سر سید کا مذہب: معروضی تجزیہ


سر سید احمد خان زندہ ہوتے تو زندگی کی 203 بہاریں دیکھ چکے ہوتے۔ ان کے انتقال کے بعد 122 خزائیں ان پر نوحہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے جیتے جی جو شجر علم ومعرفت لگایا تھا وہ 145 سال پرانا، تناور، سایہ دار اور رنگ برنگے پھلوں پھولوں سے لدا ہوا اپنے لگانے والے کی عظمت پر کائنات کو مسلسل گواہ بناتا چلا جا رہا ہے۔

مدرسۃ العلوم علی گڑھ کا قیام 1875 میں اور محمڈن اینگلو اورینٹل کالج 1877 میں قائم کیا گیا تھا جو بتدریج ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ اسے سر سید کی جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب کی تعبیر کہا جا سکتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سو سال مکمل ہونے پر میری یہ تحریر سر سید کی بارگاہ میں نذرانہۂ عقیدت ومحبت کی حیثیت رکھتی ہے۔

اگر اسلام Living Philosophy سر گرم عمل فلسفہ حیات ہے اور اس کی تعلیمات کو قیامت تک انسان کی رہبری کے لیے توانائیوں کے ساتھ باقی رہنا ہے، ان شاء اللہ ضرور رہے گا، تو بدلتے تقاضوں کے ساتھ ایک سے زیادہ نقطہ ہائے نظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے نئے لباس میں پیش کیے جانے سے اس کی مصداقیت ومقبولیت میں اضافہ ہی ہوگا، حقیقت نہیں بدل جائے گی۔ نئے لباس، آب وہوا کی تبدیلی اور غذاؤں کا اختلاف زندگی کی علامات ہیں، شو کیس میں رکھی ہوئی حنوت شدہ لاشوں کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بلا تفریق مذہب وملت بنی نوع انسان کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ فریق مخالف کی آراء کو پڑھتے کم ہیں اور اس کے خلاف لکھتے زیادہ ہیں، جسے غیر سمجھ لیتے ہیں اس کے بارے سوچتے کم ہیں اور بولتے زیادہ ہیں، ان کے کاموں کو قریب سے دیکھتے نہیں اور تنقید زیادہ کرتے ہیں۔ یہ بھی جاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ بزعم خویش جسے انہوں نے اپنا مخالف باور کر لیا ہے در حقیقت وہ ان کا مخالف ہے بھی یا نہیں۔ کسی کے قول وعمل کا معنی مطلب نکالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ غیر مذہب کو کون پوچھتا ہے، خود اپنے ہم مذہبوں کے بارے ان کا بڑا بے رحمانہ رویہ ہوتا ہے جو محتاج بیان نہیں ہے۔ یہ مرض خاص طور پر ہم مسلمانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے وہ بھی کسی ایک طائفہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، اس حمام میں سبھی بے لباس ہیں۔

ایک فرد اپنے خاندان، سماج اور درس گاہوں سے جہاں بہت ساری اچھی اور صحیح باتیں سیکھتا پڑھتا ہے وہیں بہت سی بری اور غلط باتیں بھی اسے سکھا پڑھا دی جاتی ہیں۔ بیشتر ایسے کم نصیب ہوتے ہیں جو سکھائی گئی اچھی بری تمام باتوں کو سرمایہۂ حیات سمجھ کر ڈھوتے رہتے ہیں۔ خال خال ایسے خوش نصیب بھی ہوتے ہیں جو شعور کی منزل پر پہنچنے کے بعد اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے برائیوں اور غلط باتوں سے دامن بچاتے ہیں، ان کے غلط اور برے ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور اچھائیوں اور درست باتوں کو سینے سے لگا کر اپنی زندگی تابدار کرتے ہیں اور ان کو بنیاد بنا کر قومی فلاح وبہبود کے منصوبے بناتے ہیں۔

ہندوستان کی مسلم تاریخ میں ایسی ہی ایک شخصیت کا نام (سر) سید احمد خان ہے۔ بلا شبہ وہ ایک مظلوم شخص ہیں۔ انہوں نے ”تہذیب الاخلاق“ شروع کیا اور اپنے خون جگر سے اس کے صفحات کو روشن کرتے رہے، ولیم میور کی گستاخانہ کتاب ”لائف آف محمد“ کے جواب میں ”خطبات احمدیہ“ لکھی، تفسیر قرآن جہاں تک لکھ سکے لکھ ڈالا اور اسے جدید فلسفہ سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کی نوجوان نسل مستشرقین کی جارحانہ یلغار کے سامنے اپنے آپ کو بے سہارا محسوس کرتے ہوئے قرآن پر اپنے ایمان سے دستبردار نہ ہو جائے۔

بے شمار تہمتوں اور بہتانوں کے باوجود انگریزوں سے راہ ورسم رکھی اور ان کی حمایت کا بیڑا اٹھایا تو اس کے پیچھے بھی صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ کار فرما تھا۔ انکار کی گنجائش نہیں کہ سر سید نے اسلام کی تفہیم میں متعدد مقامات پر ایسی ٹھوکریں کھائی ہیں جن کی صفائی نہیں دی جا سکتی، لیکن سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مجددین امت میں ایسا کون ہے جس نے کوئی غلطی نہ کی ہو، اور اس کی عصمت کا دعوی کیا جانا درست ہو؟

سر سید پر اعتراض ہے کہ انہوں نے خدا کو نیچری کہا، نبوت کو ملکہ انسانی قرار دیا، معراج کے واقعہ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک حالت خواب کا سفر قرار دیا، موسی علیہ السلام کو میتھ میٹکس کے Trigonometry اور جغرافیہ کے علم سے بے خبر قرار دے کر ان کی توہین کی، قرآنی آیات کے ناسخ ومنسوخ ہونے کے انکاری ہوئے، جنات، فرشتے اور شیاطین کی خلقت کے بارے میں مسلم علماء کے خیالات سے الگ اپنی رائے پیش کی، معجزات کی عام روش سے ہٹ کر توضیح کی اور ان کو نبوت کی دلیل تسلیم نہیں کیا اور خلافت راشدہ کی بابت یہ خیال ظاہر کیا کہ جو غالب آیا اسے خلافت مل گئی۔

مذکورہ بالا اعتراضات میں بیشتر ایسے ہیں جو حسن نیت سے سیاق وسباق کے ساتھ ان کی تحریر کو پڑھنے کے بعد از خود رفع ہو جاتے ہیں۔ ہاں کچھ ایسے بھی ہیں جن میں سر سید جادہ اعتدال سے دور نکل گئے ہیں، لیکن ان میں بھی وہ پہلے شخص نہیں ہیں جو ان خیالات کے حامل ہوں، ان کے پیشتر معتزلہ بھی انہیں افکار وعقائد کے حامل تھے جو سر سید کے ہیں، لیکن ان کی کسی نے تکفیر نہیں کی۔ جی! احمد ابن حنبل نے بھی نہیں جو انہیں کے سبب اقتدار کے ایوانوں میں سب سے زیادہ معتوب و مبغوض رہے۔

واضح رہے کہ اہل سنت وجماعت کے عقائد سے اختلاف ایک بات ہے اور دین اسلام سے انحراف بالکل دوسری بات ہے۔ سر سید نے اہل سنت سے اختلاف کیا ہے، اسلام اور مسلمانوں سے ان کی وابستگی و وفاداری پر ان کا صحیفہ حیات ایسا گواہ ہے جس کے بعد کسی اور گواہ کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ سر سید کے عقائد کی صفائی پیش کرنا نہ تو ہماری ذمہ داری ہے اور نا ہی ہم اس کے درپے ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ صفائی دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیوں کہ بہت ساری خوبیوں کے ساتھ بعض خامیاں انسانی عظمت کی دلیل ہیں۔ بصورت دیگر مجبور محض ملائکہ اور صاحب اختیار انسان میں وجہ امتیاز ہی کیا رہ جائے گی اور بروز حشر باز پرس کے لیے باقی بھی کیا رہ جائے گا۔ خدا کی ستاری وغفاری صفات کے جلوہ نما ہونے اور عظیم تر انسانوں کو بھی ان کا محتاج ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بتقاضائے بشریت ان سے کچھ بھول چوک بھی ہو جائے۔

خلافت راشدہ کی ترتیب کے بارے میں سر سید کا خیال یہ ہے کہ جو فریق غالب آیا وہ خلیفہ بن گیا۔ کسی شیعہ نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ اس وقت ہوتے تو کس کا ساتھ دیتے؟ سر سید نے جواب دیا؛ میں خود دعویدار ہو جاتا۔ تاہم یہ خیال کرنا کہ سر سید خلفائے راشدین کا احترام نہیں کرتے تھے، سراسر زیادتی ہوگی۔ نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ اہل تشیع کی تبرا بازی سے رنجیدہ بھی ہوتے تھے۔ اہل سنت وجماعت کے عقیدہ کے مطابق سر سید کا ایسا خیال غلط ہے، لیکن کیا واقعی یہ غلطی ایسی ہے کہ ان کا مواخذہ کیا جائے؟

رسول اللہ صلی علیہ و سلم کے وصال کے بعد بنی سعدہ کے دالان میں تین دنوں تک مہاجرین وانصار صحابہ کے درمیان اس مسئلہ پر بحث ہوتی رہی۔ دونوں فریق نے اپنے استحقاق میں لمبی تقریریں کیں، اپنے فضائل شمار کروائے، اسلام کے تئیں اپنی وفاداریوں اور جاں نثاریوں کی رودادیں پیش کیں، مسئلہ حل ہونے کو نہ آتا تھا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث بیان کی اور بحث ختم ہو گئی، جناب ابو بکر خلیفہ منتخب ہو گئے۔

بحث ختم ہوئی لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔ قبیلہ خزرج کے جلیل القدر انصاری صحابی سعد ابن عبادہ رضی اللہ عنہ کو یہ فیصلہ منظور نہیں ہوا۔ وہ بدر، خندق، احد، حنین اور فتح مکہ جیسے تمام بڑے معرکوں میں شریک تھے۔ انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے، وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ بیشتر روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بیعت میں تردد تھا اور انہوں نے چھ ماہ تک بیعت نہیں کی۔

خلافت یا ترتیب خلافت اگر ایمان وکفر کا مسئلہ ہے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی تھے جن کے ایمان وایثار کی گواہی قرآن نے دی ہے ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ ان سب کے علاوہ حضرت امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے خلفائے راشدین کی معروف ترتیب کو تسلیم نہیں کیا ہے، ابو حنیفہ حضرت علی کو حضرت عثمان سے افضل مانتے تھے اور امام مالک حضرت علی کو چوتھا خلیفہ شمار ہی نہیں کرتے تھے، حتی کہ حضرت عثمان کے بعد حضرت علی کی فضیلت کے قائل بھی نہیں تھے، کہتے تھے حضرت عثمان کے بعد سب برابر ہیں۔

اسراء ومعراج کی بابت سر سید نے لکھا ہے کہ ”معراج کی نسبت مسلمانوں کو جس چیز پر ایمان لانا فرض ہے وہ اس قدر ہے پیغمبر خدا نے مکہ سے بیت المقدس پہنچنا ایک خواب میں دیکھا، اور اسی خواب میں انہوں نے در حقیقت اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں مشاہدہ کیں، مگر اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ آں حضرت ﷺ نے جو کچھ خواب میں دیکھا یا وحی ہوئی یا انکشاف ہوا وہ بالکل سچ اور بر حق ہے“ ۔ سر سید پہلے شخص نہیں ہیں جن کا یہ خیال ہو، بہت سے متقدمین ومتاخرین اکابر علمائے اسلام حتی کہ بعض صحابہ بھی روحانی معراج کے قائل تھے وہ بھی کچھ اس طرح کہ روح جسم سے الگ بھی نہیں ہوئی تھی۔

اس پیچیدگی کو دور کرنے کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”عالم مثال“ کی ایک نادر اصطلاح کا سہارا لیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جسم معراج میں گیا وہ بعینہ جسم نبی جیسا تھا اور روح بھی مثل روح محمد ﷺ تھی۔ علامہ سید سلیمان ندوی نے سیرۃ النبی میں اسے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ معراج کے روحانی بمعنی ”عالم مثال“ ہونے اور عالم خواب میں واقع ہونے کا فرق اہل خرد بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کے تین طریقے اہل سنت کے فہم دین کا حصہ ہیں۔ آیت اپنے حکم کے ساتھ منسوخ ہو گئی ہو، آیت باقی ہو صرف حکم منسوخ ہوا ہو اور تیسری صورت یہ ہے کہ حکم باقی ہو اور آیت منسوخ ہو گئی ہو۔ جس آیت میں نسخ کی بات کہی گئی ہے بلا شبہ سر سید اس کو بہ سر وچشم قبول کرتے ہیں لیکن مذکورہ بالا تینوں طرق نسخ کا انکار کرتے ہیں۔ وہ قرآنی آیات میں نسخ کے قائل نہیں ہیں، آیت نسخ کو سابقہ شریعتوں کے منسوخ کیے جانے پر محمول کرتے ہیں۔ سر سید اس میں بھی تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اہل سنت کے متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت کی ہے۔

نسخ آیات قرآن کا مسئلہ علماء کے درمیان موضوع بحث رہا ہے۔ نسخ کے عقیدہ پر اتفاق کے باوجود منسوخ شدہ آیات کی تعداد پر علماء متفق نہ ہو سکے۔ کسی نے دو سو سے زیادہ آیتوں کو منسوخ قرار دیا، کسی نے پچاس، کسی نے بائیس، کسی نے بارہ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے صرف پانچ آیات کے منسوخ ہونے کی بات کہی ہے۔ قرآنی آیت سے آیت کا منسوخ ہونا تو سمجھ میں آ سکتا ہے لیکن علماء اہل سنت تو یہ بھی مانتے ہیں کہ حدیث متواتر سے بھی قرآنی آیات منسوخ ہو سکتی ہیں۔

اب اس عقیدہ میں اگر کوئی اختلاف کرے تو اسے باہر کا دروازہ کیوں کر دکھایا جا سکتا ہے! علامہ اقبال گو کہ معروف معنی میں عالم دین نہیں تھے، لیکن بہتیرے ہما شما سے بہت بہتر دین کا فہم رکھتے تھے، انہوں نے سید سلیمان ندوی کے نام اپنے خط میں حدیث متواتر سے قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کے عقیدہ کی شدت کے ساتھ تردید کی ہے۔ مواخذہ ہو تو کس کا، جس نے زیادہ آیتوں کے نسخ کا قول کیا، یا جس نے تعداد کم کر دی، یا جس نے حدیث متواتر کے ذریعہ نسخ قرآن کا عقیدہ اختیار کیا، یا اس کا جس نے کہا کہ سابقہ کتب سماویہ توریت انجیل وغیرہ کے احکام کا نسخ مراد ہے! کیوں کہ قرآن کسی نئے دین کی کتاب نہیں ہے بلکہ انبیائے سابقین کے شرائع کا تسلسل اور اس کا تکملہ ہے۔

یہ بات کہ سر سید نے خدا کو نیچری کہا اور حضرت موسی کے میتھ میٹکس اور جغرافیہ سے لا علم ہونے کی بات لکھ کر ان کی توہین کی؛ توجہ طلب ہے۔ ہمیں بھی بتایا گیا تھا کہ سر سید نیچری ہے، اور گویا یہ ایسی بات ہے جس سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ شاید ایسا اس لیے تھا کہ اس دور کے علماء انگریزی نہیں جانتے تھے اور الہی صفت کے لیے کسی انگریزی لفظ کا استعمال بالکل نئی بات تھی، اس لیے انہیں یہ لفظ گراں گزرا ہوگا، بعد کے لوگوں کے لیے اسے برا ماننے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔

سر سید نے یہی تو کہا ہے کہ نیچر/physical world خدا کا فعل ہے اور قرآن خدا کا قول، ان دونوں میں یگانگت ضروری ہے، خدا کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ بات درست ہے، بالکل تضاد نہیں ہے۔ سر سید کے اس خیال کو مثبت طریقہ سے بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ سورج، چاند، ستارے، زمین، آسمان، ہوا، پانی، دریا، سمندر، پہاڑ، اجسام انسان وحیوان، بادل، جنگل، روشنی اور تاریکی؛ قرآن نے جیسا بتایا ہے سب ویسے ہی ہیں اور جو کام ان کے ذمہ لگایا ہے وہ کر رہے ہیں۔ Nature کا عربی زبان میں ایک ترجمہ ”فطرت“ بھی ہے۔ اگر اس معنی میں سر سید اپنے آپ کو یا خدا کو نیچری کہتے تھے تو اس کا سمجھنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اللہ کا فرمان ہے : فاقم وجھک للدین حنیفاً ۚ فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا ۚ لا تبدیل لخلق اللہ ۚ ذٰلک الدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون

مفہوم: یکسو ہو کر اللہ کے دین کو اپنا لو، اللہ نے لوگوں کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے، اللہ کے دین میں کوئی رد وبدل نہیں، وہی سچا دین ہے۔

مذکورہ بالا آیت میں اللہ نے فطرت/Nature کو اپنا دین بتایا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”کل مولود یولد على الفطرة، ابواہ یھودانہ وینصرانہ ویمجسانھ“ ۔ ہر بچہ فطرت/Nature پر پیدا ہوتا ہے، اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ”فطرت“ کو اللہ کا مطلوب دین بتایا جس پر وہ اپنے بندوں کو پیدا کرتا ہے۔ لہذا اگر نیچر کو فطرت کے معنی میں استعمال کیا جائے تو نیچری ہونے سے بہتر اور کیا ہوا جا سکتا ہے۔ بہر حال سر سید کے ذریعہ بولے گئے لفظ کو طبیعیات/Physics کے معنی میں سمجھا جائے جیسا کہ خود ان کی تحریروں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے یا ”فطرت“ مراد لیں جو تقریباً طبیعیت کے ہم معنی ہے، بہر دو صورت نیچری ہونا حسن ہی قرار پائے گا، اسے گستاخی سمجھنا اور سمجھانا نا قابل فہم ہے۔

البتہ قانون فطرت کے سہارے معجزات کی تاویل بالکل علیحدہ بحث ہے، اور اس میں سر سید اہل سنت وجماعت سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ نیچری ہونا اور معجزات کی تاویل کرنا دو علیحدہ نظریات ہیں، اسی طرح معجزات کی تاویل کرنا اور سرے سے نصوص کا منکر ہونا دو علیحدہ حقائق ہیں۔ باریکیوں پر نگاہ کیے بغیر سر سید کو کسی مسلمہ اصول کا منکر قرار دینا علمی بد دیانتی کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے۔

موسی علیہ السلام کے میتھ میٹکس کے کسی قاعدہ یا جغرافیہ سے ناواقف ہونے کی بات کو ان کی توہین قرار دینا نا مناسب طرز فکر ہے۔ نر کھجور کے پھول کو مادہ کھجور کے اوپر ڈالنے سے متعلق اللہ کے رسول محمد ﷺ کی ممانعت اور پھر اس کی اجازت اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمانا کہ تم اپنے دنیاوی معاملات کو بہتر سمجھتے ہو، نیز غزوہ خندق کے موقع پر حملہ آوروں سے مقابلے کی تدبیر کے لیے صحابہ سے رائے طلب کرنا اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کرنے کا مستفاد اس سے زیادہ اور کیا ہے کہ نبوت، مقام نبوت اور کار نبوت میں اس طرح کی دنیاوی باتوں کے علم یا عدم علم سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

خدا کی وحدانیت، رسول کی عظمت، اسلام کی صداقت، قرآن کی حقانیت، ارکان اسلام کی مصداقیت، قضاء وقدر اور حشر ونشر ان تمام ضروریات دین میں سر سید کا عقیدہ بعینہ وہی ہے جو عام علماء اہل سنت کا ہے۔ بعض وقت دین اور شعائر دین کے احترام میں وہ بہتوں سے بہت آگے نکلتے دکھائی دیتے ہی۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کے ”امین“ کے لقب سے ملقب ہونے کے بعد کسی اور کو امین کہا جانا گوارا نہیں تھا، کچھ لوگوں نے اپنے اخباروں کے نام ”مخبر صادق“ ”منشور محمدی“ اور ”اخبار الصدیق“ رکھے تو سر سید نے کہا کہ ”اس کا دل پھٹ کیوں نہ گیا، اس کا قلم ٹوٹ کیوں نہ گیا جو اس نے ان لفظوں کو لکھا“ ۔

عربی عبارت کے بغیر قرآن کا صرف ترجمہ کسی زبان میں شائع کرنا قرآن کی توہین خیال کرتے تھے، دنیاوی مجلسوں اور شعر وسخن کی محفلوں میں ”سبحان اللہ، ماشاء اللہ“ کے ذریعہ داد وتحسین کو شعائر اللہ کی اہانت تصور کرتے تھے۔ اللہ اور رسول کی محبت کے ضمن میں لکھتے ہیں ”سچ یہ ہے کہ جس شخص نے ایک گھڑی بھی عشق نہیں برتا وہ نہ خدا کی دوستی کا مزہ جانتا ہے نہ انسان کی دوستی کا اور نہ محبت کے لائق ہے“ ۔ مہدی علی خان کو ایک خط میں لکھتے ہیں ”پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ دولت عشق مجازی بھی تم کو نصیب ہوئی ہے یا نہیں!

کیوں کہ بغیر اس کے آدمی میں اور مٹی میں کچھ فرق نہیں ہے“ ۔ ولیم میور کی گستاخانہ کتاب ”لائف آف محمد“ کا جواب لکھنے کی تیاری کے سلسلے میں مہدی علی خان کو ایک خط میں یہ الفاظ لکھتے ہیں ”مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت میں جیسا کہ پہلے ارادہ تھا کتاب لکھی جائے۔ اگر تمام روپیہ خرچ ہو جاوے اور میں فقیر بھیک مانگنے لائق ہو جاؤں تو بلا سے، قیامت میں یہ تو کہہ کر پکارا جاؤں گا کہ اس فقیر مسکین احمد کو جو اپنے دادا محمد ﷺ کے نام پر فقیر ہو کر مر گیا، حاضر کرو“ ۔

ملائکہ اور شیاطین کے وجود کا اقرار کرتے ہیں لیکن اس کا مستقل خارجی وجود تسلیم نہیں کرتے بلکہ انسانی ولاہوتی صفات وکیفیات کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ معاملہ میرے خیال میں ویسا ہی ہے جیسا علمائے اسلام کے نزدیک اللہ کی صفات کا ہے۔ ایک گروہ نے اللہ کی صفات کو اس کی ذات کا حصہ بتایا، دوسرے نے اسے خدا کی ذات سے علیحدہ قرار دیا اور تیسرے نے ہم جیسوں کو بیچ منجدھار میں لا کر چھوڑ دیا اور کہا خدا کی صفات نہ اس کی ذات کا حصہ ہے نہ اس سے علیحدہ ہے، کوئی سمجھے تو کیا سمجھے! جنات کی تحقیق پر ان کا ایک مستقل کتابچہ ”تفسیر الجن والجان على ما فی القرآن“ کتب خانوں میں دستیاب ہے۔ گو کہ انہوں نے عام روش سے ہٹ کر جنات کے وجود کو تسلیم کیا ہے، دلائل کچھ ایسے بے وزن بھی نہیں ہیں کہ ان کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔

معجزات اور عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بارے سر سید کے خیالات اور تاویلات اہل سنت کے لیے نا قابل قبول ہیں۔ تا ہم ان کے حسن نیت پر ہمیں ذرہ برابر شبہ نہیں ہے۔ خود ان کے بقول انہوں نے مذہب اسلام کو تحقیق وتدقیق کے بعد اختیار کیا تھا، ان کا اسلام تقلیدی اسلام نہیں تھا۔ اگر تقلید پر قائم رہتے تو دین سے دست کش ہو جاتے۔ اسی طرح اپنے فہم کے مطابق مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے کچے ذہن نیز قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف مستشرقین کے باطل نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں اخلاص کے ساتھ اجتہاد کیا اور خدمت دین وحمایت مسلمین کی حسب توفیق کوشش کی جس میں کچھ لغزشیں بھی ہوئی ہیں۔

مہذب اقوام اپنے محسنین وقائدین کی خامیاں شمار نہیں کرتیں بلکہ ان کی خوبیوں کو یاد کر کے ان کے اسٹیچو یا مقبرے کے سامنے اظہار عظمت کے لیے اپنی پگڑیاں اور تاج اتار دیتی ہیں اور ان پر فخر کرتی ہیں۔

اللہ کے فرمان عالیشان ”ان الحسنات یذھبن السیئات“ ۔ بلا شبہ نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ”، اور رسول اللہ ﷺ کی مبارک حدیث“ اقیلوا ذوی الھیئات عثراتھم ”۔ معزز لوگوں کی لغزشوں کو در گزر کرو“ ۔ سے ہم پر امید ہیں کہ سر سید بھی اللہ کے نزدیک صالحین میں شمار ہوں گے۔ 1857 سے 1898 تک سر سید کی زندگی کا ایک ایک لمحہ یقینی طور پر عملی نیکیوں سے عبارت ہے جس میں دفاع اسلام وحرمت پیغمبر اسلام اور حمایت مسلمین کے علاوہ ہمیں کچھ اور نظر نہیں آتا۔

سر سید کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنے نظریات کسی پر تھوپنے کی کوشش کبھی نہیں کی یہاں تک کہ اپنے کالج کے طلبہ پر بھی نہیں۔ چہ جائیکہ مخالف رائے رکھنے والوں اور کفر وزندقہ کا فتوی لگانے والوں کو کافر وفاسق کہتے، سر سید نے اپنے کالج میں انہیں کی دینیات کو شامل نصاب کیا اور تدریس کے لیے روایتی سنی وشیعہ علماء کی خدمات حاصل کیں۔

باوجود اس کے کہ اس طرح کی باتیں قابل مواخذہ یا واجب البرات غلطی نہیں ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ایک کی غلطی دوسرے کی غلطی کا جواز نہیں بن سکتی، اللہ اور نبی کی شان میں ”گستاخی“ کی بات نکلی آئی ہے تو علامہ اقبال کے بعض فرمودات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ خدا کو مخاطب کرتے ہیں : ”سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم۔ بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے“ ، ”کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے۔ بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے“ ، نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی۔

مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا“

مقصود ہرگز یہ بتانا نہیں ہے کہ اقبال نے مسلمات کی توہین کی ہے بلکہ اپنے سماج اور تعلیمی درسگاہوں کا تضاد دکھانا مقصود ہے کہ جسے ہم چاہنے لگتے ہیں اس کا سات خون معاف کر کے اگر اس نے داڑھی نہیں رکھی ہوتی ہے تو اس کے دل میں داڑھی اگا دیتے ہیں اور جس سے نفرت کرتے ہیں اس کی اچھی خاصی داڑھی پر ابرو سمیت استرا پھیر دیتے ہیں۔ وحدۃ الوجودی فلسفہ کو عین اسلام قرار دیتے ہیں اور کوئی انا الحق کا نعرہ لگا دیتا ہے تو اسے دار پر کھینچ دیتے ہیں۔ سر سید کا شاعر نہ ہو کر نثر نگار ہونا شاید ان کی غلطی تھی ورنہ درد دل میں تو وہ بہت سارے دھنییوں سے کہیں زیادہ دھنوان تھے۔

Facebook Comments HS