کوٹ کا ناپ اور درزی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال ایک دوست نے بڑی محبت سے گرم سوٹ کا کپڑا تحفتاٰ بھجوا دیا۔ امپورٹڈ کپڑا تھا، میڈ ان اٹلی۔ خوشی خوشی سلوانے درزی کے پاس جا پہنچا۔ کئی سالوں سے کوئی نیا سوٹ نہیں سلوایا تھا، اس لیے درزی کے بھاؤ کا پتہ نہیں تھا۔ سوٹ کی سلوائی سن کر دماغ چکرا گیا۔ اوپر سے درزی کا طعنہ ”ڈاکٹر صاحب یہ سلوائی آپ کی ایک آپریشن فیس سے بھی کم ہے“ ۔ دل میں خیال آیا ڈاکٹر کی بجائے درزی ہی بن جاتے تو بہتر ہوتا۔

ناپ دینے کا وقت آیا تو ایسے لگا جیسے میں بکرا ہوں اور قربان گاہ کی طرف لایا جا رہا ہو۔ پہلے تو موصوف نے پتلون کے علاوہ میرے سارے کپڑے اور جوتے تک اتروا دیے۔ ایسا سلوک اس سے پہلے باہر جاتے ہوئے امیگریشن حکام سے کئی بار کروا چکے تھے۔ پھر ہمیں ہاتھ اوپر اٹھانے کو کہا گیا جیسے کوئی فوجی شکست کے بعد اپنے آپ کو سرینڈر کرتا ہے۔ دائیں جانب، بائیں جانب، آگے اور پیچھے مڑنے کو کہا گیا۔ لمبے سانس لے کر چھاتی پھیلائی گئی جو کوئی زیادہ نہیں پھیلی۔ زور سے چھاتی پھیلانے کی کوشش میں کھانسی کا دورہ اٹھا جو کافی دیر میں ٹھیک ہوا۔

پتلون کا ناپ تو اتنی بے شرمی سے لیا کہ ماتھے تک پسینہ آ گیا۔ ایسی ایسی جگہوں پر اتنی پھرتی سے ہاتھ لگایا کہ شرم سے میرا چہرہ سرخ ہو گیا۔ پتہ نہیں ان خواتین کے کیا جذبات ہوتے ہوں گے جو ان درزیوں سے کپڑے سلواتی ہیں اور اپنا ناپ سن کر درزی سے لڑ پڑتی ہیں یا نہیں۔

سوٹ سل کر آیا تو سانس کوٹ کے اندر جیسے اٹک کر رہ گیا۔ چھاتی میں بلغم کی شکایت تھی، ڈاکٹر نے ٹوٹی سینے پر رکھ کر لمبا سانس لینے کو بولا۔ سانس لینے لگا تو سانس اندر ہی پھنس کر رہ گیا۔ اگر پورا سانس لے لیتا تو بغل سے کوٹ ادھڑ جاتا۔ کوٹ اتار کر ایک طرف رکھا اور ڈاکٹر کو مکمل چیک اپ کا موقع فراہم کیا۔ ڈاکٹر نے صاف لفظوں میں متنبہ کیا کہ کھانسی کرتے وقت کوٹ اتار دیا کریں۔ کوٹ کے ساتھ کھانسی نہیں کرنی۔ کوٹ کا بازو اتنا سمارٹ تھا کہ کھانے کا نوالہ منہ تک لے جاتے ہوئے کوٹ کے ساتھ کشتی لڑنی پڑتی۔ اللہ بھلا کرے، ریڈی میڈ کمپنیوں کا، درزیوں کی بک بک سے جان چھوٹ گئی ہے۔

کوٹ، پتلون اور انگریزی دور غلامی کی یادگاریں ہیں۔ انگریز چلا گیا مگر اپنے پیچھے یہ خرافات چھوڑ گیا۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب جون کے مہینے میں آپ کسی افسر کو کوٹ پتلون اور ٹائی مکین ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے افسری کا رعب جھاڑتے دیکھتے ہیں۔ آپ کی حیرت اس وقت خوب بڑھ جاتی ہے جب بجلی چلی جاتی ہے اور بجلی جون میں ضرور جاتی ہے۔ پہلے پہل صاحب کی ٹائی کی گرہ ڈھیلی اور کالر کا بٹن کھلتا ہے پھر کوٹ اتار کر کرسی سے ٹانگنا پڑتا ہے۔ بجلی تھوڑی دیر مزید نہ آئے تو صاحب کا دل کر رہا ہوتا ہے کہ پتلون بھی اتار کر دھوتی پہن لیں۔ دھوتی کا خوش کن خیال بھی پرانے افسروں کے دماغ کو فرحت بخشتا ہے۔ موجودہ دور کے افسر تو اتنے بد۔ نصیب ہیں کہ دھوتی ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتی۔

دھوتی برصغیر کی ثقافت کا ایک ضروری جزو ہے۔ یہ صدیوں سے اس خطے میں مستعمل ہے اور یہاں کی آب و ہوا اور مزاج سے لگا کھاتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کی سلی سلائی یا بنی بنائی مل جاتی ہے اور ٹیلر کو ناپ نہیں دینا پڑتا۔ کمزور سے کمزور اور موٹے انسان کے لیے ایک ہی سائز کی دھوتی چل جاتی ہے۔ مرد کی دھوتی عورت بھی پہن سکتی ہے، یوں دھوتی جینڈر ایشو کو خاطر میں نہیں لاتی اور مردوزن میں برابری کا درس دیتی ہے۔ دھوتی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ رات کو سردی لگے تو اتار کر اوپر بھی لی جا سکتی ہے۔ اس طرح کی حرکت پتلون کے ساتھ ناممکن ہوتی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم انگریز کے غلام رہے ہیں اور ذہنی طور پر ابھی غلام ہی ہیں، اس لیے کوٹ پتلون کو فخر اور بڑائی کی علامت سمجھتے ہیں۔ چرچل اور بڑے بڑے انگریز پتلون پہنتے تھے، حالانکہ وہ اب ہمارے ہیرو نہیں۔ ہمارے یعنی پنجاب کے ہیرو ہیر رانجھا دھوتی پہنتے تھے۔ ہیر نے رانجھے کے ساتھ سارا عشق دھوتی پہن کر کیا۔ پنجابی فلموں کے تمام ہیرو اور ہیروئنیں دھوتی پہن کر مکئی کے کھیت میں ناچتی ہیں اور گانے گاتی ہیں۔ اگر پتلون پہن کر ناچیں تو ناچتے ہوئے پتلون پھٹ بھی سکتی ہے۔ یوں دھوتی پیار کی علامت ہے اور یہ پیار دن بدن ختم ہوتا جا رہا ہے۔

مجھے حیرت البتہ اس بات پر ہوتی ہے جب پتلون کوٹ کو غیر شرعی قرار دیا جاتا ہے۔ میں نے ایک صاحب علم سے پوچھا ”شرعی لباس کون سا ہوتا ہے“ ؟ فرمایا ”شلوار قمیص“ شلوار کی تو عمر ایک صدی سے کم ہی ہوگی اور کسی عربی نے شاید ہی کبھی شلوار پہنی ہو۔ پاکستان میں کچھ لوگوں کی اسلامی اجارہ داری ہے۔ جب چاہیں کسی بھی عمل کو غیر شرعی قرار دے کر آپ کو مصیبت میں ڈال سکتے ہیں۔ میں اس طرح کے شرعی اجارہ داروں سے بہت ڈرتا ہوں اس لیے یہ بحث تمام کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •