جنرل فرمان علی کی ڈائری کا ایک جملہ


1971 میں مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران وہاں تعینات پاک فوج کے جنرل فرمان علی کا متنازعہ کردار بین الاقوامی طور پر زیر بحث رہا ہے۔ یہ وہی جنرل صاحب تھے جس کی ڈائری کے ایک صفحے کو بنگالی علیحدگی کا سبب پوچھنے پر توجیہہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس صفحے پر جنرل صاحب نے لکھا تھا،

”Green land of East Pakistan will be painted red۔“

اس بحران کو قابو کرنے کے لئے یہ ان کے عزم کا اعادہ تھا۔ بعد میں جو کچھ ہوا اس سے عیاں ہے کہ بنگالیوں کو مغربی پاکستان سے متنفر کرنے کے لئے جو مکتی باہنی اور بھارتی فوج نہ کر سکی وہ جنرل فرمان کی ڈائری میں درج اس جملے اور اپنے لوگوں کے خلاف اپنی فوج استعمال کرنے کے حربے نے کر دکھائے۔ مشرقی پاکستان کی سبز میدانوں میں نفرتوں کی جس فصل کی آبیاری خون کی سرخی سے ہوئی تھی وہ جلد ہی پک کر تیار ہو گئی اور بنگالی علیحدگی سے کم پر راضی نہ ہوئے۔

بحران کے ان دنوں جب پاک فوج مشرقی پاکستان میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی اور ڈھاکہ ڈوب رہا تھا تو ایک دن پشاور میں سول اور ملٹری انتظامیہ کو خبر ملتی ہے کہ صدر جنرل یحییٰ خان پشاور آ رہے ہیں۔ اسی دن ڈھاکہ کی صورت حال پر قومی اسمبلی کا سیشن بھی بلایا گیا تھا۔ انتظامیہ نے دورے کو بہت ہی حساس نوعیت کا سمجھا۔ دو ہیلی کاپٹر جنرل یحییٰ کو لے کر پشاور پہنچے اور صدر صاحب سیدھے کنٹونمنٹ چلے گئے۔ تب جاکر انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ صدر صاحب قومی اسمبلی کا اجلاس چھوڑ کر پشاور کنٹونمنٹ میں زیر تعمیر اپنے مکان کا معائنہ فرمانے آئے ہوئے ہیں۔

ہماری سرد مہریوں اور غفلتوں کی وجہ سے 1971 کا یہ بحران اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا مگر اس کا نہ ہی کبھی ایمانداری سے جائزہ لیا گیا اور ہی اس میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔ جنرل فرمان ہی کی مثال لیجیے۔ اکہتر کے بعد دباؤ کی وجہ سے انہیں فوج سے مستعفی ہونے کو کہا گیا۔ وہاں سے فارغ تو ہوئے لیکن جلد ہی فوجی فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائرکٹر لگا دیے گئے۔ پھر ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے فوجی فرٹیلائیزر کمپنی کے ڈائریکٹر بن گئے۔

وہاں تھے کہ امیرالمومنین جنرل ضیا الحق کی جوہر شناس نگاہیں ان پر آ ٹھہریں اور انہیں وزیر پٹرولیم اور مشیر برائے قومی سلامتی بنا لیا گیا۔ ہم نے ان سے مشرقی پاکستان میں ان کے کیے کا حساب نہیں مانگا۔ وہ خود ہی ایک کتاب لکھ کر اپنے تئیں اپنی ”پاک“ دامنی کی وضاحت کر کے 2004 کو فوت ہوئے اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انہیں ویسٹریج راولپنڈی میں سپرد خاک کیا گیا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے باب میں آپ کو بنگالیوں کی غداری اور بھارت کے عزائم کا ذکر ملے گا لیکن جنرل فرمان کی ڈائری کا وہ جملہ ہمارے اجتماعی اور ریاستی حافظے پر کہیں درج نہیں ہے۔ اس ملک پر جتنے بھی سانحے گزرے ہیں ان کا ذرا جائزہ لیجیے کہ ان کے بارے میں کیا ہمیں بار بار یاد دلائی جاتی ہے اور کیا ہے جو ہمارے حافظے سے کھرچ کھرچ کر مٹائی جاتی ہے۔ 6 سال پرانا آرمی اسکول پشاور حملے کی یاد آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے اور ایک برس قبل احسان اللہ احسان کے اس ٹویٹ پر کسی کا دھیان ہی نہیں گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیکورٹی فورسز سے مذاکرات کے بعد اسے حراست سے آزادی دی گئی ہے۔ یہ کسی نے نہیں سوچا کہ جسے آزاد کیا گیا وہ اسکول پر حملہ کرنے والی کالعدم تنظیم کا ترجمان رہا ہے۔

