برطانیہ سے پاکستان بذریعہ کار پہلا مسافر اور چوتھے مالے تک سیڑھیاں


پچھلے کوئی دو سال سے ہر چھ آٹھ ہفتہ بعد میرے موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ اور کان پہ لگاتے ہی بغیر رکے یہ فقرے سنائی دیتے ہیں۔ ”لئیق آئر لینڈ توں باری۔ لئیق ٹھیک ایں۔ بچے ٹھیک نیں۔ بیگم نوں میرا سلام کہیں۔ انوار دے منڈے نوں کہہ مینوں فون کرے۔ اچھا سب خیریت رہوے۔ میرے لئی دعا کرنا۔ السلام علیکم“ (لئیق آئر لینڈ سے غلام باری بات کر رہا ہوں۔ لئیق تم ٹھیک ہو؟ بچے ٹھیک ہیں؟ بیگم سے میرا سلام کہیں۔ انوار کے لڑکے سے کہو مجھے فون کرے۔ اچھا سب لوگ خیریت سے رہو۔ میرے لئے دعا کرنا۔ السلام علیکم)۔ اور فون بند ہوجاتا ہے۔ دو تین روز قبل بھی یہ مشفق آواز سنائی دی۔

یہ آئر لینڈ کے معروف پاکستانی بزنس مین میاں غلام باری کی آواز ہوتی ہے جو اب نوے کے لگ بھگ اور گھر میں ہی ہوتے ہیں۔ کبھی جواب دینے کی مہلت نہیں دی اور جوابی یا ویسے فون کرنے پر اٹھاتے بھی نہیں۔ ان کے صاحبزادہ سے ہی خیریت معلوم کرنا پڑتی ہے۔ یہ آواز مجھے ہمیشہ کوئی چھ دہائیاں پیچھے اس گھنگریالے بالوں والے ہنستے مسکراتے دلکش شخصیت والے جوان اور میاں انوارالحق مرحوم کے ساتھ کھڑا کر دیتی ہے جو ایک دوسرے کو کھینچتے فاروق ہوٹل کراچی کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔

شاید انیس سو باسٹھ کا اوائل تھا۔ کہ دوستی کی حد تک آ جانے والے مجھ سے کئی برس بڑے میرے گاہک میاں آٹوز جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے مالک میری آٹو پارٹس کی دکان سرکلر روڈ پر پر ایک دوست کو ساتھ لئے آئے۔ اور جڑانوالہ کے مضافاتی گاؤں کے رہائشی اور اب کئی سال انگلینڈ گزار کر مستقل پاکستان رہنے کے ارادہ سے آنے والے میاں غلام باری کے نام سے تعارف کرایا۔ دونوں شراکت میں میری ہمسائیگی میں دکان لے کر آٹو پارٹس ہی کا بزنس شروع کر رہے تھے۔

دکان کی تزئین کے دوران روزانہ گپ شپ سے پتہ چلا۔ کہ میاں غلام باری وہ جوان تھے جو انیس سو چھپن میں اپنے ایک دو دوستوں کے ہمراہ۔ لندن سے بذریعہ کار سفر کرتے پاکستان پہنچے تھے۔ اور کوئٹہ بارڈر پر کسٹم حکام کی اطلاع پر ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے ان کا برطانیہ سے پاکستان بذریعہ کار آنے والے پہلے پاکستانیوں کی حیثیت سے تعارف کرایا اور انٹرویو نشر کیا تھا۔ مجھے اخبار میں پڑھی یہ خبر ذہن میں تھی۔ سو اس سفر کی روداد سے لطف اندوز ہونا قدرتی تھی۔

میاں برادرز کے نام سے اس دکان کے افتتاح کے چند روز بعد میرا کراچی جانے کا ارادہ سن انہوں نے میرے ساتھ جانے کا پروگرام بنایا کہ دونوں کی کراچی کی سیر بھی ہو اور آٹو پارٹس کی ہول سیل مارکیٹ سے تعارف بھی۔

ٹرین سفر کے دوران بتایا کہ آٹھویں جماعت میں پڑھائی سے دل اچاٹ ہوتے سکول جانے سے انکاری ہو گئے۔ والد صاحب کو پتہ چلا تو بجائے ناراض ہونے کے تسلی دی۔ کوئی بات نہیں اگر نہیں مرضی تو نہ سہی۔ یہ پھولے نہ سمائے۔ اگلی صبح کوئی تہجد کے قریب والد صاحب نے اٹھایا۔ چلو بیٹا آج پانی کی باری ہے۔ پانی لگا آئیں، سردی میں کانپتے کھیتوں میں پہنچے تو کسؔی پکڑائی اور ناکہ توڑ اپنی کھال میں لگانا سکھایا۔ گھر آ ناشتہ کر کے ابھی تھکاوٹ دور نہ ہوئی تھی کہ ارشاد ہوا چلو بیٹا کھیت میں سے چارہ کاٹ بھینسوں کے لئے ڈیرے پہ لانا ہے۔ درانتی سے چارہ کاٹنا سکھایا۔ شام کو کہا چلو تمہیں دودھ دوہنا صبح سکھائیں گے۔ اب بس اٹھا کے لے جاؤ۔ اگلی علی الصبح ابا جی اٹھانے پہنچے تو باری صاحب لالٹین جلائے بستہ سجائے سکول کا کام کر رہے تھے۔ اور ناشتہ سے پہلے سکول کو بھاگ چکے تھے۔ میٹرک بعد نیشنل بنک میں کیشیئر لگے تو میاں انوارالحق سے دوستی ہوئی۔ چند سال بعد انگلینڈ جا ساؤتھ آل لندن مارکیٹ ( شام دکانیں بند ہونے کے بعد ویگن یا فٹ پاتھ پر دکان سجانا ) لگاتے رہے اور اب پھر یہاں تھے۔

یہ پاکستان کا وہ زمانہ تھا (آج کے سیاستدان کی تباہ کردہ تاریخ پاکستان کے مطابق سیاہ دور) جب مسقط اومان شارجہ دوبئی قطر وغیرہ سے کاروبار کرنے لوگ کراچی کا رخ کرتے۔ پلازا سکوائر کی گلیوں میں واقع ہول سیل آٹو پارٹس مارکیٹ میں کئی دکانیں ان غیر ملکیوں کی تھیں۔ (ان ملکوں کی ترقی ہو جانے اور پاکستان کے عوام کی تباہی کا دور آنے تک اکثر واپس جا چکے تھے ) فاروق آٹوز کے عقیل فاروق (غالباً اومان سے تھے) نے اتوار کو گھمانے کا پروگرام بنایا۔ دوپہر بعد ہمیں ہوٹل فاروق سے لیا اور تمام شہر گھماتے شام ہاکس بے کے ساحل جا پہنچے۔ جہاں ان دنوں ساحل سمندر کے ”شایان شان“ رونق ہوتی۔ پہلے تین دن بازار گھومتے اب سارے دن کی سیر۔ تھکاوٹ سے برا حال اور عقیل بھائی سیدھا اپنے گھر لے گئے کہ اومانی عرب کھانا ان کی بیگم کے ہاتھ کا۔ بھوک اور لذت اور تھکاوٹ اور کھانا پیٹ ”آ پھرنے“ سے بھی زیادہ۔ جب نصف شب کے لگ بھگ انہوں نے ہمیں ہوٹل چھوڑا تو ہم تینوں میں ایک قدم بڑھانے کی ہمت نہ تھی۔ اور ہوٹل فاروق صدر کی ”منزل ہے چوتھی اور سیڑھیوں سے جانا ہے“ اب حالت یہ کہ ایک دو سیڑھیاں چڑھتا ریلنگ کو پکڑے دوسرے ہاتھ سے نچلے ساتھی کو کھینچتا اور پھر دوسرا یہ عمل دہراتا۔ ایک منزل گزری تو مجھے اچانک کچھ عرصہ قبل پڑھا ایک چٹکلا یاد آیا۔ عرض کیا کہ بھائی کہانی سنتے کہتے جاؤ کہ تھکاوٹ سے توجہ ہٹے۔

نیو یارک کے ہوٹل کی چالیسویں منزل پر قیام پذیر تین دوست نصف شب کے بھی بعد پہنچے تو لفٹ بند ہو چکی تھی تھوڑی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ایک دوست نے تجویز پیش کی کہ سفر لمبا ہے اور چڑھنا چالیس منزل سیڑھیوں پہ ہے۔ باری باری کوئی کہانی واقعہ سناتے جاؤ کہ دھیان لگا رہے اور چڑھتے بھی جائیں۔ پہلے دوست نے کہانی شروع کی۔ دس منزلیں اوپر جا چکے تھے۔ دوسرے کے کہانی سناتے سناتے دس اور منزلوں کی چڑھائی چڑھی جا چکی تھی۔ تیسرے سے فرمائش ہوئی تو سیڑھیاں چڑھتے کچھ سوچتے پوچھا۔ ٹریجڈی سننی ہے یا کامیڈی۔ تو باقی دونوں نے ٹریجڈی کی فرمائش کردی۔ تب وہ بولا یار چھوٹی سی چند لفظوں میں ہے اوپر پہنچ سناؤں گا۔ گھسٹتے کھینچتے چالیسواں منزل کے قریب پہنچے تو کہنے لگا۔ رکو۔ کہانی سن لو۔ وہ ہمہ تن گوش ہوئے تو۔ یار کمرے کی چابی تو نیچے استقبالیہ سے لی ہی نہیں۔ کے الفاظ سے کہانی مکمل ہو چکی تھی۔

