دل یزداں میں کھٹکتا ہے تو

زمیں زادوں کے بیچ عجب یہ رسم چلی ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے اور جو چلے تو عبث پکارا جائے یا پھر مارا جائے کیا فرق پڑتا ہے بس گنتی میں ایک آدمی ہی تو کم ہوا ہے۔ آج طویل مدتی انتظار کے بعد روح الامین کی بارگاہ ایزدی میں طلب ہوئی۔ ارشاد ہوا جا اور جا کر زمیں زادوں کے دلوں سے وسوسے نکال لا۔ مرتا کیا نہ کرتا چاروناچار وسعتیں پھلانگتا ایک دل میں جا

Read more

بلھا کیہ جاناں میں کون

دوست! یہ بتانے میں آخر ہرج ہی کیا ہے کہ تم کون ہو اور کہاں سے وارد ہوئے ہو۔ بھئی! کیسے بتائیں، جب زندگی کے دھاگے ہی الجھے پڑے ہوں، تو ہم کون اور تم کون! لیکن خیر قصہ ہے تو کہنا ہی پڑے گا۔ لیں جناب!

جب پیدا ہوئے تو والدین نے ایک نام اور شناخت عطا کر دی۔ اس زمانے میں لوگ پوچھتے یہی تھے کہ میاں کس کے صاحب زادے ہو؟ اب اگر کوئی ابا حضور کو نہیں جانتا تھا، تو دادا کا پوچھ لیتا اور یوں میں کون کی وضاحت بھی پا لیتا۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، شناخت کے دائرے بھی پھیلتے گئے۔ مجھے کچھ کچھ یاد ہے، جب پہلے دن سکول گئے تو استاد نے پوچھا کون ہو؟ ہم نے کہا فلاں کے بیٹے اور فلاں کے پوتے ہیں۔ کہنے لگے وہ تو ہمیں بھی پتا ہے مگر تم بتاؤ تم کون ہو؟

Read more

روبکار بنام ناصر کاظمی

بھلے وقتوں کی بات ہے کہ جب شاعر کہنے میں اور سامع سننے میں آزاد ہوا کرتے تھے۔ یہی وہ زمانے سہانے تھے کہ جب مسلمان بادشاہ شعرا کو طوطی ہند جیسے خطابات سے نوازتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچتے تھے کہ اس خطاب میں ہند جیسا کافر لفظ کیوں لایا گیا ہے۔ اور شاعر بھی من موجی ہوتے تھے کہ جو جی میں آیا کہہ دیا۔ اب ذرا میر جیسے سید کو دیکھیے۔ ۔ ۔ دیر میں بیٹھنے، قشقہ

Read more