عبدالحمید چھاپرا: خبر کا ایک مورچہ جاتا رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کے عشرے میں احفاظ نے عبدالحمید چھاپرا سے میرا تعارف کروایا تھا۔ تب وہ برنس روڈ پر رہتا تھا اور تحریک استقلال کی نشست سے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا۔ گورا چٹا اور غیر معمولی حد تک سیاہ اور گھنگریالے بالوں والا چھاپرا صحافت اور سیاست دونوں میدانوں میں سر گرم عمل تھا۔ ڈیلی نیوز میں اس کی چٹپٹی خبریں چھپا کرتی تھیں۔ برنا گروپ سے وابستہ تھا۔ وہ کیا تھا، اسی کے لفظوں میں سنتے ہیں۔ احفاظ کی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ میں اس کا ایک خط شامل ہے جو ’الفتح‘ میں 26 مئی، 2 جون 1978 میں شائع ہوا تھا۔

یہ خط اس نے جسارت کے مدیر جناب صلاح الدین صاحب کو لکھا تھا۔ اس میں وہ اپنے بارے میں بتاتا ہے ”ایک طالب علم کارکن کی حیثیت سے میں نے ایوب خان کے دور آمریت میں بلوچستان کے عوام پر بمباری، جبل پور میں مسلمانوں کے قتل عام اور کانگو کے عظیم قوم پرست شہید لوممبا کے قتل کے خلاف تحریکوں میں حصہ لیا۔ حتیٰ کہ میرا چھوٹا بھائی، عبدالرزاق چھاپرا ایوب خان کی آمریت کا نشانہ بنا اور جیل میں گیا۔ ہمارا پریس ’ہمالیہ پرنٹنگ پریس‘ بھی ایوب آمریت کا شکار ہوا۔ پھر بھی ہم نے مادر ملت کی حمایت اور ایوب کی آمریت کی مخالفت سے منہ نہ موڑا۔ ’

’مجھے پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل کا منصب ہاتھ نہیں لگا۔ میں باقاعدہ اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے پی ایف یو جے کا سینئر اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل منتخب ہوا تھا۔ اگرچہ مجھ سمیت پی ایف یو جے کی ساری قیادت کو شکست دینے کے لئے بھٹو حکومت کے وزیر مولانا کوثر نیازی نے ہر طرح اور ہر سطح پر کوشش کی۔ اس سے پہلے بھی پچھلے دس سال کی صحافیانہ زندگی میں، میں انجمن صحافیان کراچی (کے یو جے) اور پی ایف یو جے میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوتا رہا ہوں۔‘ ”منافقت میری زندگی میں کبھی اور کہیں بھی داخل نہیں ہوئی۔ میں پیپلز پارٹی اور اس سے پہلے یحییٰ اور ایوب آمریت کا بھی کھلم کھلا مخالف رہا ہوں اور سارا کراچی میری طالب علمانہ زندگی سے لے کر آج تک میری سرگرمیوں سے واقف رہا ہے۔“

ستر کے عشرے میں انجمن صحافیان کراچی (کے یو جے ) اور پی ایف یو جے انتہائی مضبوط تنظیمیں ہوا کرتی تھیں اور تب تک کراچی پریس کلب کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن جب ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ان تنظیموں میں گروپ بندی کروا دی تو یہ تنظیمیں کمزور ہوتی چلی گئیں لیکن پھر 1980 سے 1985 تک چھاپرا پانچ سال تک پریس کلب کا صدر منتخب ہوتا رہا اور اس نے اور مجاہد بریلوی نے ایسی شان دار ادبی اور سیاسی تقاریب منعقد کرنا شروع کیں کہ کراچی پریس کلب جمہوریت کے متوالوں کا گڑھ بن گیا اور آمریت کی عائد کردہ پابندیوں کے باوجود اسے ہائیڈ پارک کا درجہ مل گیا۔ سی آئی ڈی والے پریس کلب کے باہر دیواروں سے کان لگا کر یا لٹک کر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہتے تھے اور اندر مقررین ضیا الحق کی آمریت کے خلاف نعرے لگاتے رہتے تھے۔ 77۔ 78 کی تحریک کے دوران تو پریس کلب صحافیوں کا دوسرا گھر بن گیا تھا۔ پریس کلب میں بھوک ہڑتالیں بھی ہوئیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

آخری دنوں میں وہ بیماری کے باعث صاحب فراش ہو گئے تھے اور پریس کلب آنا چھوڑ دیا تھا۔ 22 دسمبر کو وہ اکاسی سال (81) کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ برنا صاحب اور احفاظ نے اوپر ان کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ہو گا۔