اب ہم تینوں ہنس رہے تھے اور چوتھے مالے پہ پہنچ چکے تھے۔ اس منزل کا بیرا ہمارے کمرے کے باہر ہی سامنے بنچ پہ سویا ہوا تھا۔ اس سے معذرت کرتے اٹھا کمرے کی چابی مانگی جو صبح اس کے حوالہ کر گئے تھے۔

” صاحب چابی تو رات گیارہ کے بعد ہم کو نیچے ہوٹل استقبالیہ پہ چھوڑنا ہوتی ہے“

اب پھر بے ہوش ہونے اور نان سٹاپ ہنسی کی باری تھی۔ میاں انوار فرش پہ گرے قہقہے لگا رہے تھے باری صاحب سیڑھیوں کی ریلنگ پر جھکے پیٹ پکڑے تھے اور میں ویٹر کے بنچ پہ دراز تھا اور ویٹر ہکا بکا دیکھ رہا تھا کہ یہ سب پاگل تو نہیں ہو گئے۔ تب میاں انوار نے اسے نیچے فرش پہ اپنے پاس بیٹھنے کی درخواست کی اور کہا کہ بھائی تم بھی وہ کہانی سن لو۔ کہانی ختم ہوئی تو وہ بھی قہقہہ لگاتے اٹھا۔ اور ”صاحب میں لے آتا ہوں“ کہتے سیڑھیاں اتر نے لگ گیا۔

چھ دہائیاں گزر چکیں۔ میاں غلام باری کی سیلانی طبیعت کے لئے سارا دن دکان پر بیٹھ ڈیوٹی دینا ممکن نہ تھا وہ دکان بڑھا کر اپنے گاؤں کے نزدیک زرعی رقبہ خریدا اور زمیندارہ میں لگ گئے۔ دل ناداں نے زور لگایا تو شاید انیس سو ستر اکہتر میں پھر انگلینڈ لندن جا ساؤتھ آل میں مارکیٹ میں گارمنٹس بیچنے شروع کیے وہاں سے ڈبلن آئرلینڈ جا وہاں مارکیٹ لگاتے پہلے انگلینڈ سے اور پھر فرانس اور دوسرے یورپی ملکوں سے گارمنٹس آئر لینڈ میں ہول سیل سپلائی شروع کی۔ اور نوے کی دہائی شروع ہوتے باری سنز ہول سیل کی مشہور اور دس بارہ آئر لینڈ میں پھیلی ریٹیل آؤٹ لیٹس کی چین بن چکی تھی دو بیویوں میں سے گیارہ بچوں میں سے اکثر ساتھ مدد پہ تھے۔ اور جب انیس سو ستانوے میں میں آئر لینڈ کے وزٹ ویزا کے لئے بیوی بیٹی کے ہمراہ لاہور کے ہوٹل میں آئرش قونصل جنرل کے پاس گیا تو حوالہ میں میاں غلام باری کا نام لیتے اور یہ بتاتے کہ کبھی وہ میرے ہمسایہ دکاندار تھے میرے ویزوں پر دستخط ہو چکے تھے۔ جنوری اٹھانوے میں شکاگو دل کے بائی پاس کے بعد واپسی اپنی بیٹی داماد کے پاس سلائیگو آئر لینڈ سے ڈبلن آ دو تین مرتبہ یادیں تازہ ہوئیں۔ اور اگلے سال دوبارہ ایک شب ان کے گھر گزری یہ بالمشافہ آخری ملاقات ہے۔ فون ویڈیو لنک پر ملاقات رہی۔ اب دیکھیں۔ خدا انہیں زندگی دے یار زندہ صحبت باقی، ملے تو شاید فاروق ہوٹل کے چوتھے مالے جانے کی اکثر یادوں کی خوشگوار گھڑیوں کو سامنے والی کہانی انہیں یاد کراؤں۔ خدا ان کی صحت اس قابل کرے۔

Facebook Comments HS