کرونا وائرس کی دوسری لہر اور اپوزیشن جماعتوں کا غیر سنجیدہ کردار
پاکستان میں ویسے تو موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے مگر سیاسی پارہ اپنی حدوں کو چھو رہا ہے پاکستان کی تاریخ میں سیاسی پارہ ہائی ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ایک جمہوری حکومت ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر آج کل جن حالات میں سیاسی پارہ ہائی ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ گزشتہ سال 2019 ء سے ایک وبائی بیماری کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ جو کہ اب تک 220 ممالک میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے اور اب تک پاکستان میں کل اب تک 445,977 افراد اس خطر ناک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور 9010 افراد اس وائرس کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور 366835 سے زیاد افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں جمہوری حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ( پی ڈی ایم) جس میں 10 سے زائد سیاسی جماعتوں نے حکومت مخالف اتحاد کیا ہوا ہے اور موجودہ حکومت کے خلاف تحریک شروع کی ہوئی ہے اور اس تحریک کے سلسلے میں ملک بھر میں جلسے کرتے پھر رہے ہیں۔ بے شک امن سے احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، مگر پاکستان کو ایک وبائی بیماری (کرونا وائرس) سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے۔ اپنے ملک کے شہریوں کا بچاؤ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا سے بچاؤ کے لیے بھیڑ میں جانے سے روکنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور عوام الناس کو کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کر رہی ہے۔
اپوزیشن جماعتیں جس کو قومی اتحاد پی ڈی ایم کا نام دیا ہوا یہ قومی اتحاد نہیں بلکہ پاکستانی عوام کی جانوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدید خطرات میں عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا کوئی قومی مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی سفاکی اور خودغرضی ہے۔ حکومت نے اپنے خود کے تمام جلسے اور تقریبات منسوخ کر دی ہے۔ 21 نومبر کو نوشہرہ میں پی ٹی آئی نے پاور شو کا فیصلہ کیا، جس سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرنا تھا لیکن کورونا کیسز کے بڑھنے پر وزیراعظم کو کابینہ نے جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا اور جلسہ ملتوی کر دیا گیا۔
اسی طرح پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی کی تقریب تھی وہ منسوخ کی گئی پھر پنجاب میں ہی گورنر ہاؤس میں تقریب تھی وہ بھی (بوجہ کرونا کیسز میں اضافہ ) منسوخ کر دی گئی۔ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے اور دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی اور مکمل کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہیں۔ مگر افسوس اپوزیشن جو جلسے جلسوں کی آڑ میں ملک میں کرونا کیسز کے اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
پشاور جلسے کے بعد واضح طور پر کرونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پشاور جلسے کے بعد ایک پارٹی کے چیرمین خود کرونا کا شکار ہو گئے اور خود کو قرنطینہ کر لیا۔ عوام کو اس اپوزیشن سے یہ توقعات تھی کی شاید اب جلسے منسوخ ہو جائے حالانکہ خود بھی کرونا کا شکار ہو گئے مگر انتہائی افسوس ہے ایسا نہیں ہوا۔ اپوزیشن اپنی سیاست کی آڑ میں عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ پھر 13 دسمبر کو لاہور میں مینار پاکستان میں جلسے کا اعلان کیا گیا اور بعض دفعہ حکومت کے منع کرنے اور عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ سابق حکمران جماعت نے لاہور میں جلسے سے پہلے ریلیاں نکالیں۔ تمام حکومتی ہدایات اور کرونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
بعد از 13 دسمبر کو لاہور میں جلسے سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ پیغام دینا کہ ماسک پہن کر جلسے میں آئیں۔ پہلے عوام الناس کی زندگیاں خطرے میں ڈال دینا اور بعد میں کہنا کہ ماسک پہن کر آئیں اگر اتنی عوام کی فکر ہے تو ذمہ دار لیڈرز ہونے کا ثبوت دیتی اور تمام جلسے جلوس کرونا کے خطرات ختم ہونے تک منسوخ کر دیتی۔ مگر عوام کی اتنی فکر ہوتی تو شاید آج اپوزیشن میں نہیں بلکہ حکومت میں ہوتی۔ پنجاب میں اپوزیشن نے دو بڑے جلسے کیے ایک ملتان اور دوسرا لاہور میں، اس بحث میں نہیں جاؤں گا کہ وہ کامیاب تھے یا نہیں یہ ایک الگ بات ہے۔
مگر پابندیوں کے باوجود جلسے ہوئے اور سیاسی کارکنان اور پولیس میں تصادم نہیں ہوا یہ ایک بہت اہم بات ہے۔ جلسہ تو پرامن طریقے سے ہو گیا جلسے میں کسی قسم کی حکومت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور نہ ہی شہر کے اندر۔ پولیس نے جلسے کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے۔ لاہور میں جلسہ ہوا پورے پنجاب اور باقی صوبوں سے لوگ جلسے میں شرکت کے لئے آئے اور کارکنان کو پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی مشکلات پیش نہ آئی نہ کوئی گرفتاریاں ہوئیں اور نہ ہی کوئی تصادم ہوا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے جلسے اور ریلیوں سے پہلے واضح کر دیا تھا جہاں قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی وہاں قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائی گی۔ تبدیلی سرکار نے پولیس کے رویوں میں بھی تبدیلی لانے میں شاید کامیاب ہو گئی ہے جو کہ خوش آئین بات ہے۔ اپوزیشن کو ان حالات میں حب الوطنی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا جو کہ نہیں کیا گیا، عوامی اور قومی مفاد میں جلسوں کو ملتوی کر کے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
اور عوام الناس کو بھی چاہیے کہ حکومت وقت کا ساتھ دیں اور اس وبائی بیماری کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر حکومتی ہدایات پر عمل کریں جیسے پہلی لہر میں عوام اور حکومت نے مل کر کرونا وائرس کو شکست دی۔ اسی طرح اس کو بھی شکست دیں آئیے مل کر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ کرونا ایس او پیز پر مکمل عمل کریں گے اور اپوزیشن جماعتیں کہتی تو ہے کہ ہم عوام کے حقوق کے لیے پی ڈی ایم کا اتحاد کیا ہے وہی آج کل کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لے اور اپوزیشن کے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنے سے گزیر کریں اپنے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے کرونا ایس او پیز پر عمل کریں اور حکومت کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کو شکست دیں۔


