فردوس: میں تاں ہو ہو گئی قربان
دراز قامت، گدرائے بدن اور بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی فردوس جب 1961ء میں پیش کی جانے والی فلم ”گل بکاؤلی“ کے ایک چھوٹے سے کردار میں جلوہ گر ہوئیں تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی پنجابی فلموں کی عہد ساز اداکارہ بن کر ابھرے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ پنجابی فلموں کی بے تاج ملکہ بن گئی۔ فردوس سے پہلے یہ مقام مسرت نذیر کو حاصل تھا، جنھوں نے اپنے فلمی کیریئر کے عروج پر ہی فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی، اور یوں اس خالی جگہ کو فردوس نے احسن طریقے سے پورا کر دیا۔
ابتداء میں انھیں فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ملے۔ 1963ء میں پیش کی جانے والی فلم ”فانوس“ کو عام طور پر ان کی پہلی فلم سمجھا جاتا ہے، درحقیقت ”گل بکاؤلی“ ان کی پہلی فلم تھی جس میں انھوں نے پروین کے نام سے کام کیا تھا جو ان کا حقیقی نام تھا۔ ”فانوس“ میں وہ پروین سے فردوس ہو گئیں۔ نخشب کی یہ فلم تو بری طرح ناکام ہو گئی لیکن دیکھنے والوں کو فردوس کا دلکش سراپا یاد رہ گیا۔ لیکن کامیابی کی منزل ابھی دور تھی اور پھر 1964ء میں پنجابی فلم ”ملنگی“ کی فقیدالمثال کامیابی کے ساتھ فردوس کی کامیابی کے ڈنکے بھی چار دانگ عالم میں بجنے لگے۔ ہر طرف ان پر فلم بند ہوئے اور نورجہاں کے گائے ہوئے گیت ”ماہی وے ساہنوں بھل نہ جاویں“ کی صدا سنائی دینے لگی۔ اس فلم کے ہیرو اکمل تھے۔
اکمل اور فردوس کی جوڑی نہ صرف فلم بینوں میں مقبول ہو گئی بلکہ خود یہ دونوں فنکار بھی محبت کے رشتے میں بندھ گئے۔ دونوں نے کافی عرصے تک متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور بالآخر فردوس نے اکمل سے شادی کرلی جو پہلے ہی سے شادی شدہ اور کئی بچوں کے باپ تھے۔ لیکن تقدیر کو شاید یہ ساتھ منظور نہ تھا، اس خفیہ شادی کے محض سات ماہ بعد موت کے سرد ہاتھوں نے اکمل کی زندگی چھین لی۔ فردوس اس صدمے سے ڈھے گئیں، اور یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ وہ شاید فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیں گی، لیکن انھوں نے خود کو سنبھالا اور ایک بار پھر پردے پر نمودار ہو گئیں۔ وہ دوبارہ پورے جوش و خروش سے فلموں میں کام کرنے لگیں۔
اس دوران بہت سے فلمی ہیروز کے ساتھ ان کی فلمیں آئیں لیکن سب سے زیادہ وہ اعجاز کے ساتھ جچیں۔ خوبرو اعجاز ان دنوں اردو اور پنجابی دونوں فلموں کے مصروف اداکار تھے اور پاکستانی فلمی موسیقی پر بلا شرکت غیرے راج کرنے والی ملکہ ترنم نورجہاں کے چہیتے شوہر بھی تھے۔ نورجہاں اعجاز پر عاشق تھیں اور اعجاز شاید اب فردوس پر عاشق ہونے جا رہے تھے۔ ایک ساتھ کئی فلموں میں گہرے رومانوی کردار ادا کرنے کی وجہ سے فردوس اور اعجاز ایک دوسرے کے قریب آچکے تھے اور یہ قربت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ فلمی حلقوں میں اور اس زمانے کے پریس میں یہ خبریں عام تھیں اور نورجہاں بھی اس سے بے خبر نہ تھیں۔ ان کے تعلقات اپنے شوہر کے ساتھ بگڑنے لگے اور نوبت طلاق تک آ گئی۔ وہ اس سارے بگاڑ کی ذمہ دار فردوس کو گردانتی تھیں۔ انھوں نے ٹھان لیا کہ وہ فردوس کو سبق سکھا کر دم لیں گی۔
نورجہاں نے اعلان کر دیا کہ جس فلم کی ہیروئن فردوس ہوں گی وہ اس فلم کے گیت نہیں گائیں گی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ نورجہاں فلموں، خصوصاً پنجابی فلموں کی موسیقی کی ضرورت بن چکی تھیں۔ ان کی آواز کے بغیر پنجابی فلموں کی موسیقی کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ اپنی اس حیثیت سے خوب واقف تھیں۔ انھوں نے اس کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور جن جن فلموں میں فردوس بحیثیت ہیروئن کام کر رہی تھیں، نورجہاں نے ان فلموں کے گیت گانے سے انکار کر دیا۔
نورجہاں کے گیتوں پر رقص کر کے ہی فردوس کو فلموں میں کامیابی ملی تھی۔ اب جب یہ آواز ہی ان سے چھن گئی تو فردوس کے مقام کو زبردست جھٹکا لگا۔ لیکن فردوس بے حد حسین تھیں، جوان تھیں اور فلمساز اب بھی انھیں فلموں میں لینا چاہتے تھے۔ لیکن جن فلموں میں نورجہاں کے گیت نہیں ہوتے تھے وہ فلمیں شاذ و نادر ہی کامیاب ہوتی تھیں۔ اس کا حل بعض فلمسازوں نے یہ نکالا کہ فردوس پر دوسری گلوکاراؤں، مثلاً تصور خانم یا رونا لیلیٰ وغیرہ کے گائے گیت فلم بند کرنے لگے اور نورجہاں کے گیت فلم کی سائیڈ ہیروئن یا رقاصاؤں پر فلم بند کیے جانے لگے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی گیت مقبول ہوتے یا فلم کو کامیابی دلاتے جو نورجہاں نے گائے ہوتے تھے، اس کی ایک مثال فلم ”ضدی“ ہے جو 1973ء میں پیش کی گئی۔ اس فلم میں، فلم کی ہیروئن فردوس پر تین گیت فلم بند ہوئے جو رونا لیلیٰ اور نیرہ نور کی آواز میں تھے۔ جبکہ سائیڈ ہیروئن اور ایکسٹراز پر چار گیت فلمائے گئے جو نورجہاں کی آواز میں تھے۔ یہی چاروں گیت فلم کی کامیابی کی وجہ بنے، اور آج تک روز اول کی طرح مشہور ہیں۔ رونا لیلیٰ اور نیرہ نور کے گیت گمنامی کا شکار ہو گئے۔ یہ گمنامی اب فردوس کی طرف بھی بڑھنے لگی۔ ان کی فلموں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہونے لگی اور ہوتے ہوتے ان کو فلمیں ملنا بند ہو گئیں۔ نورجہاں نے فردوس کے لیے گیت نہ دینے کا فیصلہ برقرار رکھا، البتہ ایک موقع ایسا آیا کہ انھیں اپنے فیصلے سے عارضی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب کی لوک رومانوی داستانوں پر بنائی جانے والی اکثر فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کے کردار اعجاز اور فردوس کے حصے میں آئے۔ اس سلسلے کی پہلی فلم ”مرزا جٹ“ تھی جو 1967ء میں پیش کی گئی۔ اعجاز اور فردوس شاید فلم بینوں کوسچ مچ کے مرزا صاحباں لگے ہوں گے کہ اس فلم نے بے حد کامیابی حاصل کی۔ فلم کو چار چاند لگانے کے لیے مسعود پرویز کی ہدایات اور رشید عطرے کی لازوال موسیقی بھی تھی جسے نورجہاں نے اپنی سنہری آواز دی تھی۔ یہ فلم اس کہانی پر بننے والی فلموں میں آج بھی سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔
فردوس اور اعجاز کی جوڑی اگلی بار سہتی اور مراد بلوچ کی رومانوی داستان میں نظر آئی۔ فلم ”مراد بلوچ“ بھی اپنے مدھر گیتوں اور فردوس اور اعجاز کی خوبصورت اداکاری اور نورجہاں کے گیتوں کی بدولت یادگار ٹھہری۔ اعجاز جو اس فلم کے نہ صرف ہیرو تھے بلکہ فلمساز بھی تھے، یہ فلم سینما میں دیکھنے کے لیے گئے۔ فلم میں ضمناً ہیر اور رانجھا کے کردار بھی شامل تھے جو دوسرے اداکاروں نے ادا کیے تھے اور ان پر ایک گیت بھی فلمایا گیا تھا، جوں ہی وہ کردار اسکرین پر نظر آئے سینما ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اعجاز فوراً اٹھ کر کھڑے ہو گئے، ان کی سمجھ میں آ گیا کہ فلم کے موضوع چننے میں ان سے چوک ہو گئی ہے۔ فلم تو دراصل ہیر اور رانجھا پر بنانی چاہیے تھی کہ یہ لازوال کردار پنجاب کے ہر باشندے کے دل میں بستے ہیں۔ انھوں نے واپس آ کر ”ہیر رانجھا“ بنانے کا اشتہار اخبار میں دے دیا۔
”ہیر رانجھا“ بنانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ رانجھا کے کردار میں اعجاز خود ہیرو تھے اور ہیر کا کردار فردوس کے سوا بھلا کسے دیا جا سکتا تھا کہ جو مجسم ہیر تھی۔ خود وارث شاہ بھی اگر اسے اس کردار میں دیکھ لیتے تو کہہ اٹھتے جسے میرے تخیل نے سوچا تھا تم تو اس سے بڑھ کر ہو۔ اگرچہ چند سال پہلے 1965ء میں ہیر رانجھا کی کہانی پر مبنی فلم ”ہیر سیال“ بن چکی تھی جس میں ہیر کا کردار فردوس اور رانجھا کا کردار اکمل نے کیا تھا، لیکن وہ بلیک اینڈ وائٹ فلم اپنی کمزور ہدایت کاری کی بدولت ناکام رہی تھی۔ اعجاز نے اسی کہانی کو رنگین بنانے کا فیصلہ کیا۔
ہدایت کار مسعود پرویز تھے اور موسیقی کے شعبے میں خواجہ خورشید انور جیسا بڑا نام موجود تھا۔ خواجہ صاحب عام طور پر پنجابی فلموں کی موسیقی نہیں دیتے تھے، لیکن احمد راہی کے کہنے پر وہ راضی ہو گئے۔ خورشید انور نے اس فلم کے لیے بے مثال دھنیں بنائیں۔ ایسی دھنوں جنھیں صرف نورجہاں کی آواز ہی جچتی تھی۔ لیکن اس وقت تک فردوس کی وجہ سے اعجاز اور نورجہاں کی طلاق ہو چکی تھی اور نورجہاں فردوس کے لیے گیت دینا بند کرچکی تھیں۔ مجبوراً خواجہ خورشید انور نے گلوکارہ مالا کو گیتوں کی ریہرسل کے لیے بلایا۔ کہتے ہیں مالا نے فلم کے سب سے مشہور گیت ”سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے“ کی جب ریہرسل شروع کی تو خورشید انور سخت مایوس ہوئے اور انہوں نے کہا یہ گیت نورجہاں کے لیے بنایا گیا ہے، اب نورجہاں کو کون لائے؟
کہتے ہیں کسی نے خورشید انور کے یہ الفاظ اسی شام نورجہاں کو جا کر بتا دیے۔ نورجہاں جذباتی اور انا کی ماری ضرور تھیں لیکن جہاں دیدہ خاتون بھی تھیں اور فن کی پرکھ خوب جانتیں تھیں۔ انھیں خورشید انور کے مقام اور مرتبے کا خوب اندازہ تھا۔ خورشید انور کے الفاظ شاید نورجہاں کے لیے فخر کا سبب رہے ہوں گے کہ انھوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس پر سب حیران رہ گئے۔ وہ دوسرے دن اس ہال میں جا پہنچیں جہاں خورشید انور مالا کو ”سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے“ کی ریہرسل کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفید جھلملاتی ساڑھی میں ملبوس نورجہاں نے ہال میں قدم رکھتے ہی ماتھے تک ہاتھ اٹھا کر خورشید انور کو سلام کیا اور مالا کو ابرو سے اشارہ کیا کہ بس اب تم چلتی بنو۔ ہیر رانجھا کے گیت میں گاؤں گی۔ اور پھر انھوں نے اپنی انا کو پس پشت ڈال کر ایک بار پھر فردوس کے لیے گیت گائے۔ اور ایسے گائے کہ وہ گیت فلمی موسیقی کی تاریخ میں امر ہو گئے۔ یہی نہیں بلکہ ان گیتوں سے جڑی ہر شے ہی بے مثال بن گئی، ان کو گانے والی آواز، دھنیں بنانے والا موسیقار، لکھنے والا شاعر، وہ فلم جس کے لیے یہ گیت ریکارڈ ہوئے اور وہ اداکارہ جس پر یہ گیت فلمائے گئے۔ یہ فردوس کی خوش بختی تھی کہ نورجہاں نے یہ گیت گا دیے۔
ذرا ان گیتوں کو نورجہاں کے علاوہ کسی اور کی آواز میں سن کر دیکھیے، آپ جان جائیں گے کہ دنیا نورجہاں کو ملکہ ترنم کیوں کہتی ہے۔ فردوس پر ہیر کا کردار ایسا جچا کہ لوگ ساری زندگی انھیں اسی ایک کردار کے حوالے سے یاد کرتے رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں پنجاب کی جٹی تھیں۔ پنجاب کی الہڑ مٹیار کا کردار انھوں نے بار بار ادا کیا اور اس میں خوب جچیں۔
اعجاز کے ساتھ بھی ان کی رفاقت زیادہ نہ چل سکی۔ کہتے ہیں کہ دونوں نے شادی کرلی تھی اگر ایسا تھا بھی تو یہ شادی کبھی منظر عام پر نہ آسکی۔ دونوں کے راستے الگ ہوچکے تھے اس لیے فردوس نے اس زمانے کے مشہور فلمساز اور تقسیم کار نذیر حسین کے ساتھ گھر بسا لیا۔ 1976 میں انھوں نے فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی، اگرچہ آٹھ سال کے وقفے کے بعد وہ دوبارہ فلموں میں واپس آئیں اور چند فلموں میں کام کیا لیکن دوبارہ وہ رنگ نہ جم سکا۔ آخر کار وہ ہمیشہ کے لیے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ گئیں اور گھر داری میں مصروف ہو گئیں۔ انھوں نے 160 سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں اردو پنجابی اور چند ایک پشتو فلمیں بھی شامل ہیں۔
جہاں تک فن اداکاری کا تعلق ہے فردوس نے اس میں اہم سنگ میل طے کیے اور بعض فلموں میں اداکاری کے یادگار نقوش چھوڑے مثلاً 1966 کی فلم ”جاگ اٹھا انسان“ جس میں انھوں نے ایک ہندو بیوہ لڑکی کا کردار نبھایا، 1967ء کی فلم ”انسانیت“ جس میں انھوں نے ایک پاگل لڑکی کا کردار ادا کیا، 1968ء کی فلم ”چن ویر“ (جس پر انھیں خصوصی ایوارڈ دیا گیا)، اسی طرح ”لہو پکارے گا“، ”بیٹی بیٹا“، ”مے خانہ“ اور 1969ء کی نغمہ بار فلم ”دلاں دے سودے“ اور 1970ء میں پیش کی جانے والی ان کی سب سے یادگار فلم ”ہیر رانجھا“ ۔
وہ لاہور کے مہنگے علاقے گلبرگ میں رہتی تھیں اور دوسری پرانی اداکارؤں کی بہ نسبت اچھے حالوں میں تھیں۔ اپنے عروج کے زمانے میں وہ لاہور میں ایک مارکیٹ کی مالک تھیں، فردوس مارکیٹ کے نام سے یہ مارکیٹ آج بھی لاہور کے مہنگے کاروباری مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
فردوس کا جنم 4 اگست 1946ء کو لاہور میں ہوا تھا اور 16 دسمبر 2020ء کو لاہور ہی کے ایک ہسپتال میں انھوں نے زندگی کی آخری سانسیں لیں جہاں انھیں چند دن پیشتر دماغی شریان پھٹ جانے کے باعث داخل کیا گیا تھا۔ پرانی پاکستانی فلموں کے شائقین کے لیے فردوس ایک حسین یاد تھیں اور یہ یاد ہمیشہ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں قائم رہے گی۔
https://www.youtube.com/watch?v=Qdl9zXCsFXM