افتخار عارف نے کہا ہے،
یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی
کبھی راویان خبر زدہ پس واقعہ بھی تو دیکھتے

ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہاں صرف حادثات پیش نہیں آتے بلکہ ان سے کئی المیے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ایوان، منبر، اخبار اور اسکرین چیختے چلاتے اور نوحہ کرتے خبر زدہ راوی ہونے کا حق تو ادا کر رہے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو پس واقعہ جاکر حادثے کا جائزہ لیں اور سوالات اور اعتراضات کے ساتھ آگے آئیں۔ یہ روایات ہمارے ہاں ہے ہی نہیں۔ ہم پیش آنے والے حادثات کا جائزہ لے کر آئندہ کے لئے تدبیر کرنے کے خوگر نہیں بلکہ آنکھیں چرا کر جل تو جلا تو کا ورد کرنے والے لوگ ہیں۔

لیکن فطرت کا اصول اس سے مختلف ہے۔ کسی حادثے کا جائزہ لے کر ٹھوس قدم نہ اٹھانا مزید سانحات کے لئے در وا رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ مجرمانہ بے اعتنائی بذات خود ایک سانحہ ہوتی ہے اور اس میں مزید سانحات کے پیشگی گونج سنی جا سکتی ہے۔ انتظار حسین کی ایک کہانی میں جاوید نامی ایک کردار سقوط ڈھاکہ کے بعد سابقہ مشرقی پاکستان سے لوٹنے پر اس کا دوست ان کے تاثرات معلوم کرتا ہے اور وہ کہتا ہے، ”یار! پہلے تو مجھے لگا کہ یہاں سب کچھ بدل گیا ہے اور مجھے ایک دھچکا سا لگا۔ پھر رفتہ رفتہ مجھے لگا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور پھر مجھے ایک دھچکا اور لگا۔“

1971 اور 2014 کے سانحے اس قابل ہیں کہ ان کا ماتم کیا جائے لیکن ان کا باعث بننے والے عوامل کا جائزہ اور ان میں ملوث عناصر کا احتساب نہ ہونا اور اجتماعی حافظے پر ریاستی گرفت بھی ان سے کم سانحے نہیں ہیں۔

ہمارا وتیرہ انوکھا رہا ہے۔ پچھلے سات دہائیوں سے ہماری شعوری کوشش یہ رہی ہے کہ ہم مستقبل کے بجائے ماضی کو سنواریں۔ بے شک ہمارا حال کتنا ہی پر آشوب اور مستقبل کتنا ہی تشویش ناک کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماضی کے قرطاس کو بے داغ ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے حال اور مستقبل کو گروی رکھ کر ساری توجہ اور کوشش ماضی کو سدھارنے پر لگائی ہوئی ہیں اور اپنی غلطیوں کے تذکروں پر سفیدی چڑھا کر مصنوعی پاکیزگی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔

ہم احتساب سے کتراتے ہیں کہ کہیں ہماری نالائقی اور غفلتیں سامنے نہ آئیں۔ ہم بضد ہیں کہ ہم اپنا ماضی اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کریں گے۔ رسول حمزہ توف لکھتے ہیں، ”جب آپ اپنے ماضی کو پستول دکھائیں گے تو یہ آپ کو توپ سے اڑائے گا۔ مگر ہم نے تو اپنا ماضی توپ کے دہانے پر رکھا ہوا ہے، یہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

Facebook Comments HS