انسانی حقوق کا چارٹر 1948: پاکستان کا کردار کیا تھا؟


دس دسمبر کا دن دنیا کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس روز اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے چارٹر کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلامیہ صدر روزویلٹ کی اہلیہ الینوار روزویلٹ کی صدارت میں ایک کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ 10 دسمبر 1948 کو جنرل اسمبلی نے اس کو کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔ 10 دسمبر کو اس بارے میں مکرمہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کا ایک معلوماتی کالم (ہم سب پر) شائع ہوا۔ اس چارٹر کی تیاری میں پاکستان نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ جو کمیٹی اس چارٹر کو تیار کر رہی تھی اس میں پاکستان کی نمائندگی پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کر رہے تھے۔

جیسا کہ اس قسم کی اہم دستاویزات تیار کرتے ہوئے معمول ہے، اس کی تیاری کے دوران کئی نکات پر اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے اور ان کے بارے میں مختلف ممالک نے اپنی اپنی رائے کا اظہار اپنے ووٹوں سے کیا تھا۔ ان میں سے ایک اہم اختلاف کا ذکر کرنا ضروری ہے جو کہ اس وقت پیدا ہوا جب جنرل اسمبلی میں سوویت یونین نے اس چارٹر میں کچھ ترامیم پیش کیں۔

اس چارٹر میں یہ شق موجود تھی کہ اس چارٹر میں جو حقوق بیان کئے ہیں وہ ان لوگوں کو بھی حاصل ہوں گے جنہیں اپنی حکومت چلانے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی وہ علاقے جو ابھی آزاد نہیں تھے وہ برطانیہ یا فرانس یا کسی اور یوروپی ملک کے تحت تھے۔ مثال کے طور پر افریقی ممالک میں کینیا، یوگینڈا، گیمبیا، تنزانیہ، بوٹسوانہ، نائیجیریا، سیرالیون، کیمرون، گیبن، زمبابوے، زیمبیا، مڈغاسکر اور سینیگال، برکینا فاسو اور نائجر ابھی آزاد نہیں ہوئے تھے۔ عرب ممالک میں لیبیا، مراکش، تیونس، قطر، بحرین اور کویت ابھی محکوم تھے۔ ایشیائی ممالک میں ماریشس اور ملیشیا نے بھی ابھی آزادی کی منزل حاصل نہیں کی تھی۔

اس صورت حال میں ایک تضاد تھا۔ اور وہ یہ کہ انسانی حقوق کے چارٹر کی پہلی شق ہی یہ تھی کہ سب انسان پیدائشی طور پر آزاد ہیں اور حقوق اور وقار میں برابر ہیں۔ اور ایک اور شق یہ تھی کہ کسی کو غلام یا محکوم نہیں بنایا جا سکتا۔ اور دوسری طرف دنیا کے کئی ممالک کو سیاسی آزادی بھی حاصل نہ ہو اور وہ کسی اور ملک کے محکوم کی حیثیت رکھتے ہوں۔ یہ تو ایک کھلا تضاد تھا۔ لیکن عالمی سطح پر بھی ایسے تضادات کو مصلحتوں کی دیوی کے اشاروں پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سوویت یونین کی طرف سے اس تضاد کو دور کر نے کے لئے ایک اہم ترمیم پیش کی گئی۔ اور وہ ترمیم یہ تھی :

“تمام لوگوں اور تمام اقوام کو قومی طور پر حق خود اختیاری حاصل ہے۔ وہ حکومتیں جو ایسے علاقوں کا انتظام کر رہی ہیں جن کے لوگوں کو اپنے علاقوں پر حکومت کا اختیار نہیں ہے، اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے ان علاقوں کے لوگوں کو یہ حق دلانے کے لئے سہولت مہیا کریں گی۔۔۔”

سوویت یونین نے اس کے علاوہ اور ترامیم بھی پیش کی تھیں لیکن جیسا کہ اس ترمیم کے الفاظ واضح کر رہے ہیں یہ ترمیم سب سے زیادہ اہم تھی کیونکہ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ جو ممالک اس وقت تک بہت سے ممالک کو محکوم بنائے ہوئے تھے، اب انہیں ان محکوم ممالک کو آزادی دینے کا عمل شروع کرنا ہو گا۔

اس ترمیم کے حق میں تقریر کرتے ہوئے سوویت یونین کے نمائندے نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کے چارٹر میں حق خود اختیاری کے اہم حق کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ بہر حال جب 10 دسمبر 1948 کو جنرل اسمبلی میں اس ترمیم پر ووٹنگ ہوئی تو اس ترمیم کے حق میں صرف 8 ووٹ پڑے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس ترمیم کے خلاف 34 ووٹ ڈالے گئے اور 14 ممالک نے غیر جانبدار رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔

جن ممالک نے سوویت یونین کی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالے ان میں سوویت یونین، بیلو روس، یوکرین، چیکوسلاویکیا، پولینڈ، یوگو سلاویا، کولمبیا تو شامل تھے لیکن یہ بات ہماری تاریخ کا قابل فخر حصہ ہے کہ پاکستان نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

برطانیہ اور فرانس تو اس وقت بہت سے ممالک پر قابض تھے۔ اس لئے انہوں نے تو اس ترمیم کے خلاف ووٹ دیا۔ ان کے علاوہ دنیا میں آزادی اور جمہوریت کا سب سے زیادہ ڈھول پیٹنے والے امریکہ نے بھی اس ترمیم کے خلاف ووٹ دیا۔ اور یہ بات حیرانی میں ڈالتی ہے کہ آزادی اور سوشلزم کے اتنے بھاشن دینے کے با وجود بھارت نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ مسلمان ممالک میں سے صرف پاکستان نے اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ ایران ترکی اور شام نے تو اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ اور اس ووٹنگ میں افغانستان مصر عراق اور سعودی عرب غیر جانبدار رہے تھے۔

یہ ایک اور حیرانی کی بات ہے کیونکہ اس تجویز کے منظور ہونے کی صورت میں کئی مسلمان ممالک کی آزادی کے عمل نے تیز ہوجانا تھا۔ اس ووٹنگ کی تفصیلات 10 دسمبر 1948 کی جنرل اسمبلی کی کارروائی کے صفحہ 930 پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ اس اہم روز کی کارروائی میں پاکستان کا موقف متوازن تھا کیونکہ پاکستان نے سوویت یونین کی چار ترامیم میں سے دو کے حق میں ووٹ دیا تھا اور دو کے خلاف ووٹ دیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).