گندم کی سرکاری قیمت اور کسان کی مصیبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گندم ہمارے معاشرے کی بنیادی خوراک ہے اور ملک میں تقریباً تمام آبادی روزانہ تین وقت اسے خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گندم کی فصل اپریل/مئی میں برداشت ہوتی ہے اور اکتوبر/نومبر میں جب اس کی بوائی شروع ہو تو حکومت اس کی سپورٹ پرائس مقرر کرتی ہے جس سے کسان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی گندم آنے والے وقت میں کس بھاوٴ بکے گی۔ لیکن قیمت کا اصل تعین مارکیٹ ہی کرتی ہے۔ مثلاً اگر گندم ضرورت سے کم ہو تو مارکیٹ میں اس کی قیمت خرید بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہوا ہے اور گندم ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو مارکیٹ میں قیمت خرید گر جاتی ہے۔ لیکن سپورٹ پرائس مقرر کرنے سے زمیندار ایک حد تک نقصان سے بچا رہتا ہے۔

امسال گندم کی کمی دیکھی گئی ہے۔ عموماً گندم کی کاشت کے رقبہ اور اوسط میں خاص فرق نہیں پڑتا۔ مگر حکومت کو اسے سنبھالنے اور صحیح طریق پر فروخت کرنے میں اگر بد انتظامی یا بدعنوانی کا سامنا ہو تو بہت سی گندم سمگل ہوجاتی ہے۔ جس سے ملکی ضرورت کے لیے گندم کم پڑ جاتی ہے اور چونکہ شہر میں لوگ گندم سال بھر کے لیے ذخیرہ نہیں کرتے اور فلور ملز سے ہر چند روز بعد آٹا خرید کر استعمال کرتے ہیں تو اس طرح مارکیٹ میں طلب بڑھ جانے سے قیمت خرید بڑھ جاتی ہے۔ جس کا تجربہ امسال بڑی شدت سے ہوا۔

پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہاتی ہے اور دیہات میں یہ مسئلہ اس قدر گمبھیر نہیں جتنا شہروں میں۔ اور اس کی ایک بنیادی وجہ دیہات میں سال بھر کی گندم ذخیرہ کر لینے کی روایت ہے۔ ایک خاندان کی اوسطاً گندم کی سالانہ ضرورت 10 سے 25 من تک ہوتی ہے اور دیہات میں اکثر لوگ مزدوری یا ملازمت کر کے اور پیشگی حاصل کر کے بھی اپنی سال بھر کی ضرورت کے مطابق گندم ذخیرہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ دوران سال انہیں اس کی کمیابی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

اگر شہروں میں بھی اس رواج کو فروغ دیا جائے تو اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام کو گندم کی کمی کی شکایت نہیں ہوگی۔ 15 / 10 من گندم رکھنے کے لیے بہت زیادہ جگہ یا انتظام درکار نہیں ہوتا۔ آرام سے گھر کے ایک کونہ میں اسے رکھا جاسکتا ہے۔

جب گندم مہنگی ہونا شروع ہو تو حکومت چونکہ شہری ووٹ اور رائے کو اہمیت دیتی ہے اس لیے کوشش کرتی ہے کہ اس کی قیمت کم رکھی جائے اس بات سے قطع نظر کہ کسانوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ مہنگائی صرف ایک آئٹم میں نہیں ہوتی بلکہ ہر جنس گراں قیمت ہوجاتی ہے۔ مثلاً بجلی۔ ٹرانسپورٹ۔ سبزی۔ گھی۔ کپڑے اور دیگر استعمال کی چیزیں مہنگے داموں دستیاب ہونے لگتی ہیں۔ اس صورت میں اگر حکومت محض گندم کی قیمت کم رکھ کر کوشش کرے کہ مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے تو یہ نہ صرف خام خیالی ہے بلکہ گندم کاشت کرنے والے کسانوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے جنہیں باقی اشیاء ضرورت تو مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے مگر گندم حکومت کے دباوٴ پر سستے داموں فروخت کرنا پڑتی ہے۔ جبکہ کاشت کے دیگر عوامل مثلاً کھاد، بیج، مزدوری وغیرہ مہنگے ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کی اصل بنیاد زراعت ہے۔ لیکن حکومت بعض اوقات ایسے قوانین بنا دیتی ہے جن کا بظاہر فائدہ ہوتا ہے مگر درپردہ کسی متبادل انتظام فراہم نہ کرنے کی وجہ سے نقصان کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً اس سال حکومت نے کسانوں پر مونجی کی فصل کی کٹائی کے بعد ضائع ہو جانے والی پرالی کو آگ سے جلا کر کھیت صاف کرنے پر پابندی لگادی تاکہ دھواں اور سموگ کے اثرات سے محفوظ رہا جاسکے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کسان اس پرالی کو آگ کیوں لگاتا ہے؟ دراصل اکتوبر نومبر میں مونجی کی کٹائی کے بعد گندم کی بجائی میں بہت تھوڑا وقت بچتا ہے اور اس دوران مونجی کے بچے کھچے مڈھوں اور پرالی کو اٹھانے کا وقت ہی نہیں ہوتا کہ کھیت صاف کر کے اس پر بروقت گندم کی بجائی کی جاسکے۔ چنانچہ بروقت گندم لگانے کے لیے لا محالہ اس پرالی کو جلانا پڑتا ہے۔ ورنہ دیر کرنے سے گندم کی اوسط پیداوار کم ہوجاتی ہے جس سے پھر ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر پابندی لگانی ہی ہے تو کسان کو اس کے متبادل کوئی انتظام مہیا کیا جائے۔ مثلاً ایسے کیمیکلز سپرے کرنے کے لیے تیار کیے جائیں جو اس پرالی وغیرہ کو زمین میں ہی گلا دیں۔ یا اس زائد پرالی کو جو توانائی کا ایک اچھا ذخیرہ ہے۔ حکومت کسان سے خرید کر توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرے۔ تاکہ ان کی پریشانی دور ہو۔

جب تک ہم لوگوں کے مسائل کا ادراک کیے بغیر ہوائی پالیسیاں بناتے رہیں گے تب تک ترقی کے راستے پر ہمارے قدم ڈگمگاتے ہی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •