برطانوی جمہوری معاشرے کے خدو خال


ضمیر جعفری نے ” جمہوریت کی ماں “برطانیہ کا ایک سفر نامہ لکھا۔ کرونا اسیری میں یہ کتاب” سورج میرے پیچھے“ دوبارہ ہاتھ آ گئی۔ جی چاہا کہ اپنے کالم میں ایک جمہوری معاشرے کے خدو خال بیان کر دوں۔ یہ کافروں کی بنائی ہوئی اس دنیا میں جنت ہے۔ اس کتاب میں سے پانچ اقتباسات، ان میں قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے تفکر کرنے والوں کیلئے بہت کچھ موجود ہے۔

فرانس نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ برطانیہ کی تقریباً تین لاکھ فوج نارمنڈی میں ایک خطرناک صورتحال سے دوچار تھی۔ اگر اسے واپس برطانیہ نہ لایا جا سکتا تو اس کا بیشتر حصہ تباہ ہو جانا یقینی تھا۔ امکان تھا کہ جرمن انہیں سمندر میں دھکیل دیں گے جہاں ان کی موت یقینی تھی۔ برطانیہ کیلئے اتنے کم وقت میں تمام فوج کا انخلا ممکن نہ تھا۔ یہ کام اور وقت کا سوال تھا۔ ادھر برطانیہ میں ان فوجوں کا سربراہ فیلڈ مارشل سر جان ڈل اپنے دفتر میں بیٹھا انخلا کی ترجیحات کے احکامات لکھوا رہا تھا کہ کون سے پلٹن پہلے اور کون سی پلٹن بعد میں نکلوائی جائے۔ فہرست ختم ہوئی تو بوڑھا فیلڈ مارشل چکرا کر فرش پر جا پڑا۔ وہ بیہوش ہو گیا تو اک شور مچ گیا۔ برطانوی وزیر اعظم چرچل بھی وہاں پہنچ گئے کہ ان کا دفتر ساتھ ہی تھا۔ معلوم ہوا کہ فہرست کی آخری پلٹن میں فیلڈ مارشل کا اکلوتا بیٹا سیکنڈ لیفٹیننٹ بھی شامل تھا۔ فیلڈ مارشل کو خوب معلوم تھا کہ اس پلٹن کے انخلا کا کوئی امکان نہیں۔ وہ نوجوان لیفٹیننٹ ڈنکر ک کی دلدلوں میں مارا گیا۔ فیلڈ مارشل اگر چاہتا تو اس پلٹن کو انخلا کی ترتیب میں اول نمبر پر لکھ لیتا، اس کا ہاتھ روکنے والا کون تھا؟ لیکن وہ اپنے ضمیر کے سامنے بھی جوابدہ تھا۔ اس کے نزدیک قومی مفاد ذاتی مفاد سے اہم تھا۔ فیلڈ مارشل نے اپنا فرض پورا ادا کر دیا۔ اب ”باپ “اپنے حواس قائم نہ رکھ سکا تھااور وہ فرط غم سے بیہوش ہو گیا۔

Field Marshal Sir John Greer Dill

سنگا پور میں کوئی ایک لاکھ فوج نے جاپانیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس محاذ کا انگریز کمان دار جنرل پرسی ویل ایک کمزور جرنیل سمجھا جاتا تھا۔ ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں جاپانیوں نے جنرل پرسی ویل کو ایک دستاویز پر دستخط کرنے کا حکم دیا۔ یہ دستاویز انگریز سپہ سالار کی طرف سے اپنے قیدی سپاہیوں کے نام ہدایت نامہ تھا کہ وہ دشمن کی قید میں کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ ان ہدایات میں ایک شق یہ بھی تھی کہ وہ فرار ہونے کی کوشش نہیں کریں گے۔ جنرل پرسی ویل خود ایک قیدی تھا۔ اس کی اپنی زندگی خطرے میں تھی۔ لیکن اس نے اس دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے سپاہیوں کو ایسا حکم کیسے دے سکتا ہوں، میں تو اپنے سپاہیوں کو یہ حکم دونگا کہ اگر انہیں دشمن کی قید سے فرار ہونے کا کوئی موقع ہاتھ آئے تو وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

جب فاک لینڈ کا بحران پیدا ہوا تو ذہین فطین برطانوی وزیر خارجہ لارڈ کیرنگٹن نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اسے لاکھ مناتی رہی۔ اپوزیشن نے بھی اسے مستعفی ہونے سے روکا۔ مگر اس کا جواب تھا۔ ”میں اپنے ضمیر کے سامنے بھی تو جوابدہ ہوں“۔

”سر !کیا آپ کبھی انڈیا میں رہے ہیں“؟ میرا قیاس درست نکلا۔ یہ سر پرسی تھے، پنجاب کے ایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس۔ ”سر“ اپنی گردن تو ذرا دیر سے اٹھا سکے (ٹُن تھے) مگر جواب ترت دیا۔ ”زندگی کا بہترین حصہ پنجاب میں گزرا”۔ پھر وہ اپنے زمانے کی پولیس کا ذکر لے بیٹھے۔ ”میرے زمانے کی پنجاب پولیس لندن پولیس سے بدرجہا بہتر تھی”۔ ”وہ کیسے”؟ میں نے تعجب سے پوچھا۔ ہم تو لندن کی پولیس کو مثالی سمجھ رہے تھے۔ سر پرسی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بولے۔ ”میرے دوست، لندن کی پولیس خدمات کی پولیس نہیں، مطالبات کی پولیس ہے۔ کوپ (سپاہی) کو ایک کام بتاﺅ اور دس مطالبات کی فہرست سن لو۔ اس وقت آدھی نفری زنا بالجبر کی وارداتوں میں ماخوذ ہے”۔

General Percival

بریڈ فورڈ میں ہمارے بیشمار ماموں زادگان اور خالو زادگان وغیر ہ کا ایک خاصا بڑا جھرمٹ آباد ہے۔ ان میں سے اکثر افراد سوشل ویلفیئر کے وظیفے پر خاصی آسودہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کچھ آمدنی اوپر نیچے سے بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ یورپ کی حکومتوں نے یہ نکتہ خوب سمجھ لیا ہے۔ ” جو معاشرہ اپنے غریبوں کو نہیں بچا سکتا، وہ اپنے امیروں کو بھی نہیں بچا سکتا“۔

”کرین فورڈ“ کی لائبریری قریب تھی۔ دن کو وہاں سے ہو آئے۔ اخبار میں ایک خبر تھی کہ ”پنسلو کونسل”کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ایک بوڑھے انگریز فوجی میجر نے کونسل کے ممبروں کو جب اس بات پر شرم دلائی کہ او بے غیرتو ! اس بستی کے ساڑھے چھ سو نوجوانوں نے دوسری عالمی جنگ میں دنیا کے مختلف محاذوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ اس لئے پیش کر دیا تاکہ تم زندہ رہو۔ تاکہ برطانیہ زندہ رہے۔ مگر تم اب تک اپنے کسی چوک میں اپنے شہدا کی ایک معمولی کی یادگار بھی تعمیر نہیں کر سکے۔ میجر صاحب چند نوجوان شہدا اور ان کی نوجوان بیواﺅں کی تصویریں بھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ ان میں ایک اٹھارہ برس کی دوشیزہ باوردی نرس کا انلارج فوٹو بھی تھا۔ جو حسن و جمال میں شہزادیوں کو مات کرتی تھی اور جس نے یونان کے جزیرہ کریٹ میں ایک مرے ہوئے خوبصورت کپتان کے سینے سے لگ کر جام شہادت نوش کیا تھا۔ میجر صاحب زیادہ تر اس کافر جمالہ کی تصویر ہلا ہلا کر لوگوں کی رگوں میں غیرت کے خون گرمانے کی کوشش کرتے رہے۔ برطانیہ میں فوجیوں کے اعزاز و جلال کی کئی کہانیاں ہم نے بہت سن رکھی تھیں مگر اس خبر کے حوالے سے کونسل کے ممبروں کے ردعمل پر تو ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ ایک ممبر نے میجر صاحب کی تقریر کے درمیان ٹوک کر کہا۔ ”بس بس۔ ۔ ۔ زیادہ ٹرانے کی ضرورت نہیں۔ میجر صاحب۔ ۔ ۔ ہمیں جنگ کی نہیں امن کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے علاقہ کی حدود میں جنگ کی کوئی یادگار قائم نہ ہونے دیں گے۔ ہمیں مرنے کیلئے قبر نہیں ملتی۔ تم ان کے مقبرے بنوا رہے ہو۔ ایک دوسرا ممبر گرجتے ہوئے بولا۔ ”کان کھول کر سن لو میجر جی۔۔۔ جب تک ہم فوجیوں کو اپنا ہیرو بناتے رہیں گے، چوکوں میں ان کے مجسمے کھڑے کرتے رہیں گے اور جب تک دنیا میں افواج قائمہ (Standing Armies) قائم ہیں، دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ نہ نہ میجر صاحب! چوہا لنڈورا ہی بھلا”۔

Facebook Comments HS