حضرت شمس سبزواریؒ کی دعا اور سورج کی تپش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختلف کتابوں سے منقول ہے کہ جب حضرت شمس سبزواری تبریزی ؒ اپنے مرشد کے حکم پر جب قونیہ تشریف لے گئے تو وہاں آپؒ کی ایک بہت بڑے عالم دین مولانا جلال الدین رومیؒ سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ مولانا جلال الدین رومیؒ اپنے درس میں طالب علموں کو تعلیم دے رہے تھے کہ حضرت شاہ شمس سبزواری تبریزیؒ وہاں تشریف لے آئے اور مولانا رومیؒ کے قریب بیٹھ گئے۔ مولانا رومیؒ کے قریب چند کتابیں پڑی تھیں، اس دور میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، یہ کتابیں مولانا رومیؒ اور ان کے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں۔

حضرت شاہ شمسؒ کتابوں کو غور سے دیکھ رہے تھے پھر انھوں نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا رومیؒ سے پوچھا ”یہ کیا ہے اور آپؒ کیا کر رہے ہیں؟“ مولانا رومیؒ نے حضرت شمس تبریزؒ کو فقیری لباس میں دیکھا توجواب دیا ”بابا کہیں اور جایئے، یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے“ مولانا رومیؒ کا جواب سن کر حضرت شمس تبریزؒ جلال میں آ گئے اورمولانا رومیؒ کی تمام کتابیں اٹھا کرپاس ایک پانی کے بھرے حوض میں ڈال دیں۔ مولانا رومی ؒ کے شاگرد طیش میں آ گئے جبکہ مولانا رومیؒ رو پڑے اور دکھ بھرے لہجے میں بولے ”اے درویش، تم نے یہ کیا کر دیا، میری نایاب کتابیں ایک لمحے میں ضائع کر دیں۔

“ حضرت شاہ شمسؒ نے جب مولانا رومیؒ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو فرمایا ”اگر تمہاری نایاب کتابیں تمہیں دوبارہ مل جائیں تو؟“ مولانا رومیؒ نے کہا ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ حضرت شمس تبریزؒ مسکرائے اورپانی سے بھرے حوض میں ہاتھ ڈالا اورایک ایک کر کے ساری کتابیں نکال کر مولانا رومیؒ کے ہاتھ میں دے دیں۔ مولانا رومیؒ حیرت سے اپنی کتابیں کھول کھول کر دیکھنے لگے کہ کہیں پانی سے سیاہی زائل تو نہیں ہو گئی لیکن کتابیں بالکل خشک اور ایسی تھیں جیسے ان کے پاس پہلے پڑی ہوئی تھیں، کتابوں کو پانی کے ایک قطرے تک نے بھی نہیں چھوا تھا۔

مولانا رومیؒ نے حضرت شاہ شمسؒ کی روحانی کرامت دیکھ کر حیرت سے پوچھا ”اے بابایہ کیا ہے اور کیسے کیا؟“ آپؒ نے مولانا رومیؒ کو جواب دیا ”یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے۔“ یہ کہہ کر حضرت شمس تبریزؒ وہاں سے تشریف لے گئے۔ مولانا رومیؒ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی وہ حضرت شمس تبریزؒ کے پیچھے گئے اورکہا ”مجھے معاف کردیں اور وہ علم سکھا دیں جو آپؒ کے پاس ہے“ حضرت شمس تبریزؒ نے کہا ”علم ڈھونڈھنے سے نہیں بلکہ خود کو کھونے سے ملتا ہے، پانی کا ایک قطرہ کچھ نہیں ہوتا لیکن جب وہ سمندر سے مل جاتا ہے تو وہ سمندر کا حصہ کہلاتا ہے“ یہ سن کرمولانا رومیؒ نے آپؒ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور اپنی زندگی عشق خدا میں وقف کردی۔

اسی طرح حضرت شمس تبریزؒ کی روحانی کرامت کا ایک اور واقعہ کچھ اس طرح منقول ہے کہ جب آپؒ بغداد سے روانہ ہوئے تو ولی عہد سلطنت شہزادہ محمد اپنی سلطنت چھوڑ کر آپؒ کے ساتھ چل پڑا کیونکہ شہزادے کو آپؒ سے بہت عقیدت تھی۔ حضرت شمس تبریزؒ طویل مسافت طے کر کے بغداد سے ہندوستان اور پھر ملتان جا پہنچے۔ اس وقت ملتان میں بہت سے غیرمسلم قبیلے بھی آباد تھے اور وہ لوگ آپؒ کی روحانی شخصیت سے بھی ناواقف تھے۔ ایک مرتبہ حضرت شمس ؒ کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی تو آپؒ نے شہزادہ محمد کو آگ کا بندوبست کرنے کے لئے کہا۔

شہزادہ جو درویشی اختیار کرچکا تھا وہ اپنے مرشد کے حکم پر آگ کا بندوبست کرنے کے لئے لوگوں کے پاس گیا لیکن کسی نے بھی اس کی مدد نہ کی بلکہ ایک سنگدل شخص نے غصے میں آ کر شہزادے کو اتنا مارا کہ اس کے چہرے پر زخموں کے نشان ابھر آئے۔ زخمی شہزادہ حضرت شمس تبریزؒ کے پاس واپس پہنچا اور تمام ماجرا بیان کر دیا۔ زخمی شہزادے کی حالت دیکھ کرحضرت شمس تبریزؒ جلال میں آ گئے، آپؒ گوشت کا ٹکڑا پکڑے غصے کی حالت میں اپنی خانقاہ سے نکلے اوردعا مانگتے ہوئے آسمان پر سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”تو بھی شمس ہے اورمیں بھی شمس ہوں، اس گوشت کے ٹکڑے کو میرے لئے بھون دے۔

“ آپؒ کا اتنا کہنا تھا کہ سورج کی تپش بڑھ گئی اورگوشت کا ٹکڑا بھن گیا۔ ادھرسورج کی شدید تپش سے لوگ چیخ اٹھے۔ پورا شہر آگ کی بھٹی بن گیا۔ آپؒ کی روحانی کرامت اور جلال دیکھ کرلوگ آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوردرخواست کی کہ ”چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو نہ دیں“ آپ ؒ نے فرمایا ”یہ نادان نہیں سفاک ہیں آگ جیسی بے قیمت چیز دینے کی بجائے میرے مرید کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا، جانتے بھی ہو جسے زخمی کیا وہ کون ہے؟

وہ بغداد کا شہزادہ ہے جو میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے، اس لئے جب تک ان کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آئے گا۔“ کچھ دانا حضرات نے سفارش کرتے ہوئے کہاکہ ”خدا کے لئے انھیں معاف کردیں۔“ آپؒ نے کہا ”جب خدا کا واسطہ دیا ہے تو معاف کیے دیتا ہوں۔“ آپ ؒ نے سورج سے مخاطب ہو کر فرمایا ”اے شمس اپنی حرارت کم کر دے، معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے۔“ آپؒ کا یہ فرمانا تھا کہ سورج کی تپش اعتدال پر آ گئی۔ اس واقعہ کے بعد بہت سے غیر مسلم قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آج بھی لوگ ملتان کی شدید گرمی کو اسی روحانی واقعہ کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ واللہ اعلم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •