انڈین کرانیکل: کیا حقیقت کیا فسانہ؟


ای یو ڈس انفو لیب کی جانب سے انڈین کرانیکل کے حوالے سے ایک رپورٹ حال ہی میں مورخہ اا دسمبر کو شائع ہوئی۔ اسی رپورٹ کو مختلف اخبارات نے شایع کیا اور پاکستان میں اس رپورٹ کے حوالے سے مختلف ٹی وی پروگراموں میں بحث کی گئی۔ مختلف قسم کے تبصرے ابھی تک جاری ہیں اور اسی رپورٹ کو جواز بنا کر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس بھی کی اور اس خبر کے حوالے سے بین الاقوامی برادری سے مزید تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

ای یو ڈس انفو لیب کیا ہے؟

ای یو ڈس انفو لیب کے ویب سائیٹ پے تحریر ہے کہ یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ویب سائیٹ پے ایک رجسٹر نمبر دیا گیا ہے جس سے ظایر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ بیلجیم میں قانونی طور پے رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کا آفس بیلجیم کے شہر برسلز میں ہے اس پرائیویٹ این جی او نے اپنے ویب سائیٹ پے نہ اپنا کوئی فون نمبر اور نہ ہی ایڈریس ظاہر کیا ہے صرف رجسٹریشن نمبر درج ہے ادھر اس بات کو واضح کیا جائے کہ اس پرائیویٹ این جی او کا یورپی ہونین کے ادارے یا یورپی کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔ یورپ میں کوئی بھی کسی بھی قسم کا ادارہ یا این جو او قانونی طور پے اپنے آپ کو رجسٹر کر کے کام کر سکتا ہے جس کے لیے یورپی یونین کی اصطلاح یعنی وہ یورپ کے کسی ملک میں بحیثیت این جی او یا پرائیویٹ ادارہ کام کرتا ہے۔

انڈین کرانیکل میں کیا ہے؟

انڈین کرانیکل کی اس تازہ رپوٹ کو اگر دیکھا جائے تو اس میں لکھا گیا ہے کہ ”ایک انڈہن نیٹ ورک گروپ کس طرح جعلی این جی اوز اور جعلی میڈیا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) اور بیلجیم کے شہر برسلز میں یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا آ رہا ہے“

ای یو ڈس انفو لیب کے رپورٹ کے حوالے سے بات کریں تو اس میں زیادہ تر ذکر اور تصویریں اقوام متحدہ سے منسلک این جی اوز کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام اور نمائندگان کی تفصیلی ذکر ہے اور بقول رپوٹ سے ظاھر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ہے۔

اقوام متحدہ اور اس میں این جی اوز کا نظام

اقوام متحدہ میں این جی اوز کے نظام کو دیکھا جائے تو وہ ایک بہت ہی مضبوط شفاف اور صاف نظام ہے اس نظام کے تحت ایک کمیٹی ایکوساک (ECOSOC) یعنی یونائیٹڈ نیشن اکنامک اینڈ سوشل کونسل۔ جو اقوام متحدہ میں قائم جس میں پاکستان، ایران، انڈیا، چپن اور باقی نمائندہ ممالک ہیں اور مزے کی بات یہ ہے اس کمیٹی کی سربراہی پاکستان کے پاس 2019 سے ہے اقوام متحدہ می اس کمیٹی کے تمام ممالک اراکین این جی اوز کے حوالے سے تمام امور کا نہ صرف باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً تمام چیزوں کو چیک کر کے پھر ان این جی اوز سے منسلک نمائندگان کو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے حوالے سے خطاب یا سیمینار کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ای یو ڈس انفو لیب نامی پرائیویٹ این جی او نے گزشتہ سال 2019 میں بھی اسی طرح کی ایک رپورٹ ”پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والے انڈین نیٹ ورک“ کے عنوان سے شایع کی تھی مگرماضی کی اس رپورٹ پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اقوام متحدہ یا یورپی یونین نے اس پے کچھ ایکشن لیا اور نہ بی بین الاقوامی برادری نے۔

اگر حقیقت میں اقوام متحدہ کے نظام میں ایسا کوئی شگاف ہوتا تو دنیا کے وہ تمام ممالک جن میں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف وزریاں ہو رہی ہیں ان این جی اوز کے نمائندگان جن کا ذکر حالیہ ای یو ڈس انفولیب میں بھی ہے کو اقوام متحدہ میں پوائنٹ آف آرڈر پر روکنے کی بجائے ان نمائندوں پر جعلی این جی اوز کا لیبل لگا کر یا تو ان این جی اوز پر پابندیاں لگاتے پا پھر ان کے نمائندوں کے خلاف قانونی کارروائی بہت پہلے کرتے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کس تناظر میں بین الاقوامی برادری سے کس بات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ اگر دیکھا جائے تو ای یو ڈس انفولیب نامی ادارہ اس طرح کی باتیں پہلے 2019 میں اپنی پرانی رپورٹ سے کرتے چلے آرے ہیں تب سے پاکستان ہی اقوام متحدہ میں این جی اوز کے حوالے سے قائم چھپن ممالک کی کمیٹی میں بحیثیت صدر ECOSOCکمیٹی کی سرپرستی کرتا چلا آ رہا ہے اگر اس طرح کی بات تھی تو پاکستان نے 2019 میں ایکشن کیوں نہیں لیا؟

ان تمام این جی اوز کے حوالے سے ابھی وہ کس ملک یا ادارے سے کس چیز کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ جبکہ پاکستان کے برعکس اقوام متحدہ کے ترجمان رولانڈو گومیز اس رپورٹ کے حوالے سے واضح کہہ چکے ہیں ”کہ اقوام متحدہ این جی اوز اور ان کی حیثیت کا ذمہ دار نہیں ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ میں ایسے کوئی قوانین ہیں جن کے تحت این جی اوز پابندی کریں کہ وہ صرف کسی مخصوص موضوع پر ہی بات کریں۔ بقول اس کے یہ این جی اوز کی اپنی مرضی ہے کہ کسی بھی موضوع پر بات کریں اور اپنی باری پر کسی دوسرے ادارے یا شخص کو جگہ دیں، بشرطیہ وہ موضوع اس سیشن کے ایجنڈے سے مطابقت رکھتا ہو اور اس میں اخلاق ملحوظ خاطر رکھا جائے۔”

Facebook Comments HS