اپوزیشن کے جلسے اور مثبت معاشی اشارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن جلسے اور ریلیاں منعقد کر حکومت کو دباو میں لانے کے ساتھ ساتھ عوام میں حکومت مخالف جذبات ابھارنے کی حتی الوسع کوشش کررہی ہے، اپوزیشن اپنی کوشش میں اتنی سنجیدہ ہے کہ وہ کرونا جیسی وبا کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی۔ اگرچہ حکومت بارہا کہ چکی ہے کہ جلسے معطل کیے جائیں تاکہ کرونا کی وبا مزید نہ پھیلے، لیکن اپوزیشن حکومت کی کسی تاکید اور تلقین پر کان نہیں دھر رہی، حکومت دوہری مشکل کا شکار ہے اگر اپوزیشن کے جلسے روکنے کی کوشش کریں تو فساد برپا ہوتا ہے جس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اپوزیشن تیار بیٹھی ہے اور اگر حکومت جلسہ ہونے دیں تو کرونا جیسی وبا کے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔

ملک میں کرونا کی دوسری لہر آئی ہوئی ہے، روز بروز متاثرہ افراد کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اپوزیشن فی الحال کرونا کے مہلک اثرات کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ بلکہ اپوزیشن کے نمائندہ ارکان تو کرونا کو ایک خیالی وبا تصور کرنے اور کرانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ بلاول بھٹو زرداری خود بھی اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتیں حکومت کو دباو میں لانے کے لیے اپنے ورکرز اور اپنی جانوں پر کھیل رہی ہے۔

یہ طرز سیاست کسی طور بھی قابل فہم نہیں ہے۔ اپوزیشن جلسوں میں حکومت کو مسلسل نا اہل ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حالانکہ مثبت معاشی اشاروں نے غیر جانب دار میڈیا اور غیر جانب دار مبصرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس ضمن میں دو امثال قابل ذکر ہیں۔ اول فیصل آباد میں کئی برسوں سے بند چھوٹی بڑی صنعتیں دوبارہ فعال ہو گئی ہیں، چھوٹے کارخانوں میں کام کرنے والوں کی قلت پائی جا رہی ہے دوم وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کو خصوصی پیکج دیا جس کی وجہ سے یہ شعبہ جو سست روی کا شکار تھا سبک رفتار ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم کی تقریروں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وزیر اعظم عمران خان غریب لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اس سلسلے میں احساس پروگرام کے تحت بزرگوں کو دو ہزار روپے ماہانہ بھی دیے جانے کا اعلان ہو چکا ہے۔ نیز احساس پروگرام کے تحت طلبہ کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔ خیبر پختون خوا اور کچھ علاقوں میں صحت کارڈ بھی تقسیم کیا جا رہے ہیں۔ جس کے تحت غریب خاندان کے پاس دس لاکھ روپے کی خطیر رقم میسر ہے۔

بلاشبہ تا دم تحریر حکومت نے جتنی معاشی پالیساں مرتب کیں ان پالیسوں کا مقصد غریب آدمی کی بہتری اورترقی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنائی گئیں غریب نواز پالیساں کے موثر ہونے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا جائے۔ تاکہ پالیساں پوری طرح ثمرآور ثابت ہوں۔ رہی بات اپوزیشن کے شور شرابے کی تو امید ہے کہ صنعتیں چلتی رہیں تو حکومت مخالف نعرے مشینوں کے شور میں دب جائیں، وہ زمانے لد گئے جب کسی واقعے، خبر، یا اعداد شمار کی تصدیق اخباری خبر سے ہوتی تھی، رہنما اپنے سیاسی مخالفین کو پچھاڑنے کے لیے غلط اعداد شمار و خبریں اخبارات میں شائع کرواتے تھے۔

اب سوشل میڈیا کا دور ہے کسی بھی نوعیت کا واقعہ ہو اس کی ویڈیو منظر عام پر آجاتی ہے یوں اخباری خبریں غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جب لوگوں کو صحت کارڈ ملے گا، روزگار ملے گا، تو اپوزیشن کا دعوی کہ حکومت نا اہل ہے باطل ہو جائے گا۔ یہی بات حکومت کے لیے بھی ہے اگر حکومت کسی شعبے میں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تو حکومتی وزرا چاہیے جتنے مرضی بیانات داغتے رہیں، پریس کانفرنس کرتی رہیں، سوشل میڈیا اور الیکڑانک میڈیا جھوٹ کے پردے سے سچ کو آشکار کردے گا، اپوزشن کی بے جان تحریک کی ایک وجہ وہ مثبت معاشی اشارے بھی ہیں جو اہل نظر دیکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ حکومت کے خلاف چلنے والے تحریکیں کم کم کامیابی سے ہم کنار ہوئی ہیں۔ سیاسی جلسوں اور تقریرو ں سے حکومتیں نہیں رخصت ہوا کرتیں، اس کے باوجود اپوزیشن کسی سیاسی معجزے کے انتظار میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •