قاسم علی شاہ۔ ایک مجسم جذبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم و تربیت کے حوالے سے معروف سائنس دان آئن سٹائن نے بہت خوبصورت بات کی تھی کہ تعلیم کا مقصد معلومات کا حصول نہیں بلکہ ایسی ذہنی تربیت حاصل کرنا ہے جو انسان میں سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ قاسم علی شاہ صاحب بنیادی طور پر ایک معلم اور تربیت کار ہیں اور ایک ایسے معلم جو نا صرف تعلیم کے اس مطلوبہ مقصد کو سمجھتے ہیں بلکہ اس کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی گفتگو سنیں تو انسان کے سوچنے کی تمام صلاحیتیں گویا بروئے کار آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

ہمیں ایسے لوگ کم نظر آتے ہیں جن کے قول و فعل میں مکمل مطابقت ہو۔ شاہ صاحب ان معدودے چند لوگوں میں سے ہیں جو اپنے لفظوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں اس پر خود بھرپور عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں بے پناہ تاثیر ہے۔ باتیں ان کے دل سے نکلتی ہیں اور ان کے سامعین کے دلوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کی خوبصورت پر خلوص گفتگو کے اثرات سامعین کے چہروں اور خاص طور پہ ان کی آنکھوں سے عیاں ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

شاہ صاحب sharing پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ بہت قیمتی ہو کر مفت ہوجانے کا درس ہی نہیں دیتے اس پر بڑے باکمال انداز میں عمل بھی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اچھے لیڈر کا خود بہترین ہونا تو ضروری ہوتا ہی ہے لیکن اس کا اصل کمال یہ ہے کہ اس سے ملنے والے لوگ بھی بہتر سے بہتر ہونا شروع ہو جائیں۔ اسی طرح حقیقی عظیم لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں موجود ہر کسی کو عظیم بنانے کے لیے انتہائی مخلصانہ سعی کرتے رہتے ہیں۔

میں نے شاہ صاحب میں یہ خوبی دیکھی ہے! ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جن برکتوں اور رحمتوں سے وہ مستفید ہو رہے ہیں ان کے آس پاس کے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ یہ اس بات کی کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ کسی کا بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر اپنے ملنے والوں کی صلاحیتوں، توانائیوں اور مہارتوں کو بھانپتے رہتے ہیں اور پھر انہیں ان کے پسندیدہ میدانوں میں آگے بڑھنے کے لیے بڑے صائب اور مخلصانہ مشورے دیتے رہتے ہیں۔

ان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا ہر ملنے والا اپنی زندگی میں بہتری لائے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ یہ مخاطب سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے ذوق، مشاغل اور قلبی رجحان کو خاص طور پر مدنظر رکھتے ہیں۔ اور پھر اس کی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسی من پسندباتیں کرتے ہیں کہ وہ ان کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ دوستوں کے لیے خوشیوں اور کامیابیوں کی تلاش اپنے ذمے لے لیتے ہیں اور اس ذمے داری کے حوالے سے خوشخبریاں دوستوں کو بروقت سناتے رہتے ہیں۔

شاہ صاحب بڑے میٹھے اور محبتی انسان ہیں۔ یہ مجسم عجزوانکسار ہیں۔ ایک بڑا آدمی ہونے کے باوجود بڑائی کا شائبہ تک ان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ پہلی ملاقات میں ہی بندے سے یوں بے تکلف گفتگو کرتے ہیں کہ آس پاس والے تو کجا خود مخاطب کو یہ شک گزرتا ہے کہ تعلق گویا برسوں پرانا ہے۔ یہ لاجواب حسن اخلاق کے مالک ہیں۔ کوئی ان سے ملے اور گرویدہ نہ ہو یہ ممکن نہیں۔ اپنے آس پاس کے لوگوں اور ملنے ملانے والوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال کرنا ان کا شیوہ ہے۔ اپنے حلقہ احباب ( جو کہ تا حد نظر وسیع ہے ) اور یار بیلیوں کے لیے تحائف بھیجنا گویا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کی محبت بھری اپنائیت اور والہانہ انداز ہر کسی کو ان کا مداح بنا دیتاہے۔

شاہ صاحب ایک باکمال موٹیویشنل سپیکر ہیں اور جو بات انہیں دوسرے موٹیویشنل سپیکرز اور لائف کوچز سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کا بذات خو د مجسم موٹیویشن ہونا ہے۔ ان کے پاس بیٹھیں اور یہ خاموش بھی ہوں تو آپ کو موٹیویشن ملتی رہتی ہے۔ ان کی موجودگی بندے کے اندر ایک عجیب سرشاری کی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ اپنے کام سے ان کی بے پناہ لگن کا یہ عالم ہے کہ یہ اس سے ہمہ وقت بھرپور لطف اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

شاہ صاحب کی شخصیت کی ایک بڑی کشش ان کی اعلیٰ نفاست پسندی ہے۔ ان کے لباس سے لے کر ان کی گفتگو تک، ان کی ذات سے لے کر ان کے دفتر تک اور ان کے ظاہر سے لے کر ان کے باطن تک۔ آپ کو ہر جگہ کمال نفاست نظر آئے گی۔ آپ ان کے دفتراور ان کی فاؤنڈیشن کا وزٹ کیجیے آپ کو وہاں کی ہر چیز میں ایک سلیقہ، ایک ڈسپلن دکھائی دے گا۔ وہاں کا ماحول بولتا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بے پناہ نفیس انسان موجود رہتا ہے۔ فی زمانہ شاہ صاحب جیسے صاف ستھرے اور اندر باہر سے شفاف انسان یقیناًبہت کم نظر آتے ہیں۔

شاہ صاحب کی بے پناہ صاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان کا حلقہ احباب دیکھیں تو ”وسیع“ کا لفظ چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ ان کے آس پاس بے شمار لوگ ان کی محبتوں کے مقروض ہیں۔ شاہ صاحب کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم بھی انہی کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ کسی انسان کے بالکل قریب رہ کر کام کرنے والے اگر اس سے بے پناہ متاثر بھی ہوں تو اس سے اس انسان کی سچائی اور خلوص کا پتہ چلتا ہے۔ شاہ صاحب کی ٹیم میں ان کے انداز فکرو عمل کی گہری جھلک اور چھاپ نظر آتی ہے۔ ان کی ٹیم سے ملیں تو آپ ان میں وہی جذبے کی حرارت، وہی سلیقہ مندی اوروہی پلٹ جھپٹ پائیں جو شاہ صاحب کا شیوہ ہے۔ اور یہ سب لوگ آپ کو بالکل انہی کی طرح ہی منظم، موثر اور مودب دکھائی دیں گے۔ یہ سب جناب شاہ صاحب کی شخصیت کا فیضان ہے جو ان کے قریبی لوگوں میں صاف نظر آتا ہے۔

جناب قاسم علی شاہ صاحب ایک بیش بہا اثاثہ ہیں۔ معروف انگریزی شاعر آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں کا آنا خوشی کا باعث ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کا جانا۔ شاہ صاحب کا شمار بلاشبہ پہلی قسم میں ہوتا ہے وہ جہاں جاتے ہیں مسرت و سکون اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ان کا اپنائیت بھرا دلفریب انداز گفتگو دیکھیں تو ہمیں غالب ؔ یاد آتے ہیں۔ کہتے تھے :

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
اور انہیں خاموش دیکھیں تو لگتا ہے گویا اقبالؔ کی خواہش ان کے حق میں پوری ہو گئی ہے :
اے باد بیابانی مجھ کو بھی عنایت ہو
خاموشی و دل سوزی، سرمستی و رعنائی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •