تاریخ نویسی، متن، عسکری ادارے اور مصنف



تاریخ نویسی خط مستقیم نہیں ہے۔ اگر چہ کسی بھی شے کی تاریخ ابتدا سے حال تک ایک سیدھی لکیر نظر آتی ہے۔ شہروں، صوبوں، ملکوں، بر اعظموں، علوم، مذاہب، سیاست، رہنماؤں، معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں زبانوں، ادبیات، ممالک، اداروں اور حکومتوں کی تاریخ کھنگالیں اور اسے دوبارہ لکھیں تو واضح ہو گا کہ تاریخ کئی موڑ مڑ چکی ہے۔ انسانی خطوں میں قحط کی تاریخ کا جائزہ لیں تو بنگال اور افریقہ کے قحط کی وجوہ، اسباب اور اثرات یک لخت مختلف نظر آتے ہیں۔

اگر قحط کے حوالے سے اس وقت کی سیاسی قوتوں کو بھی شامل موضوع کیا جائے تو اس سے نتائج مختلف برآمد ہوتے ہیں۔ اگر تہذیبی، علاقائی، معاشرتی اور معاشی سطح پر قحط کی تاریخ کے نتائج دیکھیں گے تو وہ سراسر مختلف ہوں گے۔ اسی طرح علاقائی تبدیلی سے یکساں حوالوں سے کی گئی تحقیق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس مضمون کا مقصد مختلف علوم کی تاریخ کے امکانات کو کھنگالنا ہے۔ کسی خاص علم کی تاریخ کے کتنے زاویے اور پہلو ہو سکتے ہیں۔

ادیان و مذاہب کی تاریخ میں جنگوں سمیت کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ کسی مذہب، قوم، ملک و ملت کی تاریخ جنگوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اسلام جیسا پر امن مذہب بھی جنگی تاریخ سے خالی نہیں ہے۔ خالص مذہبی تاریخ میں مختلف مذاہب کے آغاز، ارتقا، خاتمہ اور ان کے نظریات عقائد، عبادت کے طریقے اور رسوم و رواج، تمدن، معاشرت، سماج تہذیب، ثقافت، علوم شامل ہو سکتے ہیں لیکن جب اس کی سیاسی فعالیت کے واقعات شامل ہوں گے تو لامحالہ اس کی دیگر مذاہب سے نبرد آزمائی کا عنصر بھی شامل ہو گا۔

آج معاصر عالمی صورت احوال میں کسی ملک کے عسکری اداروں کی تاریخ دیکھنے کو نہیں ملتی، کسی نے شاید کبھی کوشش بھی نہیں کی لیکن ان اداروں کے بارے میں اظہار رائے ضرور ہوتا ہے۔ کیا اس کی تاریخ کچھ بہادر جنگجوؤں کا کا تذکرے تک محدود ہو سکتی ہے، یا چند لوگوں کے عسکری بہادری کے واقعات کے بیانات سے عبارت ہو سکتی ہے۔ مورخ، طویل دورانیوں پر توجہ مرکوز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے ان کی تہ میں سیاسی واقعات کی تبدیلیاں اور واقعات چھپے ہوں۔

وہ صدیوں کے تسلسل میں اچانک معکوس ہو نے والے مستحکم، تقریباً نا قابل زوال قدغنی اقتدار، مستقل تسویہ ہائے نو، قوت ساز بنیادی رجحانات، روپیہ کی کثرت اور سست سرایت گیری کے تحرکات، مہا خاموشی، روایتی تاریخ کے واقعات کی موٹی تہوں میں دبی بے حرکت بنیادوں کو عیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ تجزیے کے بہت سے مدارج ہیں۔ جن کے بغیر تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔ بڑے ممالک، چھوٹے ممالک، ترقی پذیر ممالک، ترقی یافتہ ممالک، امیر ممالک، غریب ممالک، جمہوری ممالک اور غیر جمہوری ممالک کے ایک جیسے اداروں میں نظام، ضرورت، کام کی رفتار اور رویے سراسر مختلف ہو سکتے ہیں۔

صرف موسمی تبدیلی سے واقعات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اردو ادبیات کی تاریخ میں پہلا باب، مقدمہ یا پیش لفظ تاریخ میں بہت پیچھے جا کر کسی عربی اور فارسی لفظ کے استعمال کی کھوج کرتا رہے گا گویا کہ یہی تاریخ ادبیات کا کام ہے۔ پاکستان کے حوالے سے عسکری تاریخ نویسی کا رواج رہا ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی اس ادارے کی مکمل تاریخ لکھنا چاہے تو کون سے زاویے اختیار کر سکتا ہے؟ کیا اس حوالے سے کچھ سوال قائم کیے جا سکتے ہیں جنھیں ہم تاریخ کی منصوبہ بندی کہ سکیں۔

کیا مورخ صرف بری افواج کے آغاز، جنگوں، ہار، جیت اور دیگر کاموں کو بیان کرنے پر اکتفا کرے گا یا بری، بحری، فضائیہ کے شعبوں کو بھی شامل کرے گا۔ ان میں موجود افراد کی اعداد شماری تک محدود رہے گا یا ان کی صلاحیتوں کو بھی شامل کرے گا۔ اس کے پاس ان صلاحیتوں کو اچھا برا کہنے کا پیمانہ کیا ہو گا۔ کیا وہ اسی خطے کے یکساں جغرافیائی اور موسمی حالات رکھنے والے ملک کی فوج کو معیار بنا کر ان صلاحیتوں کو جانچے گا یا خود ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔

ان کے خرچ اخراجات اور دیگر دفاعی سامان اور اس کے اخراجات کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائے گا یا ان کو بھی موضوع کا حصہ بنائے گا۔ تعلیمی و تربیتی مراکز، بھی اس تاریخ میں شامل ہوں گے یا نہیں۔ ایک عام سویلین اور ایک پچیس چھبیس سالہ لفٹیننٹ جو سو پچاس لوگوں کو لیڈ کر رہا ہوتا ہے، دونوں کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھے گا۔ وہ کسی ترقی یافتہ ملک کے ادارے کو معیار بنائے گا تو کیا وہ اس ترقی یافتہ ملک کے فوجی بجٹ کو بھی زیر بحث لائے گا جیسے امریکی فوج پورے بجٹ کا پچھتر فی صد وصول کرتی ہے۔

وہ تمام ذرائع جو مورخین کو تجزیے میں مدد دیتے ہیں، جزوی طور پر ان کے پاس پہلے سے ہوتے ہیں اور کچھ جزوی طور پر وہ خود بنا لیتے ہیں۔ اقتصادی ترقی کے نمونے، منڈی کی حرکات کے مقداری تجزیے، آبادی کے بڑھنے اور سکڑنے کی تفاصیل، موسم کا مطالعہ اور اس کی طویل المدتی تبدیلیاں، سماجی مستمرات کا طے کیا جانا، تکنیکی اشیا کی تطبیق و تعدیل کی وضاحت اور ان کا پھیلاؤ اور تسلسل۔ انھی ذرائع نے نچلے طبقات میں امتیاز کرنے کے قابل کیا ہے ؛انھی موہوم سلسلوں نے جو تحقیق کا مقصد رہے ہیں، گہرائی میں جا کر دریافت کے عوامل کو راستہ دیتے ہیں۔

بالائی سطح پر سیاسی تحرک سے زیریں سطح پر مادی تہذیب کی سست روی تک تجزیے کے کئی مدارج قائم ہو چکے ہیں۔ ہر درجے کے اپنے حدود انقطاع اور نمونے ہیں اور جب کوئی ان کی گہرائی میں بہت نیچے جاتا ہے تو آہنگ مزید کشادہ ہو جاتا ہیں۔ حکومتوں، جنگوں اور قحطوں کی تیزی سے بدلتی تاریخ میں، کئی بے حس و حرکت ساکن تواریخ بھی ظاہر ہوتی ہیں : سمندری رستوں کی تاریخ، مکئی کی یا سونے کے کانوں کی تاریخ، خشک سالی یا آبپاشی کی تاریخ، فصلی دورانیوں کی تاریخ، بھوک اور کثرت کے درمیان بنی نوع انسان کی توازن یابی کی تاریخ۔

روایتی تجزیے کے پرانے سوالات تو یہ تھے :غیر مساوی واقعات میں کیا ربط ہونا چاہیے، ان کے درمیان کون سی اتفاقی موروثیت جوڑی جا سکتی ہے؟ ان کا تسلسل کیا ہے یا وہ کون سی خصوصیت کے حامل ہیں، کیا اکملیت کی تعریف کرنا ممکن ہے، یا کسی شخص کو ان کے درمیان از سرنو رشتوں کی تعمیر پر قانع رہنا چاہیے۔ اب ان کی جگہ دوسری قسم کے سوالات جنم لے رہے ہیں : کس تہ کو دوسری تہ سے الگ کرنا چاہیے، کس قسم کے سلسلے قائم کیے جانے چاہئیں؟

ان میں سے ہر ایک کے دورانیے بنانے کے لیے، کس قسم کے معیارات اختیار کرنے چاہئیں۔ رشتوں کا کون سا نظام (تنظیمی ڈھانچے، ترتیب مدارج، یک معنوی تسلط، مدور علت و معلول کے تجریدی رشتوں کو ظاہر کرنے والا) ان کے درمیان قائم کیا جا سکتا ہے؟ تسلسل کے کون سے سلسلے مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور کس بڑے پیمانے پر، زمانی ترتیب کے گوشوارے میں، واقعات کے متمائز سلسلے ظاہر کیے جا سکتے ہیں؟ یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دہشت گرد جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا۔

ان کے خلاف برسر پیکار فوج کے کسی جوان کے ہاتھوں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں کسی دہشت گرد کا کوئی بچہ مارا جاتا ہے اور وہ جوان راتوں کو سو نہیں سکتا، کیا تاریخ اسے اپنا موضوع بنائے گی۔ فوج کا اپنا کلچر، اپنی زبان اور کام کا اپنا طریق کار ہوتا ہے جن سے عام شہری کی واقفیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، وہ صرف سطحی، مخالفانہ اور سیاسی پراپیگنڈے کا شکار بھی ہو تا ہے کیا مورخ جنگ کے بعد جنگ میں شریک لوگوں کی ذہنی کیفیت کو بھی تاریخ کا حصہ بنا کر دیکھ پائے گا۔

کیا وہ جنگ سے پہلے کے حالات کا درست تجزیہ کر سکے گا۔ یا وہ اسے منفی پروپیگنڈے کے زیر اثر بنی ہوئی ذہنی کیفیت کے تحت تاریخ میں واقعات شامل کرے گا۔ بیک وقت ان شعبہ ہائے علوم میں جب ہم تصورات کی تاریخ، سائنس کی تاریخ، فلسفے کی تاریخ، افکار کی تاریخ اور ادب کی تاریخ کہتے ہیں ان کے اختصاص کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کردیں۔ ان شعبہ ہائے علوم میں جو ان کے ناموں کے بجائے، وسیع پیمانے پر مورخین کے کاموں اور طریق ہائے کار سے گریز کرتے ہیں، اس وقت توجہ، بڑی اکائیوں جیسے دورانیے اور صدیوں سے بھٹک کر، عدم تسلسل کے مظہر اور جدائی کے مظہر کی طرف بھٹک جاتی ہے۔

علم کے ارتقا کی سخت خواہش میں خیال کے مہا سلسلوں، دماغ واحد یا اجتماعی ذہانت کی ٹھوس یکساں توضیحات میں، مفکر بیرونی مداخلت کے واقعات کو نشان زد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر قسم کی وہ مداخلت جس کا مقام اور فطرت مختلف ہے۔ بیشولا نے کئی قسم کے علمیاتی اعمال اور شروعات کی وضاحت کی ہے جو علم کی مسلسل کثرت کو منقطع کرتے ہیں اور اس کی سست ترقی میں مداخلت کرتے ہیں اور اسے نئے دور میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ہیں، اسے اس کی تجربی بنیادوں اور اصلی تشویقوں سے الگ کرتے ہیں، اسے اس کے تصوراتی رشتوں سے مصفا کرتے ہیں۔

وہ تاریخی تجزیے کو خاموش ابتداؤں سے دور کہیں دھکیلتے ہیں اور اس کی نا مختتم جستجو و سراغ بہت پیچھے پیش روؤں میں کرتے ہیں۔ تلاش کا یہ سلسلہ نئی عقلیت اور اس کے مختلف اثرات تک پہنچتا ہے۔ اب یہاں نظریات کی کایا کلپ اور نقل مکانی ہوتی ہے۔ جی کینگل ہیم کے تجزئیات یہاں نمونے کا کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے تجزئیات میں واضح طور پر دکھاتے ہیں کہ نظریے کی تاریخ کلی طور پر درجہ بہ درجہ تزکیے، اس کی مسلسل عقلیت پسندی، اس کے انتزاعی اتار چڑھاؤ کی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کی صحت و درستی اور تشکیل کے مختلف میدانوں، اس کے استعمال کے کامیاب قوانین اور ان نظری تناظرات کی تاریخ ہے جس میں اسے ترقی اور پختگی حاصل ہوئی۔

سائنسوں کی تاریخ کے خرد و کلاں پیمانوں میں امتیاز کے لیے ہم کنگل ہیم کے مرہون ہیں۔ جن میں واقعات اور نتائج ایک طرح سے ترتیب نہیں پاتے ہیں : پس کسی سائنسدان کی دریافت، کسی طریقے کی تشکیل، کامیابی اور ناکامیاں ایک طرح کا واقعہ نہیں ہوتی ہیں اور دونوں سطحوں پر ان کی وضاحت ایک طرح نہیں ہو سکتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک سطح پر مختلف تاریخ لکھی جا رہی ہوتی ہے۔ با بار توزیع و تقسیم، کئی ماضیوں، ارتباط کی کئی صورتوں، اہمیت کے کئی درجے، تصمیم کے کئی سلسلہ ہائے کار، سلسلہ ہائے حکمت غایت یا علم وجود، کو صرف ایک اور یکساں سائنس کے لیے ظاہر کرتی ہے جیسے اس کا حال تبدیلی سے گزرتا ہے۔

اس لیے، تاریخی توضیحات علم کی موجودہ صورت سے ترتیب پاتی ہیں۔ ان توضیحات میں ہر تشکیل کے بعد اضافہ ہوتا ہے اور خود سے تعلق منقطع کرنے کے لیے بھی ان کا سلسلہ رکتا نہیں ہے (ریاضی میں، ایم سیرس  نے اس مظہر کا نظریہ دیا ہے )۔ (مشل سیرس فرانسیسی فلار۔ مترجم) ۔ اس قسم کے نظاموں میں تعمیراتی اکائیوں کے تجزیے ایم گیروٹ نے کیے ہیں جن کا سروکار نہ صرف ثقافتی اثرات، روایات کی وضاحت اور تسلسل کے سلسلوں سے ہے بلکہ اندرونی انسلاکات، بدیہات، قیاسی روابط و مناسبات سے ہے۔

آخر میں بہت زیادہ بنیادی مقطعاتی وقفے ہیں نظری تشکیل کے کام سے متاثر ہوتے ہیں، نظری تشکیل سائنس کو اس کے ماضی کے تصور سے جدا کر کے اور ماضی کو بطور مثالیہ پیش کر کے، قائم کرتی ہے۔ اس کام کے لیے بے شک، اس میں ادبی تجزیے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جسے بطور اکائی کے سمجھا جاتا ہے نہ کہ کسی عہد کی حساسیت یا روح کے طور پر، نہ اسے دھڑے، دبستان، یا نسلوں یا تحریکات کے طور پر لیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے مصنف کی زندگی اور تخلیق کے تعامل میں اس کی شخصیت سمجھا جاتا ہے بلکہ دیے گئے متن یا کتاب کی مخصوص ساخت کے طور پر لیا جاتا ہے۔

(جاری)

Facebook Comments HS