رنی کوٹ کی شہزادی
رنی کوٹ پر وہ ایک سرد چاندنی رات تھی، جب مجھے نیند نہیں آئی تو میں رہائشی کمروں کے باہر الاؤ کے گرد رکھی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ وقت دیکھا تو دو بجے تھے۔ رک رک کر ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے شال اور سوئٹر سے گزر کر جسم میں کپکپی پیدا کر رہے تھے۔
ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ تیز سرسراہٹ سے میں چونک گیا۔ سردی کا احساس بھول کر سرسراہٹ کی آواز کی سمت دھیان دیا۔ پھر قریب راہداری کے پاس سے آنے والی آواز کی طرف جانے کے لئے ہمت جٹانے لگا۔
ٹوئر پرآئے تمام دوست خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے لیکن میں جاگتی آنکھوں سے سنسان رات میں اندھیرے کو تک رہا تھا۔
سرسراہٹ کی آواز ایسی تھی جیسے زمین پر کوئی چیز سرک رہی ہو۔ میں ہمت کر کے دبے پاؤں راہداری کی طرف بڑھنے لگا۔ الاؤ سے ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھا لی۔ میں ہولے ہولے بڑھنے لگا۔ راہداری کے پاس پہچنے سے پہلے ہی ہوا کے تیز جھونکے نے مشعل کو بجھا دیا۔ ڈر جسم میں اندر تک سرایت کر گیا مگر میں نے خود کو تسلی دی ”ہمت نہیں ہارنی، کچھ نہیں ہوگا۔“ تسلی کے باوجود خوف کے سائے میں آگے بڑھنے لگا۔
راہداری کے پیچھے کمرے کی دیوار سے جیسے گزرا وہاں مجھے ایک سایا دکھائی دیا۔ چاندنی میں سایا واضح نظر آ رہا تھا۔ زمین پر سائے کا عکس گولائی میں پھیلا ہوا تھا۔ یوں تو میں کسی بھوت پریت پر یقین نہیں رکھتا مگر یہ سایا دیکھ کر میری چینخ نکل گئی۔ سایا دوسری طرف رخ کیے ہوئے تھا اور مجھے آتا دیکھ کر آگے بڑھنے لگا۔
میں نے آواز دی ”رکیے؟“
سایا چپ چاپ آگے بڑھتا رہا۔ اس نے گاؤن کی طرح کی چادر اوڑھ رکھی تھی، جو چلتے چلتے سرک رہی تھی۔
میں نے پھر آواز دی
” کون ہیں آپ۔ رکیں۔ ؟“ اس بار میری آواز میں ڈر نہیں تھا۔
سایا اس بار میری آواز پر رک گیا، مگر چہرہ دوسری طرف تھا۔
” کون ہیں آپ، کیا کر رہے ہیں۔ کیا آپ گائڈ صادق ہیں؟“ میں نے پھر جملہ دھرایا۔
کوئی آواز نا آنے پر میں اس کے سامنے چلا گیا۔ سر چادر سے ڈھکا ہوا تھا اس لئے مجھے چہرا واضح نظر نہیں آیا۔ لیکن گلے میں پہنے ہوئے سونے اور چاندی کے زیوارت کی چمک سے اندازہ ہو گیا کہ یہ مرد نہیں عورت ہیں۔ عورت کا تصور آتے ہیں ذہن میں لاتعداد سوالات پیدا ہونے لگے۔
” کون ہے یہ، چڑیل یا پری؟ کوئی راہ بھٹکی خاتون مسافر؟ کوئی سیاح؟“
میں نے سرجھٹک کر تمام سوالات کو ختم کیا اور ایک بار مخاطب ہوا۔ ”آپ بولیں تو کون ہیں، اس سنسان جگہ پر کیا کر رہی ہیں، رنی کوٹ میں اس وقت بس ہم چار دوست اور گائڈ ہیں۔“
اس بار ایک سریلی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ”میں روماسا ہوں!“
آواز چاشنی سے میٹھی اور ریشم سے ملائم تھی، ایسی آواز میں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ لمحے کے لئے میں اس آواز کی ملاہٹ میں کھوگیا۔ اس کی آواز دوبارہ کانوں میں پہن کر آئی۔
” میں روماسا ہوں؟“ مدھ بھری آواز مجھے مدھوش کیے جا رہی تھی۔
” روماسا کون؟“ میں نے اس کا جملہ ختم ہوتے ہی سوال داغ دیا۔
” میں یہی رہتی ہوں، یہ میرا گھر ہے، پورا قلعہ، یہ پورا خطہ۔ !“ روماسا نے کہا، لیکن مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ میں نے حیرانی سے رکتے رکتے پوچھا
” مجھے۔ آپ کی بات۔ سچ مچ سمجھ نہیں آئی۔ یہ آپ کا گھر ہے۔ کیا مطلب آپ کا۔“
وہ شاہانہ انداز سے، بے نیاز ہو کر چل رہی تھی اور میں حیران و پریشان۔
میں نے پھر اس سے پوچھا ”دیکھیں مجھے الجھائیں نہیں۔ یوں تو میں یہاں اس سے پہلے بھی آ چکا ہوں، لیکن اس بار یہاں رات کو رکا ہوں۔ میں تھوڑا خوفزدہ ہوں۔ مجھے ڈرائیں نہیں۔“
میں روماسا کے ساتھ ایک کمرے میں پہنچا جہاں لکڑی کا بڑا جھولا تھا۔ وہ اس جھولے میں بیٹھ گئی۔ اور مجھے ساتھ بیٹھنے کا کہا۔ میں ہچکچاتے ہوئے بیٹھ گیا مگر میرے چہرے پر حیرانی کے آثار کم نا ہوئے۔
”میں سندھ کی شہزادی ہوں۔ جب ساسانیوں نے حملہ کیا تو میں اور میری سہیلیاں سیستان ( سیہون ) میں تھیں۔ ساسانیوں کے ساتھ جنگ میں ہماری فوج ماری گئی۔ ہم سب اس قلعے میں پہنچے، یہ محفوظ ترین قلعہ تھا۔ لیکن ساسانی فوج ہمارے پیچھے یہاں تک پہنچ گئی۔ یہاں جنگ میں ہمارے بہادر سپاہیوں نے ویرگتی پائی۔ تب میں نے اپنی مریادہ بچانے کے لئے قلعے کے کنویں میں کود کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔“ روماسا چپ ہو گئی مگر میرے ہوش اڑ چکے تھے۔ سرد رات کے باوجود میں پسینا پسینا تھا۔
اس نے کہا ”تم ڈر کیوں رہے ہو، میں کیا ڈراؤنی ہوں۔“
سیور کی روشنی میں پہلی بار اس کا چہرہ دیکھا۔ جیسا نام تھا ویسی ہی وہ سندر تھی۔ روماسا۔ چندرما سا چہرہ۔ وہ سرسوتی کا شاہکار تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے حوصلہ ملا۔ لیکن اگلے ہی پل جاتا رہا۔
” تم میرے منگیتر ہو، میں تمہاری لئے جنموں سے بھٹک رہی ہوں۔ پونم کی ہر رات میں یہاں تمہاری تلاش میں آتی ہوں۔ تم ساسانیوں کے حملے میں شہید ہوئے تھے۔ کتنی صدیاں گزر گئیں۔ تم پنر جنم لیتے رہے لیکن میں یہاں اسی قلعے کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ گئی۔“ روماسا یہ کہہ کر چپ ہو گئی۔
” میں۔ میں۔ آپ کا منگیتر، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں آپ کا منگیتر نہیں ہوں۔“
” آپ کو یقین نہیں ہو رہا نا۔ کیسے یقین ہوگا یہ کوئی کل کی بات تو نہیں ہے۔
ہم پر حملہ ایرانی بادشاہ شاپور دوئم نے کیا تھا۔ جس کے بعد سب کچھ ختم ہو گیا۔ سب کچھ۔ ”روماسا نے کہا۔
” تم نے آتم ہتیا کیوں کی، یہ تو بزدلی ہے۔“ میری بات پر وہ افسردہ ہو گئی۔
” جب تم کو شہید کیا گیا تو میرے لئے جینے کی کوئی خواہش نہیں رہی تھی۔“ روماسا نے کہا۔
” لیکن مجھے آپ کی کہانی میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ کوئی اور ہوگا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔“ میں نے دوبارہ جملہ دہرایا۔
” آپ کو اب بھی یقین نہیں ہے، ٹھہریں۔“ روماسا نے بات کرتے ہوئے تالی بجائی۔ یکایک میرے سامنے ایک محل کے دربار کا منظر آ گیا۔ جس میں دو بڑے چتر پردے کی طرح لٹک رہے تھے۔ ایک چتر روماسا کا تو دوسرا میرا تھا۔ دربار میں روماسا بادشاہ کے برابر بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ میں بیٹھا تھا۔ یہ اس دربار کا منظر تھا جس میں روماسا کی شادی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اعلان کے ساتھ شادیانے بجنے لگے۔ میں ان مناظر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک منظر پہلے جیسا ہو گیا۔
” اب آپ کو یقین آیا۔ میں نے جو کہا وہ کلپنا نہیں تھا، حقیقت تھی۔ واستو میں آپ اور میں ایک تھے۔ لیکن حالات ایسے ہوئے کہ ہم ایک نا ہو سکے اور میں ابھی تک ادھوری ہوں۔ میری آتما بھٹک رہی ہے۔ قلعے کا کنواں میرا گھر ہے مجھے اس جنم سے رہائی دلوائیں۔“ روماسا میرے ہاتھ پکڑ کر بچوں کی طرح رونے لگی۔
میرا ڈر ختم ہو گیا تھا اب مجھے اس پر دیا آنے لگی۔ میں نے کہا
” آپ کی مکتی کا کوئی اپائے ہے۔“
” آپ ہی میرا اپائے ہیں۔ آپ مل گئے ہیں تو مجھے سب کچھ مل گیا۔“ روماسا بولی۔
” دیکھیں وہ باتیں پرانی تھیں۔ اس کو صدیاں گزر گئیں۔ میں کئی جنم لے کر گھر گھرہستی بساتا رہا ہوں، اب بھی میں شادی شدہ ہوں۔“ میں نے اسے ویلٹ میں رکھی فیملی کی تصویر اسے دکھائی۔ وہ تصویر دیکھ کر اداس ہو گئی۔ اپنے ہاتھ سے آنسو پونچھ کر کہنے لگیں ”میں آپ کی گھر گھرہستی کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔ میں اب تھک گئی ہوں۔ یہ جیون آپ ان کے ساتھ گزاریں۔ لیکن اگلے جنم میں آپ میرے ہوں گے صرف میرے۔“ روماسا اپنی بات مکمل کر کے کھڑی ہو گئی۔
میں نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کرکہا ”روماسا ٹھیک ہے اگلے جنم میں ہم ایک ہوں گے ۔ ہماری ادھوری کویتا سمپورن ہو گی۔“
میری بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ کبوتروں کے پھڑپھڑانے کی آواز پر میں چونک گیا۔ دیکھا تو جھولا ابھی تک جھول رہا تھا۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ کھڑکی سے نیلا آسماں کمرے میں جھانک رہا تھا۔ اور جھولے پر بیٹھی ایک چڑیا اڑ کر کھڑکی سے باہر چلی گئی۔


