دل یزداں میں کھٹکتا ہے تو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمیں زادوں کے بیچ عجب یہ رسم چلی ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے اور جو چلے تو عبث پکارا جائے یا پھر مارا جائے کیا فرق پڑتا ہے بس گنتی میں ایک آدمی ہی تو کم ہوا ہے۔ آج طویل مدتی انتظار کے بعد روح الامین کی بارگاہ ایزدی میں طلب ہوئی۔ ارشاد ہوا جا اور جا کر زمیں زادوں کے دلوں سے وسوسے نکال لا۔ مرتا کیا نہ کرتا چاروناچار وسعتیں پھلانگتا ایک دل میں جا پڑاؤ کیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ یہاں وسوسوں کا ایک سمندر موجزن ہے۔

کبھی تو یہ سوچتا ہے کہ فلاں ابن فلاں کی ایسی تیسی اور اسے یہ ہمت ہوئی کہ میرے عقیدے پر انگلی اٹھائے تو کبھی یہ سوچتا ہے کہ فلاں کی یہ جرات کہ میری برابری کرے حالانکہ وہ جانتا بھی ہے کہ میں خداوند خدا کی پسندیدہ قوم کا فرد ہوں اور کبھی یہ من موجی ہو جاتا ہے تو حور و غلمان کے تذکرے لے بیٹھتا ہے اگرچہ بہ ظاہر اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی مگر معاملہ تب بگڑتا ہے جب یہ لاڈلا کھیلن کو سچ مچ کسی حور یا غلمان کی زندگی اجاڑ ڈالتا ہے۔

بھئی میاں! ایک دن تو اس نے حد ہی کر دی اور جی کڑا کر کے گردنیں اتار اتار سر نیزے پہ لگا داد و تحسین وصولنے کی تڑپ لیے گھات میں جا بیٹھا۔ پھر موت کا رقص ہوا اور جب ایک آدمی مفت میں مارا گیا تب روح الامیں بڑی مشکل سے اس کوچہ عذلت سے نکلا۔ ازاں بعد کاتبین نے بھی بستے بغل میں دابے اور باعزت نکلنے کی ٹھانی۔

ادھر یہ جلوس در جلوس ایک گاتے قاتل کو سوئے مقتل لے جا رہے تھے اور نورانی صورت بزرگ کانپتے ہاتھوں بوسے دیتے یہ فرما رہے تھے کہ ”اے منڈا تے بازی لے گیا جے۔“ میرے بھائی! ایسے عالم میں کس کم بخت کا مرنے مارنے کو جی نہ چاہے گا اور اس پر مستزاد یہ کہ اعلی حضرت نشستاً برخاستاً طرفدار قاتل پائے جائیں تو کون زندہ رہنے کی امنگ لیے زندگی زندگی کا راگ الاپتا پھرے گا۔

اب قصہ کچھ ادھر دربار یزداں کا بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ایک طرف روح الامیں اپنی ناکامی پر سر نہوڑائے کھڑا حکم فردا کا منتظر ہے تو دوسری طرف کاتبین میں سے بائیں بازو کا کاتب تحریری پلندوں کے منوں بوجھ تلے دبا کندھے بدلنے کا تقاضا کر رہا ہے۔ اسی اثنا میں منکر نکیر جوابات کی فائل دابے جھولے میں دوسری بہت سی معصوم روحوں کے ساتھ مذکورہ روح ڈالے آن موجود ہوئے۔ تکبیری آداب کے بعد فائل پیش کی گئی تو روح پیش کرنے کا حکم ہوا۔

نکیر نے جھولے میں ہاتھ ڈالا اور مطلوبہ روح نکالنے کی تگ و دو کرنے لگا مگر ہر بار ہاتھ کسی معصوم کی گردن دبوچے ہی نکلتا کہ اتنے میں فرشتوں کی ایک ٹکڑی مجرم پکڑے آن پہنچی۔ یہ قاتل ہے! اور ہاں یہی وہ قاتل ہے جو بغارہ ڈال نکیر کے جھولے سے بھاگ نکلا تھا۔ ٹکڑی سردار نے گرفتار روح کے قصے کا ملخص یوں بیان کیا۔ ایک کھڑکھڑاتی آواز ابھری۔

”اے ابن آدم! یہ سچ ہے کیا۔“
بندہ پر تقصیر فخر سے سینے پر ہاتھ مارتا ہے اور کہتا ہے۔
” ہاں میرے رب یہ سچ ہے۔“

”پر تو کون ہوتا ہے کسی کو موت دینے والا یہ تو کلی میرا اختیار ہے اور تو بخوبی یہ بات جانتا ہے۔ پھر بھی تو نے میرے معاملات میں دخل دیا؟

”اے میرے پالن ہار! وہ تیرے دین کا دشمن تھا اور تو اور تجھے بھی نہیں مانتا تھا۔“

”یہ تو میرا اور میرے نبی کا اس کے ساتھ معاملہ ہے تو کیوں بیچ میں آن ٹپکا۔“

”میرے پروردگار! میں تو آپ کا اور آپ کے محبوب کا ایک ادنی سا رکھوالا ہوں اور دین کی حفاظت کرتا ہوں۔“ فضائے قدس میں ایک بلند قہقہہ ابھرا۔

”اچھا تو تو دین کی حفاظت کرے گا؟ کیا تجھے علم نہیں کہ ہم بے نیاز اور دنیا کی حفاظت کرنے والے ہیں؟“
”جانتا ہوں میرے رب! پر غیرت ایمانی کے ہاتھوں مجبور تھا۔“

”تیرا ایمان تو میرا سکھایا ہوا ہے اور میں نے تو تجھے یہ سکھایا ہے کہ زمین پر فساد نہ مچاتے پھرنا اور ایک انسان کی جان لینا پوری انسانیت کی جان لینا ہے۔ اب تو پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ اور تجھے کچھ معلوم بھی ہے کہ مرنے والا تو ملامتی فرقے سے تھا اور اس کے دل میں میں ہی تو رہتا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

غلام عباس سمرا کی دیگر تحریریں