کتوں کی اقسام
ہمارے دادا کو تازی کتے رکھنے کا شوق تھا۔ وہ کتوں کی دوڑ کا انعقاد بھی کرواتے تھے۔ یہ دوڑنے والے کتوں کو پنجابی میں تازی کہتے ہیں۔ انگریزی میں گرے ہاؤنڈ کہتے ہیں۔ ان کا جسم بالکل قحط زدہ پتلا، لمبا ہوتا ہے۔ یہ تیتر اور خرگوش کے شکار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پورا سال سکونمارتے ہیں۔ لیکن دسمبر سے لے کے فروری تک یہ مختلف ریس کے مقابلوں میں جان مارتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے کتے بل ڈاگ ہوتے ہیں جن کی گلیڈی ایٹرز کی طرح لڑائی کروائی جاتی ہے۔
جو کتا ایک دفعہ یہ لڑائی ہار جائے وہ دوبارہ میدان میں نہیں اتر سکتا۔ ایک تو ان کی ویڈیو بن جاتی ہے۔ یہ ویڈیو سب شکاری دیکھتے ہیں۔ اب ویڈیوز یوٹیوب پہ اپ لوڈ ہو جاتی ہے۔ ہارے ہوئے کتے بدنام ہو جاتے ہیں۔ دوسرا جنگ کا خوف ان کے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے کتے صرف شوقیہ طور پہ رکھ لیے جاتے ہیں۔ یہ نہ کاٹ سکتے نہ بھونک سکتے ہیں۔ اگر انہیں غیرت بھی دلائی جائے تو کہتے ہیں پونک کے کی فائدہ وڈنی تے دندی ایہہ (بھونک کے کیا فائدہ کاٹنا مقصود ہے ) ۔
کتوں کی تیسری قسم بٹیر پکڑنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جنہیں پوائنٹر کتا کہا جاتا ہے۔ جہاں بٹیر ہو اس کی دم اس طرف کو پوائنٹ کر دیتی ہے، اور بٹیر شکار ہوجاتا ہے۔ چوتھی قسم میں ہر طرح کا وفادار کتا ہے۔ جن کے گلوں میں مالک کا عنایت کردہ پٹا ہوتا ہے۔ یہ مالک کے ہر دشمن پہ بھونکتا ہے۔ مالک بیشک کرپٹ، قاتل ہو مگر یہ مالک پہ آنچ نہیں دیتا۔ یہ مالک کی دہلیز پہ جان نچھاور کر دیتا۔ مگر ایسے کتے اس وقت شدید تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں جب مالک اپنے دشمنوں سے دوستی کر لیتا ہے۔ یہی کتا جب چارسو کنال کے فارم ہاؤس پہ مالک کو دشمنوں سے دوستی کرتے دیکھتا ہے، تو اپنا کان لٹکا کے تھوتھنی زمین پہ رکھ لیتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو نکال کے، اسی دشمن کے تلوؤں کو چاٹتا ہے ۔
پانچویں قسم بڑی نازک مزاج ہوتی ہے۔ یہ کتے ماڈلز کی طرح خوبصورت ہوتے ہیں۔ لمبے بال، کٹے ناخن ہوئے، امپورٹڈ خوشبودار۔ یہ کتے مکمل ایلیٹ قسم کی بیگمات کی گودوں میں پلے ہوتے ہیں۔ یہ کتے حفاظت کے لیے بالکل بھی نہیں ہوتے۔ ان کے سامنے اگر گانا لگ جائے تو تھرکنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اصلی ٹامیز ہوتے ہیں۔ جو بیرون ملک سفر بھی کرتے ہیں۔ ان کے پاسپورٹ چیک کیے جائیں تو بیشمار ممالک میں سفیر کے طور پہ جا چکے ہوتے ہیں۔ اگر بیرون ملک کبھی کلب کا چکر لگے تو ایسے کتے وہاں بعض اوقات آپ کو مہمان خصوصی ملیں گے۔ ان کتوں کی خوراک فاسٹ فوڈ ہوتا ہے۔ یہ پاکستان میں کسی مخصوص وقت کے لیے کسی کنسلٹنٹ کی طرح نوکری کر کے واپس یورپ امریکہ میں بس جاتے ہیں۔ دوران سروس بھی یہ کتے گرمیاں سوئٹزرلینڈ میں گزارتے ہیں۔
چھٹی قسم کتوں کی آوارہ ہوتی ہے۔ یہ آزاد منش اپنے علاقے میں کسی اجنبی کو گھسنے نہیں دیتے۔ یہ بغیر کہے گاؤں کی حفاظت پہ مامور ہوتے ہیں۔ یہ بھوکے سوکھے گاؤں کی محبت میں جان ہتھیلی پہ رکھ کے پھرتے۔ مگر کسی کے تلوے نہیں چاٹتے۔ یہ محب وطن کتے بعض اوقات کسی چور کی اندھی گولی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی لاش سڑک کنارے گل سڑ جاتی ہے، مگر گاؤں کا کوئی باسی اس لاش کو ٹھکانے نہیں لگاتا۔ فیض صاحب نے انہی آوارہ کتوں کے لیے یہ نظم کہی۔
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں
کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے


