موجودہ سینٹ ترمیم اور گزشتہ آرمی ایکٹ ترمیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سوشل اور جنرل میڈیا پر ایک اودھم مچا ہوا ہے۔ دونوں جانب سے اپنے اپنے دھمکی آمیز دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت بضد ہے کہ ہر حال میں سینٹ الیکشن وقت سے پہلے کرائے جائیں گے اور کہتی ہے کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جب حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کی بات کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ حکومت ایک بار پھر آرمی چیف کے مدت ملازمت میں توسیع کے مسئلے کی طرح اس قضیے کو بھی سپریم کورٹ لے جانا چاہتی ہے اور ظاہر ہے سپریم کورٹ نے وہی کہنا ہے جو اس وقت کہا تھا کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا ہے۔

یہ مسئلہ آئین میں ترمیم سے حل ہو سکتا ہے اور سپریم کورٹ کو قانون کی تشریح کرنے کا اختیار حاصل ہے نہ کہ آئین میں ترمیم یا ردو بدل کا۔ پھر ظاہر ہے اگر پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ جاتا یے تو حکومت کے پاس آئین میں ترمیم کی وہ اکثریت نہیں ہے جو درکار ہے یعنی دو تہائی اکثریت کی۔ تو پھر حکومت کے پاس کیا لائحہ عمل ہے اور اپوزیشن کے پاس کون سا راستہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سینٹ الیکشن کا شیڈول الیکشن کمیشن نے دینا ہے، یہ اختیار حکومت کا نہیں کہ وہ سینٹ کے الیکشن کی تاریخ کو مقررہ وقت سے آگے پیچھے کر سکے، جیسا کہ اوپر میں لکھ چکا ہوں کہ پھر جو کچھ ہوگا پارلیمنٹ کے اکھاڑے میں ہوگا۔

گزشتہ ترمیم میں تو اپوزیشن کے دونوں بڑی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا تھا جس کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ نواز شریف ڈیل کر کے خود کو میڈیکل گراؤنڈ پر بیل آؤٹ کرا کے علاج کے بہانے لندن جا بسے اور تا حال واپس نہ آنے کا پکا ارادہ کر چکے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کی اپیلیں ان کی غیر موجودگی (ان ابسینشیا) میں چل جائے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اس ڈیل میں مریم صفدر کا لندن جانا بھی شامل تھا لیکن حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا جانا عمل میں نہیں لایا جا سکا، جس کے نتیجے میں نواز شریف نے لندن میں ایک مرتبہ پھر سول اور ملٹری بیوروکریسی کے خلاف بیانات دیے۔

جس کا پلیٹ فارم انھوں نے جلسوں میں ویڈیو کانفرسسز کا کیا۔ اب جو بات میں کرنے جا رہا ہوں یا جو میرے ذہن میں حکومت کی گزشتہ کیے گئے تجربے سے سمجھ میں آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ آیا حکومت ایک مرتبہ پھر اہوزیشن خصوصاً نواز لیگ کو بند گلی میں لے جانا چاہتی ہے؟ اور اب کی بار یہ ڈیل مریم نواز کی لندن جانے پر ختم ہو جائے گی؟ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کے دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مفادات میں واضح فرق اور تضاد ہے۔

دونوں اپنے اپنے مفادات اور مجبوریوں میں گلے گلے تک پھنسے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی استعفے دیں گے تو سندھ کارڈ یعنی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جو کہ ایسا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں اور مسلم لیگ نون اپنا مدعا پورا کر کے اپنا بیڑا پار بلکہ سمندر پار لگا سکتا ہے اور پھر دونوں کے ساجھے کی ہنڈیا کے بیچ چوراہے میں پھوٹ جانے کے امکانات روشن ہوجائیں گے اور جب آخر میں عوام یہ محسوس کریں کہ مسلم لیگ نون کی طرف سے منہ پر ہاتھ رکھ دیا گیا یا فیس ماسکس کو ان کے منہ پر کس لئے گئے ہیں اور نواز شریف کی حالت زیادہ خراب دکھا کر ان کی تیمارداری کے لئے مریم نواز بھی ایک ذمہ دار شخص کی ایفے ڈیوٹ کے سہارے انگلش چینل کو عبور کر گئی تو وہ دن یا لمحہ اس اتحاد کے غیر فطری ہونے کا اصل ثبوت ہو گا اور نواز لیگ کے حصے بخرے بننے کا آغاز ہوگا جس کے بارے میں دور اندیش اور حالت حاضرہ پر نظر رکھنے والے صاحبان عقل و دانش کہتے ہیں کہ اس فارمولے پر کام ہو رہا یے بس سچ ثابت کر نے اور اس پر عمل کروانے کی دیر ہے اور اس بات، فارمولے یا عمل کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ گزشتہ تجربے کا تسلسل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •