افغانوں کے خلاف جنگی جرائم: منظور پشتین اب کہاں ہے؟


آسٹریلین فوج جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ افغانستان میں درجنوں بے گناہوں کو آسٹریلیا کے فوجیوں نے ہلاک کیا۔ یہ قیدی بھی تھے، کسان بھی تھے اور عام شہری بھی تھے۔ جب ان لوگوں کو مارا گیا تو کوئی آپریشن نہیں ہو رہا تھا۔ مرنے والوں میں سے کوئی بھی اپنی ہلاکت کے وقت جنگی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔ یہ سب بے گناہ تھے اور مظلوم بھی۔ جنگی جرائم کے یہ واقعات تب پیش آئے جب دو ہزار پانچ سے دو ہزار سولہ تک آسٹریلیا کی فوج افغانستان میں تعینات رہی۔

اپنی اس تعیناتی کے دوران تئیس واقعات میں انتالیس افغان شہریوں کو بے گناہ مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ تصدیق آسٹریلیا کی اپنی جاری کردہ بریرٹن وار کرائم رپورٹ کر رہی ہے۔

افغان حکومت افغان طالبان اور افغانستان کی ہیومن رائٹس کے عہدیداران نے اس پر مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ بیانات دے کر یہ سب فارغ ہیں۔ ویسے بھی جنگ نے افغانستان میں لوگوں کا وہ حشر کیا ہے کہ ان کے لیے شاید کچھ درجن لوگوں کا ایسے مارے جانا کوئی بڑی خبر ہی نہ رہی ہو اب۔

آسٹریلیا جیسا ہومیوپیتھک ملک۔ جس کا بظاہر دنیا میں کسی ملک سے کوئی تنازعہ نہیں۔ اس کی فوج بھی جب امن و امان قائم رکھنے افغانستان پہنچتی ہے تو جنگی جرائم میں ملوث ہو جاتی ہے۔ بلڈنگ کے نام سے ایک کھیل شروع کیا جاتا ہے۔ جس میں فوجیوں کو مرد بننے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اپنا پہلا قتل کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ می ذکر ہے کہ کیسے ایک افغان کو تب ہیلی کاپٹر سے اتار کر گولی مار دی گئی۔ جب پائلٹ نے کہا کہ وزن زیادہ ہے۔ یہ مظلوم بے گناہ پکڑا گیا تھا۔

سترہ نومبر کو جاری ہوئی اس رپورٹ کو مہینہ ہونے کو آیا۔ دنیا بھر کے میڈیا میں اس کا ذکر ہو چکا۔ برادر اسلامی ملکوں یا امہ اس پر بے چین تو چھوڑیں کسمساتی تک دکھائی نہیں دی۔

اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد سب سے زوردار ردعمل چین نے دیا۔ چین آسٹریلیا سفارتی تعلقات میں پہلے ہی تناؤ ہے۔ آسٹریلیا کھل کر چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے۔ چینی کمپنیوں کے خلاف اقدامات بھی کر رہا ہے۔ ہواوے پر پابندی لگا چکا ہے۔ چین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے آسٹریلین وائین اور جو پر ڈیوٹیاں ڈبل کر دی ہیں۔

چین بہت سی آسٹریلین پراڈکٹ کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ دونوں ملکوں میں حالیہ تناؤ افغانستان میں آسٹریلین فوجیوں کے جنگی جرائم کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اور بڑھ گیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے ایک ٹویٹ کر دی کہ ’میں آسٹریلوی فوجیوں کی جانب سے افغان شہریوں اور قیدیوں کے قتل کرنے پر سکتے میں ہوں۔ ہم سخت الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں اور ان کا احتساب کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘ ساتھ ہی لیجیان نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک فوٹو بھی پوسٹ کر دی۔ جس میں ایک آسٹریلین فوجی ایک بچے کے گلے پر چھری رکھے دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ میں ایک بکری کا بچہ بھی ہے۔ اور کیپشن دے رکھا ہے کہ ڈرو مت ہم افغانستان میں امن فراہم کرنے آئے ہیں۔

اس تصویر اور ٹویٹ نے آسٹریلیا میں کہرام مچا دیا ہے۔ آسٹریلوی حکومت چین سے معافی مانگنے اور ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم نے خود اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ٹویٹر سے بھی سرکاری طور پر رابطہ کیا گیا ہے کہ یہ فوٹو ڈیلیٹ کی جائے۔ چینی میڈیا بھی برابر ردعمل دے رہا ہے۔ لکھ رہا ہے کہ گوری چمڑی والوں کو اپنے علاوہ کوئی انسان نہیں لگتا۔

ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ قوم پرستی اور مذہب پختونوں کو چپکی ہوئی دو وبائیں ہیں۔ یہ ان دونوں کے نام پر حساس ہیں اٹھتے ہیں۔ جنگی جرائم کے حوالے آئی اس رپورٹ کے بعد اس پر نہ تو قوم پرستوں کی طرف سے کوئی خاص ردعمل آیا ہے نہ ہی مذہبی حلقوں تک یہ اطلاع پہنچی ہے۔ باقی تو چھوڑیں دن رات پختون تباہ دے کا الاپ کرنے والی پی ٹی ایم بھی خاموش ہے۔ فوجی آپریشن کے بعد پیش آئی مشکلات کا نام لے کر کراہتی ہوئی اٹھی یہ تنظیم بھی خاموش ہی رہی۔

وہ جو منظور پشتین کی ایک چھیڑ بنی ہوئی تھی مختلف واقعات کا حوالہ دے کر پوچھا جاتا تھا کہ منظور تب کہاں تھا۔ اب موقع ہے کہ لر و بر کے نعرے لگاتا یہ لیڈر ایک حقیقی مسلے اور دکھ پر بھی آواز اٹھائے۔ ویسے منظور واقعی اب کہاں ہے؟ یہ موقع ہے کہ منظور سب پاکستانیوں کی طرف سے آواز اٹھائے۔

 

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi