مسکرایا کیجئے، اچھا لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسکرایا کیجئے، اچھا لگتا ہے۔ غم ہلکا لگتا ہے۔ غم اور خوشی زندگی کا حصہ ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی آپ انہیں جدا نہیں کر سکتے۔ الگ نہیں کر سکتے مگر زندگی جینا تو ہے، تو پھر غموں پر کڑھنے اور رونے کی بجائے کیوں نہ خوشیوں کا ہاتھ تھام لیا جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ زندگی میں صرف غم ہی ہو، اندھیرا ہی ہو۔ روشنی بھی ہے۔ خوشی بھی ہے، بس ہمیں اس طرف بھی دیکھنا ہے۔ ہاتھ بڑھانا ہے۔ اسے تلاش کرنا ہے اور بانٹنا ہے۔ یہی تو زندگی ہے۔

ہمیں کوشش کرنا ہے کہ ہم تلخیوں اور محرومیوں کو پس پشت ڈال کر خوشیاں ڈھونڈنا اور بانٹنا سیکھ جائیں۔ تبھی ہم زندگی کی اصل حقیقت سے آشنا ہو پائیں گے اور اگے بڑھ پائیں گے۔ ہمیں بیساکھیاں ڈھونڈنے کی بجائے اپنے پیروں پر چلنا سیکھانا ہوگا۔ مگر اس سے پہلے ہمیں خود کو جاننا ہے۔ پہنچانا ہے۔ خود پر کام کرنا ہے۔ محنت کرنی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانا ہے اور انہیں نکھارنا ہے۔ خدا نے سب کو کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور دی ہے مگر ہمیں سیکھنا ہے کہ اسے بروئے کار کیسے لانا ہے۔

یہاں ایک چیز کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ سب ایک رات کا کھیل نہیں۔ آپ سوئے اور صبح اٹھے تو آپ کامیاب آدمی بن گئے۔ یہ زندگی ایک پروسس ہے جس کے مختلف سٹپز ہیں۔ جہاں آپ نے روز کچھ قدم چلنا ہے سیکھنا ہے اور مستقل مزاجی سے اپنی منزل کی جانب بڑھنا ہے۔ آپ ایک دم چھلانگ نہیں لا سکتے یہ ممکن نہیں ہے۔ جلد بازی سے حاصل کی گئی منزلیں عارضی ہوتی ہیں۔ ہمیں زندگی کے صحیح معنوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مگر ہمیں یہ سب رو کر، دکھی ہو کر نہیں، مسکرا کر خوشی سے سیکھانا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ سب آسان ہے یقیناً ہمیں اس سفر میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا۔ بہت سی تنقید بھی ہو گی مگر ہمیں اپنے مقصد میں پھر عظم رہنا ہے۔ یہ ایک امید بھی ہے ان کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کریں لوگ انہیں جج کریں گے تو انہیں سمجھنا ہے کہ لوگوں کا تو کام ہی یہی ہے مگر آپ کو اس وجہ سے ہمت نہیں ہارنی۔ بس نیت اچھی رکھیں اور لگے رہیں۔ دھیرے دھیرے اگے بڑھتے رہیں منزل ضرور ملے گی۔ کاش ہم مشکلات کا سامنا مسکراہٹوں سے کرنا سیکھ جائیں۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •