سیاسی جلسوں میں شرکا کی حتمی تعداد کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز گیارہ سیاسی جماعتوں نے مینار پاکستان کے سائے تلے ایک جلسہ منعقد کیا، اس حکومت مخالف جلسے میں کئی سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل ہوئے، پی ڈی ایم کے قائدین کی طرف سے جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد کے شامل ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی، دوران جلسہ حکومت پر سخت تنقید کی گئی کچھ بیانات دہرائے گئے، کچھ باتیں نئے پیرائے میں کی گئیں کچھ دھمکیاں دی گئیں نیز مستقبل قریب میں حکومت کے مستعفی ہونے کی نوید بھی سنائی گئی، لیکن میں جس مخمصے کا شکار ہوں وہ یہ ہے کہ ”کتنے آدمی تھے“ مختلف ٹی وی چیلنلز کی طرف سے جلسے میں شرکا کی تعداد مختلف بتائی گئیں، پی ڈی ایم والے جلسے کو کامیاب کہہ رہے ہیں جبکہ حکومتی ترجمان جلسے کو ناکام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کچھ لوگوں کے ذاتی موبائل سے بنائی گئے ویڈیو کلپس بھی جلسے میں شامل شرکا کی تعداد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔

سوشل و الیکڑنک میڈیا پر، بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں ہر شخص صرف اپنی کہی ہوئی بات کو سچ تسلیم کر رہا ہے۔ سچ کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے، شور اتنا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دی رہی، کنفیوژن بڑھتی جا رہی ہے لیکن تا دم تحریر اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ ”کتنے آدمی تھے“ جھوٹ اور سچ گڈمڈ ہو گئے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا کہ کس کی کہی ہوئی بات پر یقین کریں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں ہر سیاسی جلسے میں شامل شرکا کی تعداد پر کبھی اتفاق نہیں ہوا۔

جس کی وجہ سے عام آدمی شرکا کی تعداد پر ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی ایسا نظام واضح کر لیا جائے جس کے تحت شرکا کی حتمی تعداد معلوم ہو سکے، تاکہ مجھ سے جیسے لوگ کنفیوژن کا شکار نہ ہوں نیز حکومت اوراپوزیشن کے ترجمانوں کو متضاد بیانات دینے کی زحمت بھی نہ اٹھانی پڑی، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو کوئی نظام واضح کرنا چاہیے، جس طرح الیکشن میں ووٹوں کی حتمی تعداد بتائی جاتی ہے اگر الیکشن کمیشن ہر جلسے کے بعد شرکا کی حتمی تعداد کا اعلان کردے تو لاکھوں ناظرین ٹی وی ٹاک شوز میں جلسے کی کامیابی اور ناکامی پر ہونے والی لا حاصل بحث سننے سے بچ جائیں گے، نیز اس عمل سے وہ سیاسی تحریکیں بھی اپنی موت آپ مر جائیں گی جن کو عوامی حمایت سے عاری ہوتی ہیں لیکن ان تحریکوں کے قائدین نے اپنی چرب زبانی کی بدولت میڈیا پرایک طوفان برپا کیا ہوتا ہے۔

بالفرض اگر کوئی سیاسی تحریک عوامی مقبولیت رکھتی ہے تو جلسے میں شرکا کی تعداد کا حتمی علم ہونے کے بعد حکومت وقت کے پاس ہوش کے ناخن لینے کے لیے مناسب وقت ہوگا۔ لیکن یقیناً یہ ایک دیوانے کا خواب ہے، سیاست کا میدان ابھی اتنا اجلا اور شفاف نہیں ہوا کہ سیاسی جماعتیں اپنے جلسوں میں شرکا کی درست تعداد بتائیں، آج کل جلسے شام کو منعقد ہو رہے ہیں سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے ہاتھوں میں پرچم تھما دیتی ہیں، برقی قمقموں کی روشنی سے آنکھیں چندھا جاتی ہیں، کیمرے کی آنکھ لہراتے ہوئے پرچم ہی دیکھ پاتی ہے، رات کے اندھیرے میں ٹھیک سے معلوم نہیں ہوتا کہ جلسے میں کتنے شرکا ہیں، اگر جلسے دن کی روشنی میں ہوں تو شرکا کی حتمی تعداد کا آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر دن کی روشنی میں جلسہ منعقد ہوا اورشرکا کی تعداد کم ہوئی تو پارٹی کی مقبولیت پر کاری ضرب لگ سکتی ہے، کیوں کہ سیاسی جماعتوں کو مقبول بنانے میں بہر حال ایک حصہ سوشل، الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کا بھی جو عوام کی رائے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •