شیخ رشید پاکستان کے نئے وزیرِ داخلہ: ‘سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے’
وفاقی کابینہ میں رد و بدل وزیرِ اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد کیا گیا جب کہ کابینہ ڈویژن نے جمعے کو اس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق شیخ رشید کو وزارتِ ریلوے سے ہٹا کر وزارتِ داخلہ، اعظم سواتی کو انسدادِ منشیات کی وزارت سے ہٹا کر وزارتِ ریلوے اور بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو وزیرِ داخلہ سے ہٹا کر وزارتِ انسداد منشیات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ جیسی اہم وزارت کا قلم دان سیاسی جملہ بازی کے لیے مشہور شیخ رشید کو دیے جانے کو سیاسی مبصرین اہم تبدیلی قردار دے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بطور وزیرِ داخلہ شیخ رشید حزبِ اختلاف کے اتحاد ‘پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی’ کی حکومت مخالف تحریک کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
شیخ رشید کی تقرری پر اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ٹرین حادثات میں 100 بے گناہوں کے قتل کے ملوث شیخ رشید کو ایسی وزارت قلم دان دینا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
Federal Minister Sheikh Rashid calls on Prime Minister pic.twitter.com/PmxGP6rjEf
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) December 11, 2020
سیاسی تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں شیخ رشید کی بطور وزیر داخلہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سرگرمیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔
اُن کے بقول شیخ رشید کی تقرری سے سیاسی منظر نامے میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ شیخ رشید وزیرِ داخلہ کے ساتھ ساتھ حکومت کے ترجمان بھی ہوں گے کیونکہ ان کی لفاظی اور بات چیت حکومت کے لیے بہت اہم ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں شیخ رشید کی زیادہ صلاحیت ترجمان کی ہے اور پی ڈی ایم کی تحریک اور ان کے بیانیے کو جواب دینے کے لیے شیخ رشید کی صلاحیتیں حکومت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
سابق وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اُن کا دور ایک خاموش دور تھا جس کی وجہ سے حکمراں جماعت تحریک انصاف کو مشکلات پیش آئیں اور اسی مقصد کے لیے اب شیخ رشید کو سامنے لایا گیا ہے۔
حکومت نے نہ صرف کابینہ میں وزرا کے قلمدانوں میں رد و بدل کیا ہے بلکہ جمعے کو وزیرِ اعظم کے صوابدیدی اختیارات کے تحت مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر بھی بنا دیا گیا ہے۔
ایوان صدر میں جمعے کو منعقدہ تقریب کے دوران عبدالحفیظ شیخ نے بطور وفاقی وزیرِ خزانہ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وزیرِ اعظم کے مشیروں کی کابینہ کمیٹیوں میں شمولیت سے متعلق فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے آئینی بحران سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان نے قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد عبدالحفیظ شیخ کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا تھا۔
پاکستان کے آئین کے مطابق وزیرِ اعظم آرٹیکل 91 کے تحت کسی غیر منتخب شخص کو چھ ماہ کے لیے وفاقی وزیر مقرر کر سکتے ہیں۔ یہ تعیناتی صرف ایک مرتبہ ہو سکتی ہے اور اس کے بعد اس شخص کو عہدے پر برقرار رہنے کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے انتخاب میں منتخب ہونا ہو گا۔


