دسمبر، عرش صدیقی کی یاد ، اور اذیت کے عشرے


بعض لمحے زندگی کے ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص یاد کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاص لمحہ، کوئی تاریخ، دن یا مہینہ، کوئی نہ کوئی ایسی خوشگوار یاد ہوتی ہے کہ جو آپ کو اس مخصوص دن یا مہینے کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔

کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو کہیں نہ کہیں تعلق جوڑ رہا ہوتا ہے۔ کوئی ایسا موسم ہوتا ہے کہ جس میں تپتی دوپہر میں بھی ہوا ٹھنڈی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ لمحے، یہ دن، تاریخیں اور موسم آپ کے اندر کی کیفیات کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ کوئی واقعہ ہوتا ہے جو کسی خاص وقت اور خاص لمحے میں آپ کے دل پر دستک دیتا ہے۔ پھر آپ خوشبو محسوس کرتے ہیں اوریاد کرتے ہیں اچھے لمحوں کو اچھی باتوں اور اچھے لوگوں کو۔ اچھے لوگ جو ایک ایک کر رخصت ہو رہے ہیں۔ کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے جو تعلق ہیں، ہماری جو رفاقتیں ہیں وہ ایک ایک کرکے ختم ہو رہی ہیں۔ اچھے لوگ جا رہے ہیں لوگ قافلے سے رخصت تو ہو رہے ہیں مگر شامل نہیں ہو رہے۔

ایسی ہی ایک یاد ہر سال دسمبر کے مہینے میں ہمارے دلوں پر دستک دیتی ہے۔ دسمبر کا مہینہ ایک طویل عرصہ سے عرش صدیقی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ ان کی پیدائش کا مہینہ ہے یا اس مہینے کے دوران وہ ہم سے بچھڑ گئے تھے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ عرش صدیقی تو اپنی زندگی میں بھی اس مہینے کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے کہ دسمبر ان کی ایک نظم کا پہلا مصرع ہے۔ نظم امر ہوئی اور نظم کے ساتھ ہی دسمبر بھی۔

عرش صاحب زندہ تھے تو اس ماہ کے دوران کسی نہ کسی محفل میں، کسی نہ کسی مشاعرے میں، کسی تقریب میں ہم ان سے ان کی نظم ضرور سنتے تھے۔ آج وہ ہم میں نہیں۔ مگر وہ نظم ہمارے پاس موجود ہے۔ دسمبرآتے ہی عرش صاحب کی نظم ہمیں اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہمیں ہی نہیں ہر اس شخص کو اپنے حصار میں لیتی ہے جس نے یہ نظم سن یا پڑھ رکھی ہے۔

کانوں میں عرش صاحب کی آواز گونجتی ہے: ’اسے کہنا دسمبر آگیا ہے‘ کیسا شاندار مصرع ہے۔ نظم کا عنوان ہے۔ ایسا عنوان کہ جو دسمبر کے آتے ہی بے ساختہ لبوں پر آجاتا ہے۔ ہم چشم تصور میں دیکھتے ہیں کہ کوٹ پتلون پہنے ہوئے عرش صاحب سٹیج پر آتے ہیں اپنی کوئی غزل یا نظم سناتے ہیں یا کسی جلسے میں صدارتی خطبہ دیتے ہیں اور پھر جب وہ سٹیج سے جانے لگتے ہیں تو ایک شور مچ جاتا ہے ’اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے، اسے کہنا دسمبر آگیا ہے۔ عرش صاحب نظم سنائیں، نظم سنائیں۔ دسمبر والی نظم سنائیں‘۔

عرش صاحب واپس مائیک پر آتے ہیں۔ مسکرا کر حاضرین کی طرف دیکھتے ہیں دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال کر تھوڑی دیر خاموش رہتے ہیں۔ ’بھئی یہ نظم تو آپ نے کئی مرتبہ سنی ہے۔ ہر سال سناتا ہوں۔ کچھ اور سن لیں‘۔ ’نہیں۔ نہیں پھر سنائیں۔ پھر سنائیں اس مرتبہ بھی سنائیں‘۔

عرش صاحب کچھ دیر توقف کرتے ہیں اور پھر اسی طرح پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے، اپنے مخصوص لہجے میں نظم سنانے لگتے ہیں: ’اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے/ دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا/ اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا/ مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں، نہ جاگے گا/ اسے کہنا، ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی دیواروں میں لرزاں ہے / اسے کہنا شگوفے ٹہینوں میں سو رہے ہیں / اوران پر برف کی چادر بچھی ہے / اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا/ تو کیسے برف پگھلے گی / اسے کہنا کہ لوٹ آئے‘۔

نظم ختم ہو جاتی ہے مگر لوگوں کی دلچسپی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایک ایسا سحر ہے، اس نظم میں کہ جس نے آج بھی قاری کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ ویسا ہی سحر ہے جو عرش صاحب کی اپنی شخصیت میں تھا۔ اور یہ ہستی ہمیں ان لمحات میں یاد آرہی ہے جب دسمبر کا پہلا عشرہ گزرنے والا ہے اور یہ عشرہ عرش صاحب کی یاد کا عشرہ تھا۔

اس رومانوی مہینے کے آخری دو عشرے بہت درد ناک ہو چکے ہیں۔‌ دوسرا عشرہ سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس کے بچوں کی یاد اور آخری عشرہ شہید بے نظیر کی یاد میں اذیت کا عشرہ بن چکا ہے ۔ اور اس کے بعد برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).