سفر نامہ کوئٹہ (آخری حصہ)
چچا جب دفتر جاتے تو بھائی کا دن باہر کرکٹ میں اور میرا موبائل پہ یا آن لائن کلاس میں یا پھر سوشل ایپس پہ گزرتا تھا۔ ایک دن چچا نے دفتر سے ڈرائیور بھیجا جس نے ہمیں کوئٹہ ریلوے سٹیشن دکھایا۔ ریلوے سٹیشن اور ریل کی پٹریاں میرے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ کوئٹہ ریلوے سٹیشن ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے مگر صفائی کے مناسب اقدامات نا ہونے کی وجہ سے ہر طرف غلاظت کے ڈھیر نظر آئے۔ مختصر سے کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے وزٹ نے مجھ پر اس کی جغرافیائی اہمیت آشکار کی اور یہ تعمیر کرنے والوں کی قابلیت بھی بتا رہا تھا کیوں کہ میرے نزدیک ریلوے سٹیشن موزوں ترین مقام پر تھا۔
کوئٹہ میں ہمارے قیام کو ایک مہینہ ہونے والا تھا اور یہ شاندار تجربہ تھا۔ جس نے بلوچستان کی خوبصورتی دیکھنے کے ساتھ لوگوں کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ کوئٹہ کے بازاروں میں رش اور لوگوں کے چہروں پہ رونق دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ پسماندہ لوگ ہیں۔ وہ انتہائی خوشحال لوگ معلوم ہوتے تھے۔ کیونکہ ان کا ذریعہ آمدن کاروبار تھا۔ البتہ مجھے کاروباری لوگوں کا گاہکوں کے ساتھ رویہ انتہائی مایوس کن لگا جس کے تجربے سے میں ذاتی طور پر دو بار گزرا۔
جس طرح باقی پاکستان میں گاہک کو رحمت سمجھ کر دکاندار پلکیں بچھا دیتے ہیں ایسا کچھ کوئٹہ میں نظر نہیں آتا۔ بلکہ دکانداروں کی اکثریت دو ٹوک بات کر کہ گاہک کو جلدی فارغ کرنے میں نظر آتی ہے۔ پختون بھائیوں کے بارے میں مشہور چیز کہ تین ہزار کی چیز آدھی قیمت سے بھی کم میں بیچتے ہیں بھی کوئٹہ میں صادق نہیں آتی بلکہ مجھے ذاتی طور پہ کوئٹہ مہنگا شہر لگا۔ جہاں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں سے لے کر اشیائے تعیش تک کی قیمتیں باقی شہروں سے زیادہ لگیں۔ اس کی وجہ کوئٹہ شہر کے اندر رہنے والوں کی خوشحالی ہو سکتی ہے۔
یہ تجربہ صرف کوئٹہ شہر کے بازاروں میں ہی ہوا، جبکہ مضافات میں غربت، بے بسی، لاچاری، کمزوری، بیماری، بھوک اور افلاس بلوچستان کے لوگوں کا مذاق اڑاتی نظر آئی۔ سر زمین پاکستان کے رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے رہائشیوں کی حالات زار زیادہ تسلی بخش نا تھی۔ دیو قامت پہاڑوں میں بارش سے بنے ندی نالوں کے نشانوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قدرت بھی بلوچستان کے لوگوں کی حالات زار پہ اشک بہاتی ہے۔
قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین کے عام لوگوں کے حالات قابل ترس تھے۔ یہاں تک کہ سبزہ کی قلت کے باعث جانور بھی لاغر نظر آئے۔ معدنیات اور گیس سے مالا مال صوبے کی خواتین میلوں پیدل چل کر لکڑیاں اکٹھی کرتی نظر آئیں تاکہ گھر کا چولہا جلا سکیں۔ درختوں کے خشک پتوں سے بنی چھتوں والے گھر راستے میں ہر چند منٹ بعد دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پنجاب میں جس طرح عالیشان گھر یا سوسائٹیز میں رہائش گاہیں نظر آتی ہیں ایسا کوئٹہ شہر کے علاوہ بلوچستان کے کسی شہر میں نظر نہیں آتا۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مینیج نہیں کیا جا رہا ۔
کوئٹہ پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں سے زیادہ خوبصورت اس لیے ہے کہ یہ پہاڑوں میں گھرا شہر ہے۔ اور اس کے اردگرد کسی بھی پہاڑ پر بیٹھے شخص کے سامنے پورا شہر ہوتا ہے۔ اور رات کا دلکش منظر تو بے حد حسین ہوتا ہے۔ کوئٹہ شہر کے سو کلومیٹر کے ریڈیس میں بے پناہ تفریحی مقامات ہیں جو اس شہر کو ٹورازم کے لحاظ سے بہت خاص بناتے ہیں۔ کوئٹہ کے گردونواح میں دلفریب مقامات قدرت کہ اس شہر کے باسیوں پر ایک نعمت سے کم نہیں لگتی۔ جہاں قدرت کے کوئٹہ شہر پر احسانات نظر آتے ہیں وہی حکومت و انتظامیہ کی شہر کو خوبصورت اور صاف ستھرا بنانے میں عدم دلچسپی شہر کے حسن کو ماند کر رہی ہے۔
گھر والوں کو ہماری یاد ستائی یا میری کوئٹہ پر اپ لوڈ کی گئی سٹوریز نے ان کا دل لبھایا یہ مبہم ہے مگر وہ ہمیں لینے کوئٹہ پہنچ گئے۔ گھر والوں کے ساتھ ایک بار پھر کوئٹہ دیکھنے کا موقع ملا جس میں ایک بار پھر زیارت گئے اور چچی کے ایک رشتہ دار کے زیارت میں بنائے گئے ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔ وہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھے اور کافی وسیع رقبہ پر ریسٹ ہاؤس بنا رکھا تھا۔ جس میں مختلف پھل اور سبزیاں کاشت کی ہوئی تھیں۔
گھر والوں کے ساتھ زیارت، ہنہ اور کوئٹہ میں سیر و تفریح کرنے کے بعد ہم دونوں بھائیوں نے اپنے بیگ پیک کیے اور چچا چچی سنیہا اور پیاری عنایہ کے ساتھ کوئٹہ کو الوداع کیا۔ ایک مہینہ کے عرصہ میں کوئٹہ نے ہمیں اور ہم نے کوئٹہ کو اپنا سمجھ لیا تھا۔ اور الوداع کرتے ہوئے سنیہا کی طرح ہمیں کوئٹہ بھی اداس لگ رہا تھا۔ پورے تیس دن کوئٹہ میں لگانے کے بعد ہم نے کوئٹہ کو اس وعدے کے ساتھ گلے لگا کر اللہ حافظ کیا کہ زندگی میں دوبارہ کبھی ضرور ملیں گے۔
پنجاب پہنچتے ہی میں نے اپنی یادوں کو محفوظ کرنے کا سوچا اور وہ تصاویر سے زیادہ تحریر میں ہو سکتیں تھیں۔ اس لیے میں نے یہ سفر نامہ لکھا جس کا زیادہ حصہ کوئٹہ کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے پر مبنی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی یادیں دھندلانا شروع کر دیتی ہیں مگر اس سفر نامہ کے ذریعے کوئٹہ شہر کی حسین یادیں میرے لیے ہمیشہ تازہ رہیں گی۔






