لو وہ بھی کہہ رہے ہیں
اردو کے کچھ اشعار ایسے ہیں جو نہ صرف زباں زد عام ہیں بلکہ ان کا استعمال ضرب المثل اور محاوروں کے بطور ہوتا رہتا ہے جیسے یہ شعر کہ
ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
ہم نے مساجد توڑ پھوڑ کر ان ڈھیر لگا دیا۔ مدرسوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے رکھ دیا۔ اسلام آباد جیسی قیمتی زمین مندر تعمیر کرنے کے لئے وقف کردی۔ 4 سو سے زائد ٹوٹ پھوٹ کا شکار مندروں کی تزئین و آرائش کا ذمہ لیا۔ توہین رسالت کرنے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والوں کو کھلی اجازت دی کہ جس طرح چاہیں ملک کے طول و عرض میں ان کی عظمت و احترام کی دھجیاں بکھیرتے رہیں۔ ان کی راہ میں رکاوٹ بننے والے افراد اگر جذبہ ایمانی میں کسی کے خلاف کوئی کوئی کارروائی کر گزریں تو ان کو تختہ دار پر بھی کھینچ دیا۔
نصابی کتابوں سے محمد صلی اللہ و علیہ و آلہ و سلم کو آخری بنی ماننے جیسے الفاظ کو حذف کر کے قادیانیت کو فروغ دیا۔ کرتار پور راہداری کو غیر مسلموں جن میں سکھ، ہندو اور واجب القتل قادیانی بھی شامل ہیں، ان کو ملک کے اندر آنے جانے کی کھلی چھوٹ دی۔ ان پر پاسپورٹ اور ویزے جیسی قیود بھی ختم کر دی گئیں۔ مساجد میں لاکھ لاک ڈاؤن رہا لیکن تمام غیر مسلموں کو اجازت حاصل رہی کہ وہ کورونا کی جتنی خدمت چاہیں کریں اور مذہبی رواداری کے تحت ہی ہر قسم کے مذہبی و مسلکی جلسہ و جلوس کی اجازت دینے کے باوجود نہ جانے امریکا بہادر کو پاکستان کے ساتھ کیا دشمنی تھی کہ اس نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جو مذہبی جنون کا شکار ہو کر اپنے مذہب کے سوا کسی بھی دوسرے مذہب کو ماننے والوں کے ساتھ نہ صرف نہایت امتیازی رویہ رکھتے ہیں بلکہ ایسے تمام افراد جو ان ممالک میں رائج مذہب سے تعلق نہیں رکھتے، ان پر عرصہ حیات تنگ کر کے رکھتے ہیں۔
اخبارات میں شائع ہونے والی ایک متعصبانہ خبر کے مطابق ”دفترخارجہ نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت مخصوص تشویش کے حامل ممالک (سی پی سی) میں دیگر ممالک کے ساتھ شامل کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اس کو من گھڑت اور مخصوص فیصلہ قرار دیا“ ۔ اسی خبر میں دفتر خارجہ، پاکستان، نے بھارت کو اس فہرست سے باہر رکھنے پر مزید کہا ہے کہ ”پاکستان کو اس فہرست میں رکھنا حقیقت کے بالکل برعکس ہے اور اس عمل کے مصدقہ ہونے پر شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے مقصد کو فروغ دینے کی جانب پیش رفت میں معاون نہیں ہوتے۔ دفترخارجہ نے مزید کہا کہ یہ قابل افسوس ہے کہ امریکا نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیا کہ پاکستان اور امریکا اس معاملے پر باہمی سطح پر تعمیری انداز میں مصروف ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت امریکا نے پاکستان، چین، ایران، سعودی عرب، تاجکستان، ترکمانستان، نائیجیریا، شمالی کوریا، میانمار اور اریٹریا کو سی پی سی میں شامل کیا ہے ”۔
دو باتیں امریکا کے اس حیران کن فیصلے میں بہت ہی غور طلب ہیں، ایک یہ کہ اس نے بھارت میں ہونے والی کسی بھی غیر انسانی کارروائی اور ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ہر اس قدم کو جو اس نے دیگر مذاہب کو آزادی دینے کے سلسلے میں اٹھائے، بالکل ہی نظر انداز کرتے ہوئے نہایت یک طرفہ فیصلہ صادر کر دیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
امریکا بہادر نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنی جگہ لیکن موجودہ حکومت کے لئے بھی یہ فیصلہ لمحہ فکریہ ہے۔ قرآن میں بہت واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ مسلمان ہونے کے تعلق سے ہر مسلمان کو یہ بات خوب اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت نے نہ صرف قرآن کی اس واضح ہدایت کو نظر انداز کیا بلکہ اہل کفر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسے اقدامات بھی اٹھا لئے جو سراسر اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے۔
بنی آخرالزماں کو آخری پیغمبر نہ ماننے کی کوششیں، غیر مسلموں کے لئے سہولیات اور مسلمانوں کے لئے مشکلات کا کھڑا کرنا، اللہ کے گھروں کو ڈھاتے چلے جانا، بت خانوں کے لئے جگہیں الاٹ کرنا، دین کے فروغ کو روکنا اور مشرکوں کو تبلیغ کی آزادیاں فراہم کرنا جیسے اقدامات کے بعد یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازے در دروازے کھولتا چلا جائے گا، موجودہ حکومت کی بڑی بھول تھی جس کا نتیجہ ایسا ہی نکلنا تھا۔
پاکستان کا یہ کہنا کہ امریکا نے بھارت کو کیوں بلیک لسٹ نہیں کیا، درست سہی لیکن کیا بھارت کو بلیک لسٹوں کی فہرست میں ڈال دیا جاتا تو پاکستان پر لگائے جانے والے زخموں کی مرہم پاشی ہوجاتی۔ بات سیدھی سی یہ ہے کہ آخر امریکا نے پاکستان کو مذہبی جنونیوں میں شامل ہی کیوں کیا۔
پاکستان جس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا 73 سال گزر جانے کے باوجود بھی ہم اس مقصد کی جانب ایک انچ بھی نہیں بڑھے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ دور سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تک ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھیں اور تمام دین دشمنوں کو اپنا دوست تصور کرتے رہیں گے، دنیا کی جانب سے ایسے ہی اقدامات سامنے آتے رہیں گے اور ہم جواباً یہی کہتے نظر آئیں گے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں


