کورونا کی نگرانی بذریعہ پولیس
آپ میں سے بہت سوں نے امیتابھ بچن کی فلم شہنشاہ تو ضرور دیکھی ہوگی۔ جس میں امیتابھ بچن دن میں رشوت خور پولیس افسر اور رات میں حلیہ بدل کر مسیحا کی روپ میں نظر آتا ہے۔ جب رات کے مناظر میں وہ سڑکوں پر مسیحا کے روپ میں چلتا اور ظلم کے خلاف لڑتا ہے تو بیک گراؤنڈ میں کشور کمار کی آواز میں گیت بجتا ہے۔
اندھیری راتوں میں سنسان راہوں پر
ہر ظلم مٹانے کو ایک مسیحا نکلتا ہے
جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے شہنشاہ کا کردار کراچی کا ہے اور اسے ادا پولیس کر رہی ہے۔ مجھے اس لئے ایسا لگتا ہے کہ جن سڑکوں پر پولیس کو دن میں چپ چاپ یا سست دیکھتا ہوں وہیں رات ہوتے ہی وہی اہلکار چاق و چوبند اور مستعدی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
آواری ٹاور ہوٹل چوک پر کھڑے پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ یہی گماں ہوتا ہے۔ یہاں کھڑے اہلکار کبھی بغیر اسلحہ تو کبھی بندوق تانے سامنے آ جائیں گے۔ کبھی کبھی تو ٹارچ جلا کر گاڑیوں میں جھانکتے ہوئے بھی ان کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک رات پولیس اہلکار نے جب مجھے روکا اور گاڑی میں جھانکتے ہوئے دریافت کیا کہ ”کہاں سے آرہے ہو؟“
”دفتر سے آ رہا ہوں۔“ مجھے دیکھے بغیر گاڑی کے پچھلے دروازے کے کھول کر اندر منڈی ڈال کر ناک کو سکڑ کر کچھ سونگھنے کی کوشش کرتے ہوئے پھر کہنے لگا
” اس وقت کون سا دفتر کھلا ہوتا ہے۔“
” کچھ دفتر رات میں بھی کھلے رہتے ہیں۔“ میں نے کہا۔
پوچھ گچھ کرنے والا سپاہی پچاس سال سے بڑی عمر کا اور ناتواں سا تھا۔ مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ”کیا کام کرتے ہو؟“
”صحافی ہوں!“ میں نے کہا۔
اس نے میری بات نہیں سنی یا پھر طنز کیا۔ کیونکہ اس نے بات ہی ایسی کی تھی کہ میرا تو سر ہی چکرا گیا۔
میں نے اسے کہا تھا صحافی اور وہ پوچھنے لگا ”صفائی کہاں کرتے ہو!“
میں نے کہا کہ ”میں صفائی نہیں کرتا، میں صحافی ہوں۔“
” ہاں وہی تو پوچھ رہا ہوں، کہاں صفائی کرتے ہو؟“ اس نے کہا۔
”میں پریس میں کام کرتا ہوں۔ خبروں والے ٹی وی چینل میں۔“ اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر میری بات اسے سمجھ نہیں آئی۔
” اپنا شناختی کارڈ دکھاؤ؟“ میں نے فوراً اسے کارڈ تھما دیا۔
پولیس والے نے کارڈ دیکھتے دیکھتے گاڑی میں رکھی بوتل کی طرف اشارہ کیا، ”وہ کیا ہے؟“
” پانی کی بوتل ہے۔ ؟“ میری بات پر اسے یقین نہ آیا اور اس نے بوتل کھول کر دیکھی۔ پھر اسے واپس مجھے دے دیا۔
جب پولیس اہلکار کو تسلی ہو گئی کہ گاڑی سے کچھ نہیں ملنے والا تو اس نے اپنا دھیان مجھ سے ہٹا کر دوسری گاڑیوں کی طرف مرکوز کر دیا۔ اور کہنے لگا۔ ”تم جا سکتے ہو۔“
”خیریت تو ہے نا۔ ایسی چیکنگ تو پوری عمر میں نہیں دیکھی؟“ میں نے پوچھ ہی لیا۔
” یہ وائرس ( کورونا ) اور شہر کے حالات کی وجہ سے سختی کی گئی ہے۔“ میں نے اس کی بات سن کر گاڑی آگے بڑھا دی۔
راستے میں سوچتا رہا اور خود پر ہنستا رہا کہ میں آج صحافی سے صفائی والا بن گیا۔ ویسے صحافی اور صفائی والے میں کوئی زیادہ فرق تو نہیں ہوتا۔ اس لئے پولیس اہلکار کی بات کا برا بھی نہیں لگا۔ لیکن مجھے حیرانی اس بات کی تھی کہ کورونا وائرس کی تلاش میں بے چاری پولیس ہلکان ہو رہی تھی۔ اور وائرس انہیں مل ہی نہیں رہا تھا۔
ایسا لگا کہ یہ وائرس نہیں ڈان ہے جسے چھتیس ملکوں کی پولیس ڈھونڈ رہی ہو۔ ویسے اس وائرس کے پیچھے تو پوری دنیا پڑی ہی مگر یہ کسی کے ہتھے نہیں چڑھا۔ مطلب اس کا ابھی کامیاب علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ جبکہ ویکسین تیار کرنے کے دعوے بہت کیے جا رہے ہیں۔
ہاں تو ہماری پولیس ہر کام کو سرانجام دینے میں سرگرم ہے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے میں بھی ان کا اہم کردار ہے۔ اب پولیس کی مرضی ہے کہ کس ہوٹل، دکان یا کاروباری مرکز کو کھلا رکھیں اور کس کو بند کرا دیں۔
میں کیا ہم سب ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ میں اس لئے مطمئن ہوں کہ کورونا وبا کے پہلے روز سے اب تک میرے محلے کا ہوٹل کبھی بند ہوا ہی نہیں۔ وجہ صاف ہے۔ چوبیس گھنٹے کھلے اس ہوٹل کی نگرانی پولیس اہلکاروں نے اٹھا رکھی ہے۔


