہ عوام نہ ریلیاں نکالیں گے اور نہ ہی جلسے جلوس کریں گے، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں گے، ایک دوسرے سے گلے نہیں ملیں گے تو کورونا کسی کو چھوئے گا تک نہیں لیکن پاکستان کا کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں جہاں ان معاہدات کی پابندی کی جا رہی ہو۔

حکومت ہر خلاف ورزی کی شکایت کے بعد ہاتھ جوڑ جوڑ کر کورونا کو مذاکرات کی میز پر لے کر آتی ہے، نئے سرے سے مذاکرات کرتی ہے، اپنی قوم کے مزاج سے کورونا کو آگاہ کرتی ہے، کورونا بھی کئی مقامات پر چھوٹ دینے پر تیار ہوجاتا ہے لیکن ہر مرتبہ کے طے شدہ معاہدات کی خلاف ورزیاں دیکھتے دیکھتے نہ صرف کورونا نے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ اب اتنے غصے کے ساتھ حملہ آور ہو چکا ہے کہ ہسپتال پہلے سے بھی زیادہ مریضوں سے پٹ گئے ہیں، لوگ بڑی تعداد میں مرنا شروع ہو گئے ہیں اور روز تین تین ہزار سے بھی کہیں زیادہ کورونا کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ لوگ ہیں کہ ایس او پیز پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں، کورونا ہے کہ حکومت سے بات چیت کرنے پر آمادہ نہیں اور حکومت کا یہ عالم ہے کہ وہ کبھی کورونا اور کبھی عوام کی جانب دیکھتے ہوئے نوحہ کناں ہے کہ

حیراں ہو دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

Facebook Comments HS