عبدالحمید چھاپرا کا تعلق کراچی کے ایک کاروباری میمن گھرانے سے تھا۔ کراچی والے جانتے ہیں کہ میمن برادری جتنی دولتمند ہے اتنی ہی کفایت شعار بھی ہے۔ 2001 میں میرا یہ معمول تھا کہ میں دفتر سے چھٹی کے بعد پریس کلب سے احفاظ کو لیتی ہوئی گھر جاتی تھی۔ اک روز پریس کلب پہنچی تو یاد آیا کہ آج تو ہماری شادی کی سالگرہ ہے۔ کیا کروں؟ سامنے چھاپرا نظر آئے تو میں نے ان سے مشورہ کیا ’سب لوگوں کے لئے کیک یا مٹھائی منگوا لوں؟‘ چھاپرا نے ایک نظر سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں پر ڈالی اور مجھے الگ لے جا کر کہنے لگے ’‘ کوئی ضرورت نہیں ہے، گھر جاؤ۔ راستے میں ایک چھوٹا سا کیک خرید لینا اور گھر جا کے کاٹ لینا ”اور میں نے بڑی فرمانبرداری سے ان کے مشورے پر عمل کیا۔

جنگ گروپ میں کام کرنے کے علاوہ چھاپرا ”بیو پار“ کے نام سے کافی عرصہ تک اپنا اخبار بھی نکالتے رہے۔ تین کتابیں بھی لکھیں۔ ہم اور وہ صحافی کالونی میں رہتے تھے۔ 1996 میں ستمبر میں انہوں نے احفاظ سے اپنی ایک کتاب کی ایڈیٹنگ کرنے کے لئے کہا۔ روز صبح وہ ٹہلتے ہوئے گھر سے آتے، کانوں سے ٹرانسسٹر لگا ہوتا، خبریں سنتے ہوئے آتے، ہمارے گھر کی گھنٹی بجاتے اور کتاب کا ایک باب ہمارے حوالے کر کے چلے جاتے۔ مجھے یاد ہے ایک روز حسب معمول گھنٹی بجی تو احفاظ گیٹ پر گئے، واپس آئے تو رنگ پیلا پڑا ہوا تھا، چہرہ عجیب سا ہو رہا تھا ”کیا ہوا؟“ میں نے گھبرا کے پوچھا۔ ”مرتضیٰ بھٹو کو اس کے گھر کے سامنے سڑک پر قتل کر دیا گیا“ ۔ مجھے اپنے ہاتھوں پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ Sitting Prime Minister کا بھائی اور یوں سڑک پر قتل ہو جائے۔ یقین نہیں آ رہا تھا لیکن خبر چھاپرا لے کر آئے تھے، غلط تو نہیں ہو سکتی تھی۔

چھاپرا نے بیرونی دورے بھی بہت کیے ، ایک زمانے میں جاپان کے بہت چکر لگاتے تھے۔ ہماری شادی کے ابتدائی برسوں میں کسی مغربی ملک کے دورے پر جانے سے پہلے ہم سے ملاقات ہو گئی تو پوچھنے لگے ”کچھ منگوانا ہو تو بتا دو“ اور ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہم کیا بتائیں۔ وہ بلند بانگ لہجے میں بات کرتے تھے۔ سینئیر صحافی سرفراز صاحب کے بقول ان کے پاس ہمیشہ سنانے کے لئے کوئی کہانی ہوتی تھی۔ ”پانچ عشروں پر محیط ان کا صحافیانہ کیرئیر کامیابیوں اور کارناموں سے بھرا ہوا ہے۔

دوسری طرف انہوں نے تکلیفیں بھی بہت اٹھائیں، کئی مرتبہ جیل گئے۔ صحافیوں اور پریس کے کارکنوں کے لئے بے پناہ خدمات انجام دیں“ ۔ دو مرتبہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (اور شاید ایپنک کے بھی) صدر رہے۔ ایک تو صحافیوں کا صحت دشمن لائف اسٹائل، اوپر سے قید و بند کی صعوبتیں اور پھر نوے کی دہائی میں انہوں نے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لئے اپنا ایک گردہ بھی عطیہ کر دیا تھا، آہستہ آہستہ آزادیٔ صحافت کے اس مجاہد کی صحت جواب دیتی چلی گئی اور 2020 جاتے جاتے انہیں بھی ساتھ لے گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •