سرور سکھیرا: ایسا ایڈمنسٹریٹر کہاں ملے گا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ، میرے لئے ان کی پہلی کال نہیں تھی مگر میری روایتی سستی میں لپٹا جواب، وہ ہی تھا جو میں پہلے بھی ان سے مودبانہ عرض کر چکا تھا ( یہ جانتے ہوئے کہ اس پر عمل شاید اب بھی نہ ہو ) ۔ میں نے اس مرتبہ پھر ان سے وعدہ کیا کہ میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا اور میں اپنے مخصوص مزاج کے مطابق، عہد شکنی کا مرتکب ہوتے ہوئے، ایک بار پھر اپنے وعدے پر عمل نہ کر سکا۔

کام ٹالنے کا ہنر، ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتا ہے اور اس کام میں ہمارا تجربہ، اگر کہیں ایسا ریکارڈ مرتب ہوتا، تو شاید ہی کوئی اس کے مقابل ٹھہر پاتا۔ ایک ہی جیسی غفلت کا یکے بعد دیگرے، مظاہرہ کرنے کے بعد ہمارے اعتماد میں بڑی حد تک اضافہ ہو چکا تھا کہ اب ان کا صبر کا پیمانہ یقیناً لبریز ہو چکا ہو گا اور یہ محبت بھری آواز، فون پر دوبارہ ہمیں ملاقات پر نہیں اکسائے گی۔

یہ اعتماد شاید کچھ ہی دن قائم رہا ہوگا کہ پھر ہماری قیاس آرائی کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب وہی مہذب آواز، اسی دعوت کے لئے ہمیں یاد دلا رہی تھی۔ شدید شرمندگی کے عالم میں اپنے گزشتہ کردار کے لئے الٹے سیدھے، بے بنیاد جواز گھڑے ( اور دل میں، حقیقتاً خود پر جی بھر کے ملامت بھی کی کہ حد ادب اور پاس عہد بھی کوئی چیز ہے ) ۔ اس بار عہد کیا کہ اب عہد شکنی نہیں ہو گی۔

ہمارا یہ عزم بھی ہماری ازلی سستی کے آگے بالآخر زمیں بوس ہوا اور طے شدہ دن اور وقت، ایفائے عہد کے بغیر، عام دنوں کی طرح گزر گیا۔ مزاج کی اس ثابت قدمی کو دیکھتے ہوئے ہمارا یہ یقین اب پختہ تھا کہ ہم نے ان کے اعتماد میں اب کے جو دراڑ ڈالی ہے، وہ ان کی دائمی حوصلہ شکنی کے لئے کارگر ہو گی اور وہ میرے توسط سے کسی مزید سمع خراشی کے لئے اب ہرگز ہرگز آمادہ نہ ہوں گے۔ یہ امر اس لئے بھی منطقی لگا کہ جس کام کے لئے اکسایا جا رہا ہے، وہ سراسر میرے حق میں کیا جانے والا فیصلہ تھا۔ سو کاہلی اور سستی کی بلند ترین سطح پر خود کو فائز ہوتا دیکھ کر، اب اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی تھی کہ ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور یہ حد ہم نے نہایت بے باکی اوراستقامت سے پھلانگ لی ہے، سو تعلق کا یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہوا۔

احساس ندامت اور خفت کے بوجھ تلے، تلافی کی کوئی صورت، نہ صرف یہ کہ نظروں سے اوجھل تھی بلکہ اپنے اس شاندار ریکارڈ کے ساتھ، کسی پیش قدمی کا حوصلہ، خود بہ خود وجود میں آنے سے پہلے، دم توڑ دیتا تھا۔ خجالت کا یہ عالم، ہر گزرتے دن کے ساتھ، بڑھتا رہا کہ ایک بہی خواہ کی دل شکنی سراسر حماقت اور نا قدری نہیں تو اور کیا ہے۔ ذہن کسی ممکنہ گلو خلاصی کے تعاقب میں ابھی الجھا ہی ہوا تھا کہ شرمندگی کا مزید سامنا، ابھی باقی تھا۔ پھر وہی آواز، وہی لہجہ، وہی محبت اور وہی اصرار!

اپنی روایتی سستی، کاہلی اور کام ٹالنے کی خصلت کو پوری قوت سے پس پشت ڈالتے ہوئے اور مزید کوتاہیوں کے ارتکاب سے پہلے، میں نے ( ان کے سرکاری دفتر کے بہ جائے ) ان کی رہائش گاہ کی تفصیل کی درخواست کی اور ملنے کا دن اور وقت طے کیا۔

یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی، مگر ان کی اپنائیت، شفقت اور بے تکلفی سے یوں لگا جیسے یہ کسی تسلسل کا حصہ ہو۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ میرے ( اور میرے جیسوں کے ) لئے ان کی شخصیت، ان کا تخلیقی مزاج اور صحافت کے لیے ان کا اختراعی اور رجحان ساز تاریخی کردار یونیورسٹی کے دنوں سے ہی، باعث کشش اور قابل تقلید تھا۔

مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے، انھوں نے کہا ”ہاں بھئ! ایسا ایڈمنسٹریٹر، اور کہیں ملے گا، جسے تم وعدے پر وعدہ کر کے ٹالتے رہو اور وہ پھر بھی تمہارا پیچھا کرنے سے باز نہ آئے۔“

بلاشبہ یہ تجربہ میرے لئے اس قدر متاثرکن اور فرحت انگیز تھا کہ دل میں یہی خواہش اجاگر ہوئی ( جو آج تک قائم ہے ) کہ اگر ہمارے معاشرے میں سارے ایڈمنسٹریٹر، سارے منتظم، سرور سکھیرا ہو جائیں تو ہمارے گرد و نواح کی شکل کچھ سے کچھ ہو سکتی ہے۔

یہاں یہ بات، شاید اس پہلو کو سمجھانے میں مزید معاون ہو کہ یہ تب کی بات ہے جب وہ 1988 میں وزیراعظم کے پریس سیکریٹری تھے۔

کراچی یونیورسٹی کی ہماری ایک سینئر ساتھی اور دوستوں کی شاندار اور مفت وکیل، ( نضیرا اعظم ) نے انھیں ہمارے بارے میں یہ بتایا تھا کہ اسے کارٹون بنانے سے شغف ہے۔ بس یہاں سے اس رابطے کا آغاز ہوا۔

یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستر کی دہائی میں سرور سکھیرا صاحب نے صحافت کی دنیا میں دھنک کے نام سے، جو دھماکہ کیا، ادب، صحافت اور فنون لطیفہ کے طالب علم کی جنرل نالج نا مکمل ہے، اگر وہ اس تاریخ ساز وا قعہ سے بے خبر ہے۔ وہ پلیٹ فارم جس نے تحریر اور لے آؤٹ کے نئے انداز متعارف کرائے۔ ثقافت، سیاست، فیشن، فلم، اور طنزومزاح کے مختلف ( اور نئے ) معیار قائم کیے۔ وہ پلیٹ فارم جہاں سے ان گنت ہنر مند اورعام ڈگر سے ہٹ کر سوچنے والے لکھاری اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی کے تخلیق کار سامنے آئے۔

صحافت کی مثالی روایت پر چلتے ہوئے اردو فیچر فلم بناتے ہوئے بھی انھوں نے مروجہ فارمولے پر چلنا قبول نہ کیا اور مختلف کر دکھانے کی خواہش کی، جسے ہماری فلمی تاریخ میں لال آندھی کا نام دیا گیا۔

اپنی کالم نگاری میں بھی، اسی طرح، اپنا انداز برقرار رکھنے کے لیے ان کی انفرادیت ان کی تحریر میں نمایاں نظر آتی ہے، جیسا کہ اس مختصر اقتباس سے شاید کسی طور ظاہر ہو سکے :

” ٹی وی کے اولے پڑنے سے پہلے، اخبار، اطلاعات کے ہر صبح، سرسبز لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے، اب رات کو دیکھی سنی، باسی خبروں کی پرانی چنگیز لگتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں بولنے والے کو تجزیہ کار اور یہاں اسی بات کے دہرانے والوں کو کالم نگار کہا جاتا ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •