اچکزئی صاحب کی تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیرہ دسمبر کو لاہور میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم ) کا جلسہ حکومت وقت کی اجازت اور رکاوٹوں کے بغیر کامیاب ہو کر رہا۔ حسب معمول اس تحریک میں شامل تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماووں نے اپنی اپنی تقاریر میں حکومت کی نالائقی اور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی پر کھل کر بات کی اور اسی فلور سے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے اور اگلے مرحلے میں اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ اور استعفے پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔

تحریک کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں آنے والے دنوں میں ملک میں انارکی کی بات کی جو قابل فہم ہے۔ خدا نہ کرے کہ پہلے سے ہی معاشی، سیاسی اور لاقانونیت کی انارکی میں گھرے ہوئے اس ملک میں مزید انارکی ہو، یوں انارکی کے عذاب سے بچنے کے لئے حکومت، اسٹبلشمنٹ اور اپوزیشن تینوں کو انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ رہی سہی علیل جمہوریت کا جنازہ پھر نکل جائے۔

جلسے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی تقریر کا ایک حصہ قابل اعتراض ٹھہرا جس میں انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے شکوہ کیا کہ ہندووں اور سکھوں کے ساتھ ساتھ پنجاب والوں نے بھی پشتونوں کے خلاف انگریز سرکار کا ساتھ دیا تھا ”۔ اچکزئی صاحب منجھے ہوئے اور بزرگ سیاستدان ہیں لیکن اس فلور پر ان کی یہ باتیں بیشک بے محل تھیں اور ان پنجابی بھائیوں کی طبیعت پر گراں بھی گزرے جو اچکزئی صاحب کی بے تکلفی سے نا آشنا اور طبعیت سے ناواقف ہیں۔

تاہم میرا نہیں خیال کہ پنجاب کے سنجیدہ سیاستدانوں اور دانشوروں نے ان باتوں کو مائنڈ کیا ہوگا جو محموداچکزئی کی بے لاگ طرز سیاست سے واقف ہیں۔

البتہ فواد چوہدری جیسے ڈکٹیٹروں کے کاسہ لیس لوگوں نے ان ریمارکس کو ایک طعنے سے تعبیر کیا اور رد عمل میں نہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون والوں سے اچکزی صاحب کو پی ڈی ایم سے نکالنے کا مطالبہ کیا بلکہ ان کے حق میں انتہائی گھٹیا اور نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا، چوہدری صاحب کی ٹویٹس ملاحظہ فرمائیں :

اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی وفاقی جماعتیں ہیں تو اچکزئی کو PDM سے نکالیں ورنہ وہ تاریخ میں پنجاب دشمن کرداروں کے ساتھ پہچانے جائیں گے، پنجاب کی ایسی توہین کی جرآت کبھی کسی کو نہیں ہوا۔ اس جاہل افغانی ٹٹو کو یہ بھی نہیں پتہ کہ پاکستان میں جمہوریت کی ہر تحریک لاہور سے اٹھی تھی ”۔

یہاں یہ تصریح کردوں کہ پی ڈی ایم کے اس جلسے میں اچکزئی صاحب کی گفتگو بیشک موضوع اور محل سے مطابقت نہیں رکھتی تھی لیکن ان کا مقصد برادر قوم کی دل آزاری اور سبکی نہیں تھی بلکہ پشتون روایتی انداز میں انہوں نے اپنے میزبانوں سے قدرے شکوہ کیا۔

اچکزئی صاحب اپنی بے لاگ موقف کی وجہ سے بہتوں کی نظر میں ملک کا غدار سہی لیکن حقیقت میں وہ واحد پاکستانی سیاستدان ہیں جو آئین پاکستان کی پاسداری کی بات دوسرے ہر پاکستانی سیاستدان سے زیادہ کرچکے ہیں۔

ہم نے جبھی انہیں سنا ہے تو ان کی گفتگو ”آئین کی حقیقی صورت میں بحالی“ کے مطالبے سے شروع ہوتی ہے اور جمہوریت، برابری اور ملک پاکستان میں بسنے والی اقوام کے بیچ مساوات کی بات پر ختم ہوتی ہے۔

اکثر سیاستدانوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ بسا اوقات دل کی بات کو یا زبان پر لانے سے احتراز کرتے ہیں یا اپنی بات کو اگر مگر اور رموز و کنایات کے پیچھے چھپا دیتا ہے لیکن ہم نے اس بزرگ سیاستدان کو اپنی بات کہتے وقت بڑا بے تکلف پایا ہے۔

اچکزئی صاحب کے مخالفین انہیں پنجاب مخالف سیاستدان سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ بھی ان کے مخالفین کی غلط فہمی ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ جب سے لاہور کے دل سے میاں نواز شریف نے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا علم بلند کیا ہے تب سے پختون اچکزئی نے پنجابی نواز شریف کو اپنا بھائی اور بڑا تسلیم کیا ہے۔

تین برس پہلے دسمبر میں اچکزئی صاحب اپنے والد عبد الصمد خان شہید کی چوالیسویں برسی کے موقع پر میاں نواز شریف کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔

اس اجتماع میں وہ اپنے مہمان میاں نواز شریف کے مزاحمتی سیاست کے اتنے مداح دکھائی دیے کہ پشتونوں کی غیرت کو میاں صاحب کی حمایت سے مشروط کر کے انہیں یہ کہنا پڑا تھا ”ملک کے سب سے مقبول اور پنجاب کے سب سے ہر دلعزیز لیڈر کی حیثیت سے نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ میں یہ علم اٹھا کر آیا ہوں کہ پارلیمان کی بادشاہی، آئین اور قانون کی بالادستی ہو گی اور جو پشتون میاں صاحب کا ساتھ نہیں دے گا وہ بے غیرت ہے“ ۔ بہت سے پشتونوں کو اچکزئی صاحب کی یہ بات بھی ناگوار گزری لیکن جہموریت کی خاطر انہوں نے اپنے لوگوں کی ناراضی کی بھی پرواہ نہیں کی۔

اسی طرح محمود خان اچکزئی بہت سے حلقوں میں افواج پاکستان کا مخالف سمجھا جاتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ افواج پاکستان کا مخالف نہیں بلکہ اس بے مہار طبقے کو آئین کی اتباع کرنے پر زیادہ اور بجا اصرار کرتے ہیں جس کو بعض احباب مخالفت فوج کا نام دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آزادی مارچ کے کنٹینر پر کھڑے ہو کر انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ اس فوجی جرنیل کو سلامی پیش کریں گے جو آئین پاکستان پر عمل کرے گا۔

بہر حال اپنی تقریر کے متنازع ریمارکس پر اسی وقت بھی پنجابی بھائیوں سے معذرت کر کے اور بعد میں ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے ریمارکس کی تصریح کر کے انہوں نے فراخ دلی اور بڑا ہونے کا ثبوت دے دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •