دیار غیر کے مسکین اور عشقیہ خطوط کی کتابت



کہتے ہیں کہ کچھ ملتانیوں کو اللہ نے جہنم میں بھیج دیا۔ پتہ چلا کہ بے چارے وہاں بھی رضائیاں لے کر بیٹھے تھے۔ کہ یہ کیسی جہنم ہے اس سے تو ہمارا ملتان زیادہ گرم تھا۔ میرے ایک دوست ملتان میں رہتے ہیں جو اکثر پاکستان آنے پہ مجھے ملتان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جبکہ وقت کی قلت ہمیشہ آڑے آتی رہی۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں۔ گرد گداگر، گورستان اور گرمی۔ میرے خیال میں اگر ملتانیوں کو باہر کی زیادہ صاف ہوا میں جانا پڑے تو ممکن ہے کہ کسی بے چارے کو الرجی کی شکایت ہو جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے مخصوص ماحول کا عادی ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے گاؤں میں اکثر بحرین جسے لوگ برین کہتے تھے۔ برین کا بہت ذکر سنتے تھے۔ کیونکہ بہت سے لوگ وہاں بسلسلہ روزگار گئے ہوئے تھے۔ خدا کا کرنا کچھ یوں ہوا کہ ایک دن میں بھی اسی ملک یعنی برین میں جا پہنچا۔ جس کے اصل تلفظ کا وہاں جا کر پتہ چلا کہ برین نہیں وہ دراصل بحرین تھا۔ جس کی ی کا میں کبھی فیصلہ نہیں کر سکا۔ کہ اسے ی ہی پڑھوں یا الف۔ یعنی بحران۔

کہ ان تین سالوں کا دورانیہ میرے مقدر کا وہ بحران ہی تھا۔ کہ اس کے بعد کسی بحران کو میں نے ویسا بحران نہیں سمجھا۔ فارسی کا ایک مقولہ ہے۔ قدر عافیت کسے داند کہ بمصیبتے گرفتار آید۔ عافیت کی قدر وہی جانتا ہے جس مصیبت سے پالا پڑ چکا ہو۔ جہاں گرمی کا وہ درجہ حرارت دیکھا۔ کہ اگر کہا جائے کہ گر جہنم بروئے زمیں است۔ ہمیں است ہمیں است ہمیں است۔ کم از کم جس سے مجھے پالا پڑا۔ کہ اگر کہیں باہر کام کرنا پڑ جاتا۔

تو کھال اوپر سے جل کر کھرنڈ کی طرح اتر جاتی۔ اور پھر عرب لوگوں کی مسلمانی دیکھ کر یہی لگتا کہ انہیں جہنم کا مطلق ڈر نہیں۔ اور پھر وہاں کی حدت۔ خدا پناہ۔ ملتانیوں کی طرح عرب پہلے ہی جہنم نما گرمی کے عادی ہیں۔ اگر کوئی ادھر جہنم میں جا ہی پہنچا تو جہنم کے داروغوں کو ان عربوں کے لیے شاید اضافی آگ بھڑکانی پڑے گی۔

اس زمانے کی بات ہے۔ جب بحرین میں میں الدوادی کمپنی کے کام سے واپس گھر لوٹا۔ گھر بھی کیا ایک بلڈنگ جس کی دوسری منزل پہ تین دوسرے دوستوں کے ساتھ ہم مساکین کی مسکنت تھی۔ مسکین بوجہ ایں کہ عرب ممالک میں ہم پاکستانی انڈین مسکین ہی کہلاتے ہیں۔ دراصل شروع میں میں بھی ایک دوبار ایک عربی لڑکے سے الجھا کہ خبردار جو مجھے مسکین کہا۔ مگر جلد ہی یہ عقدہ وا ہوا۔ کہ مسکین عرب ممالک میں سب پردیسیوں کو کہا جاتا ہے۔ تو اس اجتماعی ٹائیٹل کو میں نے بھی طوعاً و کرہاً قبول کر لیا۔ کہ پردیسی تو ہم بہرحال سب ہی تھے۔ بلکہ بعض اوقات تو بحرین میں ایسی صعوبتیں بھی دیکھیں کہ بعد میں آنے والی ہر مشکل ہی آسان لگی۔

تو جب میں کام سے گھر پہنچا توایک انتہائی سوٹڈ بوٹڈ لڑکے کو نیچے والے کمرہ میں جہاں ہمارے محترم دوست اکرم صاحب رہتے تھے ان کے پاس دیکھا۔ بھائی اکرم صاحب نے نووارد صاحب کا تعارف فضل حسین کے نام سے کروایا۔ گورا چٹا بھورے بالوں والے فضل صاحب نے بہت نفاست سے سفید پتلون اور چیک کی شرٹ زیب تن کررکھی تھی۔ جیب میں پن اور سامنے ایک خوبصورت ڈائری بھی جیب سے ایک شرمیلی حسینہ جو دیوار سے باہر قدرے چھپ کر اوپر سے جھانک رہی ہو بہت بھلی لگ رہی تھی۔

پہلے تو میں سمجھا شاید اخباری رپورٹر ہیں۔ شاید ہم پردیسیوں کا انٹرویو لینے آئے ہیں۔ کہ ماؤں کے لاڈلو کیسی بیت رہی ہے۔ مگر اکرم صاحب کی اس بات پہ کہ یہ حضرت کچھ دن آپ کے کمرہ میں تابندوبست رہائش دیگر نزول فرمائیں گے۔ کمرہ ہمیں اکرم صاحب نے ہی لے کر دیا ہوا تھا۔ لہذا ہم فضل صاحب کو اپنے غریب خانہ میں لے آئے۔ فضل صاحب کی چند باتوں سے ہی پتہ چلا کہ حضرت سادگی کا مرقع ہیں۔ مجھ سے اس رہائش کا پتہ پوچھا تو میں نے گلی کا نام ونمبر بتایا۔

تو جھٹ سے اپنا پن و نوٹ بک میرے ہاتھ میں تھما دی۔ کہ اس پہ لکھ دیں۔ عرض کیا کہ میں لکھواتا ہوں آپ خود لکھ لیں۔ کہ میری لکھائی بھی شاید آپ پڑھ ہی نہ سکیں۔ مگر وہ بضد رہے کہ تم ہی لکھ دو۔ تو میں نے قدرے سنوار کر پتہ لکھ دیا۔ چونکہ گرمیاں تھیں ہم سب رات کو بلڈنگ کی چھت پہ جا کر سوتے تھے۔ وہاں سب نے تختوں سے سونے کے لئے بڑی بڑی میزیں بنا رکھی تھیں۔ جیسے دھوبی گھاٹ کے کنارے دھوبیوں کی کپڑے پٹخنے والی میزیں ہوتی ہیں۔ ایک میز پہ دو تا تین گدے جو صبح ہم واپس اپنے کمرے میں لے آتے۔ بچھا کر سوتے تھے۔ میز کے ایک طرف قدرے جگہ خالی تھی وہاں فضل صاحب کو گدا بچھا کر دیا۔ کہ محترم آپ کی یہ جائے استراحت ہوگی۔ میرے بائیں جانب میرے روم میٹ آفتاب صاحب سوتے تھے۔

ہم چونکہ دن کو بھی سخت مشقت والا کام کرتے تھے۔ لہذا اگر خواب میں بھی گینتی یا سیمنٹ کا توڑا اٹھائے خود کو دیکھتا تو ایسی اچنبھے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ اس رات بھی جونہی آنکھ لگی۔ مجھے محسوس ہوا۔ کہ کام پہ میں نے سیمنٹ اٹھایا ہوا ہے جس سے گویا دم گھٹ رہا ہے۔ جلد ہی آنکھ کھل گئی۔ تو اندازہ ہوا کہ میرے پیٹ پر اچھا خاصا وزن ہے پتہ چلا کہ مہمان صاحب اپنی جگہ سے لوٹنیاں لیتے لیتے میرے عین بغل میں اپنی دونوں رانیں میری پیٹ پہ رکھے گویا میں ان کا گول تکیہ ہوں میری مہمان نوازی کا انتہائی غیر شریفانہ سا حظ اٹھا رہے ہیں۔

میں نے اکرام ضیف کے پیش نظر بصد احترام بڑی مشکل سے خود کو ان کے کشتیانہ سٹائل کے شکنجہ سے آزاد کروایا۔ اور باوجود خاصے ہلانے جلانے پہ بھی فضل صاحب کی خواب خرگوش میں مخل نہ ہو سکا۔ اور خاصے جوکھوں سے فضل صاحب کوگھسیٹ کر ان کے گدے پہ رکھا۔ یہ سوچ کر بے چارہ کچھ زیادہ ہی تھکا ہوا لگتا ہے۔ میں پھر سوگیا۔ مگر کچھ ہی دیر کے بعد پھر جاگ گیا۔ اس بار فضل صاحب 180 درجے مزید گھوم کر اپنی ٹانگیں آفتاب صاحب کی گردن پہ اور سر اور کندھے مجھ پہ رکھ کر پچک پچک کچھ ایسے کر رہے تھے۔

جیسے کوئی آئس کریم کا مزہ لے رہا ہو۔ میں نے سوچا اس بار اس کا زیادہ حدوداربعہ آفتاب پہ ہے اب جاگا کہ کب جاگا۔ اب آفتاب اسے واپس اس کے گدے پہ پہنچائے گا جو ہماری ادوائن کی طرف تھا۔ میں کچھ دیر چپکا ہورہا۔ مگر مجال ہے جو آفتاب صاحب نے مہمان کی خوابیدگی کی چوکڑیوں کو ذرا بھی مضائقہ سمجھا ہو۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں نے لیٹے لیٹے مہمان کی پنڈلی جو آفتاب کے سر یا شاید کان پہ تھی قدرے دبائی کہ آفتاب اس میزبانہ ڈیوٹی کو سرانجام دے۔

مگر مجال ہے کہ آفتاب صاحب کے کان پہ جوں بھی رینگی یا پنڈلی کے دباو نے اس کی نیند میں خلل ڈالا ہو۔ ناچار ایک بار پھر میں نے ہی فضل کو اس بار احترام سے نہیں بیزاری سے واپس اس کے گدے پہ پہنچایا حیرت مجھے اس پہ کہ یہ بندہ تو آج پھندا ہی بن گیا ہے۔ آدھی رات کا عمل تھا۔ اتنے ہلانے جلانے پہ بھی نہیں جاگتا۔ بھلا کیونکر ممکن ہے کہ کوئی بوری کی طرح گھسیٹے تو بھی سونے والا افیم خوروں کی طرح سویا ہی رہے۔ دوسری بار سے میں بھی چڑ چکا تھا۔ کہ عجیب مہمان نوازی سے آج پالا پڑا ہے۔ مگر مجھے حیرت کی انتہا نہیں رہی جب تیسری بار بھی مہمان گویا راڈار کی طرح گھومتا ٹانگ کو میری گردن پہ رکھنے کی کوشش میں تھا اور مجھے اب تیسری بار جگایا گیا۔

میں سوچنے لگا کہ اب کیا کیا جائے۔ وہ بے سرے خراٹے اور درمیان میں کبھی پچک پچک کی آوازیں نکال رہا تھا۔ اچانک اس نے اپنی پنڈلی میری گردن پہ اس طرح رگڑی گویا کوئی بچہ مزے سے لکڑی کے گھوڑے کو ایڑ دے رہا ہو۔ اس بار میں نے اس کی پنڈلی سے جتنے بال میری چٹکی میں آئے۔ پوری قوت سے انہیں میں نے اکھیڑ ڈالا۔ جس کا خاطرخواہ ردعمل ہوا کہ اسے اس بار اپنی مخموریٔ استراحت کی قباحت کا اندازہ ہوا یا نہیں مگر اپنی پنڈلی ملتے ملتے اوئی اوئی کی لمبی گردان کرتے سیدھا اپنے تکیے پہ جا پہنچا۔

مجھے اس کی اوئی اوئی سے بے تحاشا ہنسی شروع ہو گئی۔ اس بار اس کی اپنے تکیہ پہ واپسی پہ کسی کہنی یا گھٹنے نے آفتاب صاحب کو جگا دیا۔ یہ ایک چاندنی رات تھی۔ عین اسی لمحے آفتاب صاحب لیٹے لیٹے سر اٹھا کر مجھے دیکھنے لگے کہ شاید میں ان کی خواب خرگوش میں مخل ہوا ہوں۔ میں چونکہ پہلے ہی ہنس رہا تھا۔ آفتاب صاحب مجھے جنجھوڑنے کے ساتھ آوازیں دینے لگے اوئے مبشر اوئے مبشر کیا ہوا ہے۔ جوں جوں میرے چہرے کو قریب سے غور سے دیکھتے ان کے سخت فکر انگیز طریقے سے دیکھنے سے مجھے گویا مزید ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔

اب آفتاب صاحب اپنے بائیں جانب والے جو ہمارا ہی روم میٹ تھا اس کو جگانے لگے۔ اس نے جب پوچھا کہ کیا ہوا۔ کہنے لگے اوئے دیکھ مبشر کو دورہ پڑا ہوا ہے۔ بھلا اس طرح میں ہنسی کو کیونکر قابو کرتا۔ میرے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ البتہ میں نے انگلی سے اشارہ کیا کہ کچھ نہیں ہوا۔ میں ٹھیک ہوں بس ہنس رہا تھا۔ آفتاب صاحب اور بھی حیران ہوئے۔ کہ ہنس رہا تھا؟ اور اس طرح آدھی رات میں اور وہ بھی فل سپیڈ۔ اوئے دماغ تو نہیں چل گیا۔ میری وضاحت پہ بولے اچھا یہ بات تھی۔ میں سمجھا چاندنی میں آنکھیں بند اور دانت ہی نظر آرہے ہیں شاید اسے سوتے میں مرگی کا دورہ پڑگیا ہے۔ یوں اس رات میں پھرکی کی طرح گھومتے مہمان کو ہی سیدھا کرنے کی میزبانی میں مصروف رہا۔

دوسرے دن اوربعد میں آنے والے وقت اور ہمارے رومیٹ ہونے کے ناتا سے معلوم ہوا۔ کہ فضل حسین انتہائی معصوم سادہ طبیعت کا مالک اور جتنا وہ خود چٹا تھا اس سے بھی زیادہ چٹا ان پڑھ مگر چٹے ہی دل کا بھی مالک تھا۔

جس عمارت کے ہم مکین تھے۔ اس میں تین منزلیں لاتعدار کمرے اور کئی راہداریاں تھیں۔ ہر منزل پہ ایک کمرے کی جگہ شمال کی جانب سے اور ایک جنوب کی جانب سے خالی چھوڑ کر فقط راھداری والی طرف سے گز بھر اونچی دیوار چھوڑ دی گئی تھی۔ جس میں سب لوگ اپنا کوڑا پھینکتے تھے۔ اور ہفتہ دس دن بعد ہی وہاں سے کوڑا اٹھایا جاتا تھا۔ وہاں چوہوں نے اپنا مسکن بنایا ہوا تھا۔ جو عام چوہے نہیں تھے۔ بلکہ کم وبیش دو سے تین تین سیر کے اور اتنے دلیر کہ ہماری راہداریوں میں ایک کوڑے کے کھڈے سے دوسرے کھڈے تک کھلے عام کبڈی کھیلتے رہتے تھے۔

اکثر ایک الہڑ سی چوھیا جب اپنی عزت کو ایک کھڈے میں خطرے میں محسوس کرتی تو اٹھ کر دوسرے کی طرف دوڑ لگا دیتی۔ اور ایک نہیں پانچ سات غنڈہ فطرت منچلے اس کے تعاقب میں دن دیہاڑے اس کو دبوچنے آرہے ہوتے۔ مجال ہے جو لوگوں سے ذرا بھی خوفزدہ ہوں۔ چوھیا بھی خاموشی سے نہیں بلکہ ایسے چیخ رہی ہوتی گویا پنجابی فلم کا کوئی سین فلمایا جا رہا ہو۔ بلکہ مجھے ان ہی دنوں کی مشہور فلم شعلے کا وہ سین یاد آجاتا۔ جہاں بسنتی کے پیچھے گبر سنگھ کے گبرو ڈاکو لگتے ہیں۔ وہاں بلیوں کو ویسے ہی باہر عمدہ من وسلوی مل جاتا تھا لہذا بلیوں کا چوہوں سے کوئی خفیہ میثاق تھا۔ کہ کوئی کسی کو نہ چھیڑے اور نہ انگیخت کرے گا۔ ہمیں بھی آغاز رہائش میں ہی بتا دیا گیا کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے کہ اگر کوئی چوہا کسی کے ظلم کا شکار ہوا تو ہفتہ دس دن اس کی لاش اسی کوڑے کے ڈھیر پہ پڑی فضا کو متعفن کرتی رہے گی۔ اور خمیازہ سب کی قوت شامہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ تاوقتیکہ اگلے ہفتہ وہ کوڑا اٹھایا جائے۔

لہذا ہم نے بھی انہیں مندروں کے چوہوں کی طرح اپنے کمرے کے سوا باہر مٹر گشت کی کھلی آ گیا دے دی۔ ان چوہوں کا تذکرہ اس لیے درمیان میں آ گیا۔ کہ ان سے ہماری ہمہ روز مڈ بھیڑ ہوتی رہتی تھی۔ اور بلڈنگ کے ہر سوراخ کی راہ پہ وہ قابض تھے۔ لیٹرینوں اور غسل خانوں میں اکثر آ نکلتے۔ اور انہیں ششکار کر بھگا دیا جاتا۔ اور چونکہ ان کی بھی سب باسیوں سے جان پہچان تھی۔ لہذا وہ اوہ سوری کی ادا سے بھاگ جاتے۔ فضل حسین کی بدقسمتی کہ پہلے دن ہی صبح کے وقت نہاتے ہوئے ایک چوھیا ہی ہوگی جو مردانہ غسل خانوں میں جھانک رہی ہوگی جس نے شاید فضل حسین کو *نواں ایں آیا لگنیں سوہنیاں * کہہ کر عین دوران اشنان غسل خانے س اپنی تانکا جھانکی سے دہشت زدہ کر کے باہر بھگا دیا۔

صابن لگایا ہوا بندہ تولیا لپیٹے بسرعت باہر نکلے تو وجہ تو بہرحال بڑی ہی ہوگی۔ باہر نہانے کی باری والے سب ہنس پڑے کہ بھائی کیا ہوا ہے کہنے لگا کہ کوئی بلا اندر مجھے دیکھ رہی تھی۔ سب نے یقین دلایا کہ بے ضرر چوھا ہوگا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ میرے پوچھنے پہ کہنے لگا کہ اتنی بڑی بڑی آنکھوں والا چوہا نہیں ہو سکتا تھا اس لیے میں ڈر گیا۔ میں نے مذاقاً کہا کہ کیا غزالی آنکھیں تھیں۔ ؟ کہنے لگا وہ کیسی ہوتی ہیں۔

تو میں نے کہا وہ بھی بڑی بڑی ہوتی ہیں۔ فضل کے ساتھ ہماری سب کی خاصی بے تکلفی ہو گئی۔ کیونکہ وہ دوچاردن کا مہمان بن کر آیا اور پھر کئی ماہ چپکا ہو رہا۔ اگرچہ سب دوست ہی پڑھے لکھے تھے اور اپنے گھروں کو خط وکتابت خود ہی کرتے تھے۔ مگر فضل کی خط لکھوانے کے لیے نظر انتخاب مجھ ناچیز پہ پڑی۔ کیونکہ ایک دو پڑھے لکھے بھی مجھے اس شرف کاتبی برائے خانم خویش نوازتے تھے۔ اور میں پردیسیوں کی اداس راتوں اور خانم کی یاد میں تڑپنے کوگویا مرغ بسمل کے خون کو سیاھی بنا کر لکھا کرتا تھا۔

میں سمجھتا تھا کہ مجھے بھی ایسے جذبات اور ان کی جزیات کو الفاظ میں ڈھالنے کی پیشگی مہارت ہو جائے گی۔ عطر بیز و انگبیں الفاظ کے ساتھ معطر عشقیہ خط لکھنے کا مزہ اور وہ بھی بالکل جائز طریقے سے شاذ کے طور پہ ہی میسر آتا ہے۔ اور اکثر جب مجھ سے دوبارہ خط پڑھواتے تو میری خیالی عشقیہ بلاغت کا اضافہ *تیری وے جدائی مینوں مار سٹیا* کے موضوع پہ لکھے گئے کو بہت پسند کرتے۔ اب اندازہ کریں کہ خاوند صاحب سن کر عش عش کر اٹھتے۔

اور پھر اگلا خط بھی پڑھنے اور لکھنے کو میری خدمات ہی لی جاتیں۔ واپسی خطوط میں مگر کبھی کھلے طور پہ اظہار فرقت پڑھنے کو نہیں ملا۔ ظاہر ہے وہ بے چاری بھی کسی سے لکھواتی ہوں گی ۔ مگر وائے قسمت کبھی بعد میں بھی اپنی بیگم کو خطوط فرقت لکھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ کیوں نہ آئی اس میں میری *خوش قسمتی* کا بھی دخل ہے۔ کہ جب سے شادی ہوئی۔ کبھی فرقت کی نوبت ہی نہیں آئی۔ کہ کبھی روٹھنے پہ بھی۔ میں مائیکے چلی جاؤں گی پھر دیکھتے رہیو۔ کی دھمکی کی یورپ میں دوسرے کمرے سے زیادہ دور کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح کے ایک دوست جو لاہور سے کوئی پنگا کر کے لندن بھاگے۔ لندن سے ادھار لے کرجرمنی آنکلے۔ مگر بیگم ابھی پاکستان ہی تھیں۔ جو قدرے یا پوری طرح ان سے کبیدہ بلکہ رنجیدہ خاطر تھیں۔ میں نے ان کی صلح کروانے کے لیے اپنی عشقیہ تحریری صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہوئے تعریف وتوصیف کے الفاظ وتشنگیوں کا جامہ پہنا کر ان کی فرقتوں کو دور کرنے کے لیے صرف کر دیا۔

شکر ہے کہ ان کی بیگم نے نہ صرف التفات کیا بلکہ وہ جرمنی آنے پہ رضامند بھی ہو گئیں۔ مگر اس دوست نے بعد میں بھولے سے بھی میری طرف التفات نہیں کیا اگرچہ اتفاقیہ ملاقاتیں اکثر ہوتی رہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہاں سے بھی ایک گاڑی کرائے پہ لی۔ اور رفو چکر ہو گئے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ کئی براعظموں پہ بھاگتے بھاگتے اب دنیا سے ہی بھاگ چکے ہیں۔

فضل حسین نے بھی مجھے ہی اپنی کاتبی سپرد کر دی۔ اسے پتہ نہیں کہ کیا سوجھی کہ ہمیں کہا کہ میں شادی شدہ ہوں جبکہ خطوط ہمیشہ اپنے والدین کو ہی لکھواتا۔ ایک دن کسی مہربان نے اس کو وہم ڈال دیا کہ جو تو لکھواتا ہے کسی اور سے بھی پڑھوا لیا کر۔ نہ معلوم یہ کیا کیا تم کو لکھ کر دیتا ہے اور پڑھواتے بھی اسی سے ہو۔ اس کی سادگی کہ اس نے یقین کر لیا۔ اور ایک دوست جو پڑھا ہوا تو شاید اتنا نہیں تھا مگر ہم سب میں پہنچی ہوئی شخصیت کا حامل تھا۔

اس سے میرا لکھا خط پڑھوانے لگا آفتاب صاحب بھی کہیں پاس ہی تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا۔ کہ اس نے خط پڑھنا جو شروع کیا تو خیر وعافیت پہ آ کر اٹک گیا کہ یہ کوئی مشکل سا لفظ ہے مگر چھوڑو میں آگے پڑھتا ہوں آگے بجز عافیت آ گیا کہنے لگا یار یہ بھی ویسا ہی بلکہ اس سے ملتا جلتا مشکل سا لفظ ہے۔ اس طرح اس نے خط پڑھوا کر خود کو دوستوں میں مزید ہدف استہزا بنایا۔ مگر بعد میں اسے مجھ پہ یقین آ گیا کہ میں وہی لکھتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔

ایک ایسے ہی دوست نے پاکستان میں اپنے بڑے بھائی کو خط لکھوانا شروع کیا جب بعد میں پڑھکر سنانے لگا کہ کیا لکھا ہے۔ تو السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ سن کر کہنے لگا ٹھیرو رکو رکو۔ یہ السلام علیکم تو ٹھیک ہے مگر آگے یہ و رحمتہ اللہ یہ کیا ہے میرے سمجھانے پہ بھی اس نے یہ سلام کی ملحقہ دعا کٹوا کر ہی دم لیا۔ کہ بھائی کو سلام ہی کافی ہے۔

Facebook Comments HS