کیا عمران خان جنرل صاحب کا پیغام سمجھ گئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح مبلغ کے پاس دلیل نہ رہے تو وہ حجت یا طعنوں پر اور اکھاڑے میں ہارا ہؤا پہلوان گالیوں پر اتر آتا ہے ، اسی طرح عمران خان نیب کے ہاتھوں اپنا کرپشن بیانیہ پٹ جانے کے بعد اپوزیشن لیڈروں کے موجودہ مصائب کو ’توہین و ذلت‘ قرار دے کر بدعنوانی کے خلاف اپنا مردہ نعرہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے ملک کی سیاسی قیادت کے بارے میں اظہار خیال کے لئے پولیس افسروں سے خطاب کو استعمال کیا ہے۔ اس سے ان کی بے چینی، سیاسی دباؤ اور مایوسی کا پتہ چلتا ہے۔

آج بنی گالہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق ملاقات میں فوج کے پیشہ وارانہ معاملات کے علاوہ اندرونی و بیرونی سیکورٹی کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ ملک کے وزیر اعظم اور عسکری قیادت نے اس’ عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم ہر قیمت پر مکمل یکجہتی کے ساتھ مادر وطن کی حفاظت کرے گی‘۔ سرحدوں کی حفاظت اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران پاکستان کی طرف سے بار بار کیا گیا ہے۔ بظاہر اس اعلان کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے دورہ کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان کے پاس ٹھوس معلومات ہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک قسم کی جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے اور اب اپنے بیرونی رابطوں سے اس کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس انکشاف کے ساتھ عالمی لیڈروں کو متنبہ کیا کہ وہ خبردار رہیں کیوں کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان اس کا فوری اور سخت جواب دے گا۔ اسی بیان کو تین روز بعد وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹ پیغامات میں دہرایا۔

دو روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا مناسب جواب دیا جائے گا‘۔ لائن آف کنٹرول پر جارحیت کی صورت حال کے تناظر میں اسے ایک روٹین بیان سمجھا جاسکتا ہے لیکن وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا مؤقف زیادہ تہہ دار ہے۔ ایک تو وہ بھارتی حملے کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہیں ۔ دوسرے ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے داخلی طور سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان پریشانیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ پاکستان پر حملہ کرنے اور بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ تیسرے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے بیانات میں عالمی لیڈروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ بھارت کو اس قسم کی حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔

امن چاہنے والا کوئی بھی ترقی پذیر ملک مشکل معاشی حالات میں کسی قسم کی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن زمینی حقائق پاکستانی قیادت کی طرف سے بار بار بھارتی حملے کے امکان کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی لیڈر بھارتی حملے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے نریندر مودی کی مشکلات، مقبوضہ کشمیر کے حالات، کسانوں کے احتجاج اور کورونا سے پیدا ہونے والی معاشی صورت حال کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم اگر پاکستان اور بھارت کے داخلی سیاسی و اقتصادی حالات کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی مشکلات بھارت سے دو چند ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا وسیع تر اتحاد موجودہ حکومت کو مسترد کرتا ہے اور اس کے خلاف لانگ مارچ کی تیاری کررہا ہے۔ حتی کہ وہ بظاہر وزیر اعظم اور حکمران جماعت کے ساتھ بات چیت کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن لیڈر متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کا وقت نکل چکا ہے ۔ اب حکومت یا تو خود مستعفی ہوجائے یا پھر اپوزیشن بیک وقت اسمبلیوں سے استعفے دے کر موجودہ نظام کو جامد کردے گی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے اسمبلی اراکین کے استعفے جمع کرنے شروع کئے ہوئے ہیں ۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اس ماہ کے آخر تک سب اراکین کے استعفے جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ انہیں مناسب وقت پر اسپیکرز کے حوالے کرکے پارلیمانی اور سیاسی بحران پیدا کیا جاسکے۔

اس بارے میں مسلسل متضاد اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ اپوزیشن اس ہتھکنڈے میں کس حد تک کامیاب ہوگی۔ حکومت اور اس کی حمایت کرنے والا میڈیا اس سوال پر اپوزیشن میں اختلافات کے دعوے کرتا ہے۔ حکومت یہ بھی کہہ چکی ہے کہ اگر اپوزیشن ارکان نے استعفے دے بھی دیے تو بھی حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی کیوں کہ ان نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوجائیں گے۔ قباحت صرف یہ ہے کہ سینیٹ کا انتخاب ہو یا ضمنی انتخابات کی بات، یہ معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اختیار ہے جو ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے لیکن حکومت کے نمائندے ان معاملات پر اس اتھارٹی سے بات کرتے ہیں جیسے یہ فیصلہ کابینہ کے کسی اجلاس میں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا جب اسمبلیوں سے نصف کے قریب ارکان نے بیک وقت استعفیٰ دے دیا ہو۔ اس لئے یہ قیاس کرنا ناممکن ہے کہ حکومت یا الیکشن کمیشن اس صورت حال سے کیوں کر نمٹ پائیں گے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اگر اپوزیشن کے تمام ارکان اسمبلی بیک وقت استعفی دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں اسمبلیاں تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کروانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اسی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک موجودہ معاشی اور خارجہ صورت حال میں اس قسم کے وسیع سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس پر مستزاد حکومت کے یہ دعوے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس صورت حال میں نہ اپوزیشن کو استعفے دے کر غیر معمولی صورت حال پیدا کرنی چاہئے اور نہ ہی حکومت کو صرف بیان بازی کی نیت سے اس معاملہ پر اپوزیشن کو للکارنا چاہئے۔ بلکہ مفاہمت کا کوئی راستہ نکالنے کی تعمیری کوشش ہونی چاہئے۔

پاکستان جمہوری تحریک کے بارے میں حکومت کے ترجمان خواہ جیسی فقرے بازی بھی کریں لیکن احتجاج شروع ہونے کے بعد سے وزیر اعظم اور ان کے نمائیندوں نے مسلسل بات چیت کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وزیر اعظم ہوں یا وزیر داخلہ و وزیر اطلاعات، وہ پہلے اپوزیشن کو لتاڑتے ہیں، مخالف لیڈروں پر ذاتی حملے کرتے ہیں اور آخر میں یہ کہتے ہیں کہ حکومت بات چیت کے لئے تیار ہے لیکن ہماری یہ شرطیں ہیں۔ کوئی بات چیت پیشگی شرائط کے ساتھ شروع نہیں ہوتی۔ البتہ مفاہمانہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لئے مل کر ایجنڈا ضرور ترتیب دیا جاسکتا ہے تاکہ بات چیت میں آسانی رہے ۔ اس حوالے سے حکومت کا یہ مؤقف اب اپنی وقعت کھو چکا ہے کہ نیب آرڈی ننس پر بات نہیں کی جائے گی۔ موجودہ چئیر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب کو حکومت مخالف لیڈروں کے خلاف خوف کی علامت بنایا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس حد تک کھل چکا ہے کہ سپریم کورٹ بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ اب سینیٹ کے وائس چئیرمین نیب کے خلاف تحقیقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نیب کی اصلاح اب اپوزیشن کی بجائے حکومت کی ضرورت بن چکی ہے۔

عمران خان ملک میں کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے برسر اقتدار آئے تھے۔ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نتائج دینے میں ناکام رہی ہے کیوں کہ شروع کے ڈیڑھ دو سال تو انہیں امور حکومت سے ہی آگاہی نہیں تھی ۔ لیکن حققیت یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگر صرف احتساب کے معاملہ پرٹھوس اقدامات کرلیتی تو باقی شعبوں میں اس کی ناقص کارکردگی پر اتنے سوال نہ اٹھتے۔ تاہم اس کے لئے ضروری تھا کہ احتساب کو انتقام کا ذریعہ اور نیب کو اپوزیشن مخالف محاذ بنانے سے گریز کیا جاتا۔ شفافیت کی بات کرنے کے باوجود عمران خان کی حکومت احتساب جیسے معاملہ میں بھی شفافیت یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دیانت داری کے دعوے دار وزیر اعظم پر عام جلسوں میں کرپٹ پریکٹسز کے الزام لگ رہے ہیں اور ان کے متعدد ساتھیوں پر مالی فائدے کے لئے سرکاری اختیار استعمال کرنے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوں گے تو انہی الزامات کو ان کے خلاف کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بھارتی جارحیت کے مقابلے میں قومی یکجہتی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ نعرے کی حد تک تو درست ہے ورنہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر حکومت بھارتی جارحیت کے دعوے کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہیں کرتی تو اسے حقیقی معنوں میں قوم کو تقسیم کرنے کا طرز عمل ترک کرکے واقعی یک جہتی، اتحاد اور مل جل کر بیرونی حملے اور اندرونی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید سے ملاقات میں اتحاد کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے قومی عدم اعتماد، سیاسی بحران، اپوزیشن کی ناراضی اور احتجاج کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کا یہ دعویٰ بھی زیر بحث آیا ہوگا کہ ’رکھوالوں نے حکومت کی حفاظت سے انکار کردیا ہے‘۔

کوئی جنرل کسی سیاسی لیڈر سے یہ نہیں کہتا کہ وہ کیا کرے لیکن پاکستان کی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ اگر کوئی سیاسی لیڈر خاص طور سے ملک کا وزیر اعظم فوجی کمان کے ارادوں کو بھانپ نہیں سکتا تو یہ اس کی سیاسی مشکلات کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ عمران خان ضد ترک کرکے، انتقام بھول کر اور اپوزیشن کو ویسا ہی احترام دے کر اپنی مشکلات کم کرسکتے ہیں جو وہ خود اپنے لئے مانگتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کو نیب کے ذریعے عاجز کرکے اسے توہین بتانے کا والا لیڈر درحقیقت تاریخ اور سیاسی حرکیات سے نابلد ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ سیاسی جد و جہد میں لیڈروں نے ہمیشہ مشکلات برداشت کی ہیں۔ ان مصائب کو توہین کی بجائے امتحان کہا جاتا ہے۔ جو کسی بھی سیاسی لیڈر کے لئے اعزاز کی بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1870 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali