اسرائیل پاکستان سفارتی تعلقات اور پس پردہ پیغامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر پاکستان پر اس وقت شدید دباؤ ہے اور یہ دباؤ بھی پرانے خلیجی دوستوں کی طرف سے ہے۔ ماضی میں پرویز مشرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے لیکن سعودی عرب نے روک دیا کہ ابھی نہیں، ایک ساتھ کریں گے۔ اب سعودی عرب غیر علانیہ سفارتی تعلقات قائم کر چکا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین علانیہ کر چکے ہیں۔ قطر کے پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ان خبروں کی تردید اب مشکل ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

بے شک ابھی یہ مذاکرات سرکاری سطح کی بجائے نجی سطح پر جاری ہوں گے لیکن معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ چند ماہ پہلے میں نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کہ زلفی بخاری صاحب کے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بہت دوستانہ تعلقات ہیں۔ جیرڈ کشنر اسرائیل اور خلیجی ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم کروانے کے مرکزی کردار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی بھی زلفی بخاری صاحب ہی پیغامات ایک طرف سے دوسری طرف پہنچا رہے ہوں لیکن جب تک تصدیق نہیں ہوتی، یہ شک ہی رہے گا اور تصدیق آپ کو کئی ماہ تک نہیں ملنی۔

پاکستان کے پرانے خلیجی دوست اب میاں نواز شریف اور اپوزیشن تحریک کی حمایت میں ہیں اور اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خان حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر دباؤ میں لایا جائے اور اس اندرونی و بیرونی دباؤ کے نتیجے میں بڑا لین دین ہو گا۔ آپ نے بھی چند دن پہلے وزیراعظم کا یہ بیان سنا ہو گا کہ شاید کچھ ممالک اپوزیشن تحریک کے ساتھ ہیں۔ ان کا اشارہ واضح طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف تھا۔ سعودی عرب کے حامی ممالک اور امریکا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے ایک طرف کھڑے ہیں اور فی الحال بظاہر پاکستان اس صف میں کھڑا ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔

خان حکومت کو جن جن اداروں کی مبینہ حمایت حاصل ہے، وہ ادارے یا ان اداروں سے منسلک کچھ طاقتور لوگ شاید اس حق میں ہیں کہ ٹھیک ہے، خان صاحب کے جانے سے پہلے پہلے اسرائیل پاکستان سفارتی تعلقات کا مسئلہ بھی حل کر لیا جائے، بالکل ایسے ہی جیسے کشمیر کا حل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک عرصے سے بیرونی ممالک کا بڑا عمل دخل رہا ہے اور موجودہ سیاست میں بھی جاری ہے۔

پاکستان بھارتی فوجی سربراہ کے حالیہ دورہ سعودی عرب سے بھی پریشان ہوا ہے، سعودی عرب کی طرف سے قرضوں کی واپسی کی ڈیمانڈ سے بھی اور مشرق وسطیٰ میں اپنی بڑھتی ہوئی مخالفت کی وجہ سے بھی۔ یوں کہیے کہ خان حکومت مشرق وسطیٰ میں ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔

پاکستان پریشان ہے کہ اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بھارت مستقبل میں ایک دوسرے کے مزید قریب آ جائیں گے لہذا اس کا گیم میں رہنا ضروری ہے۔

ہو سکتا ہے ٹرمپ انتظامیہ کے جانے کے سے پہلے پہلے کچھ چیزیں طے ہو جائیں اور معلومات بتدریج چند برسوں میں ریلیز کی جائیں۔ اگر آئندہ کچھ عرصے میں پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات دوبارہ واپس دوستی کی لائن پر آتے ہیں تو سمجھ لیجیے گا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ طے ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •