تنوع: کہو میں نہیں، میں تو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تنوع فطرت کی ایک صفت ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر فرد کی شناخت الگ ہے۔ گویا سماج کے اندر اگر انسانی گروہوں کی بات کی جائے تو ان کو لسانی، نسلی، جنسی، صنفی، علاقائی، مسلکی، مذہبی، سیاسی، معاشی وغیرہ گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تنوع آپ کو فطرت میں بھی نظر آئے گا آپ آنکھ سے ایک سے زیادہ رنگ دیکھتے ہیں زبان سے ایک سے زیادہ ذائقے چکھتے ہیں ناک سے ایک سے زیادہ خوشبوئیں سونھگتے ہیں اور لمس سے ایک سے زیادہ قسم کے احساس کی موجودگی کا ادراک رکھتے ہیں۔ اسی طرح انسانی رویوں میں بھی بلا کا تنوع پایا جاتا ہے عام طور پر کچھ لوگ جارحانہ ہوتے ہیں کچھ نرم رویے کے جبکہ کچھ معتدل اسی طرح موسم ہیں علاقے کی قسمیں ہیں جیسے پہاڑ، میدان صحرا اور پانی۔ اسی طرح نظریات ہیں ترجیحات ہیں توقعات ہیں تعلیمات ہیں۔

گویا کائنات ہو یا انسانی جہاں مادی و غیر مادی مرئی و غیرمرئی ہر ایل میں تنوع پایا جاتا ہے۔ فطرت نے اتنا تنوع برتا ہے کہ اربوں انسانوں میں کسی ایک جوڑے کے فنگر پرنٹس ایک جیسے نہیں اربوں درختوں کے کھربوں پتوں میں سے کوئی دو ایک جیسے نہیں۔ علامہ نے فطرت کی اس واردات کو یوں بیان کیا ہے

پسند اس کو تکرار کی خو نہیں
کہ تو میں نہیں اور میں تونہیں
سورہ نحل میں اللہ تعالی نے کہا ہے کہ
”اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا“

گویا سب انسانوں کو نہ نیلا رنگ پسند ہے۔ نہ ہی کھانے میں نمکین، نہ ہی چنبیلی کی خوشبو اور نہ ہی ہر وقت جارحانہ ردعمل دینا۔ نہ ہی سب پہاڑوں پررہنا چاہتے ہیں۔ نہ سب ساون میں ہمہ وقت بھیگنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ نہ ہی دنیا کے سب اونچے معاشی طبقے میں رہنا پسند کرتے۔ ہیں نہ سب ترقی پسند سوچ حامی ہیں۔ نہ سب ارتقا کو انسانی حقیقت سمجھتے ہیں۔ نہ سب الہامی ہدایت قائل ہیں۔

نشیب و فراز اٹل ہیں، شب و روز حقیقت ہیں، خوشی و غم لازم و ملزوم ہیں، صبر و اضطراب یقینی ہیں، یقین و ابہام سے کنارہ عبث ہے، التفات و اجتناب بین ہیں، اقرار و انکار وجود رکھتے ہیں، استغنا و شکایت مروجہ سلوک ہیں

لہذا حفظ مراتب کو قبول کیجیے، ظلمت کو دیکھیے اورنور کو جگہ، دیجیے، جشن منائیے جزن وملال کے ساتھ چلیے، اطمنان پر تحدیث نعمت کیجیے بے چینی کا سامنا کیجیے، موجود کو مانیے شک کو جانیے، ہجر و فراق کا لطف لیجیے تائید و تردید کے لیے تیار رہیے اور صبرکا دامننہ چھوڑیے جبکہ گلے کے منتظر رہیے۔

پس عذر قبول کیجیے، مختلف کو سمجھیے، اختلاف برداشت کیجیے، انتہائی جذباتی اوقات میں بھی رواداری برتیے ناقابل قبول غلطیوں پر در گزر فرمائیں کیونکہ

میں تو نہیں اور تو میں نہیں
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •